نیتن یاہو نے امریکہ میں اسرائیل کا وقار ’بے مثال پستی‘ تک پہنچا دیا: ہاریٹز

Inquilab 20260926 182231 0000 d


تل ابیب: معروف اسرائیلی اخبار "ہاریٹز” نے اپنے ایک اداریے میں کہا ہے کہ وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو نے امریکہ میں اسرائیل کے مقام و مرتبے کو غیر معمولی پستی پر پہنچا دیا ہے، اور اسرائیل کے سب سے اہم اتحادی کے ساتھ تعلقات میں سنگین بحران کی جانب خبردار کیا ہے۔
اخبار کے مطابق اسرائیل کے طرزِ عمل اور بالخصوص امریکہ کے ساتھ اس کے تعلقات پر نظر رکھنے والے کئی برسوں سے اس بحران سے خبردار کر رہے تھے، اور نیتن یاہو حکومت کی پالیسیوں کے باعث تعلقات کا نچلی ترین سطح پر پہنچنا متوقع تھا۔ اداریے میں کہا گیا کہ نیتن یاہو نے ان تمام انتباہات کو نظر انداز کیا جو اس تعلق کو نقصان پہنچا رہے تھے۔
ہاریٹز نے امریکہ میں اسرائیل کے وقار میں تیزی سے آنے والی کمی کی بڑی وجہ صدر ٹرمپ اور ریپبلکن پارٹی کے حق میں نیتن یاہو کی امریکی سیاست میں کھلی مداخلت کو قرار دیا۔ اخبار کے مطابق ڈیموکریٹس کے ہاں اسرائیل کا تاثر پہلے ہی بری طرح متاثر ہو چکا تھا، لیکن اب یہ نقصان کسی ایک جماعت تک محدود نہیں رہا۔ اخبار نے لکھا کہ نیتن یاہو، اتمار بن گویر اور بیزالیل سموٹریچ کی حکومت نے گزشتہ دو برسوں میں ریپبلکن پارٹی کے اندر بھی اسرائیل کا وقار نئی پستی تک پہنچا دیا ہے۔
رپورٹ میں ایران کے ساتھ جنگ اور اس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے، انتہا پسند آباد کاروں کے ہاتھوں فلسطینیوں پر تشدد، اور غزہ، مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں عیسائی برادریوں کو پہنچنے والے نقصان کو ان عوامل میں شمار کیا گیا جن کی وجہ سے اسرائیل کے کٹر حامیوں کی جانب سے بھی غیر معمولی تنقید سامنے آئی۔
اداریے میں ایک حالیہ امریکی سروے کا حوالہ بھی دیا گیا جس کے مطابق امریکیوں، خاص طور پر نوجوان نسل میں، اسرائیل کے حق میں مثبت جذبات میں تیز اور غیر معمولی کمی دیکھی گئی۔ اخبار نے کہا کہ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں نیتن یاہو کی کوئی بھی تقریر اس حقیقت پر پردہ نہیں ڈال سکتی، اور ہر اسرائیلی کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ امریکی عوام کی نظر میں اسرائیل کا تاثر کس حد تک بگڑ چکا ہے۔

متعلقہ پوسٹ