پل – ایکسپریس اردو

untitled design 21766353473 0


انسانوں کا حکمران بلکہ بالائی طبقہ سے کیسا تعلق ہونا چاہیے؟انسانی حقوق کیا ہیں ؟ ان کو کیسے محفوظ رکھاجائے گا؟ اسی طرز کے اہم سوالات سیکڑوں برس سے مسلسل اٹھائے جا رہے ہیں۔ ایتھنز کی فکر ‘ وہ زمین فراہم کرتی ہے‘جہاں آج کی جمہوریت کا پھلدار درخت اگ کر سامنے آتا ہے۔ سوچنے والا طبقہ ہر معاشرہ میں‘ ازل سے موجود ہے۔

شہری ریاستوں (City states) میں جمہوریت کا اصول تقریباً دو سو سال تک عمل پیرا رہا۔ قبل مسیح کے دورانیہ کا ذکرکر رہا ہوں۔ روم میں بھی کسی حد تک لوگوں کے حقوق اور ریاست کے مابین تعلق کو اس وقت کی ’’سینیٹ‘‘ کے ذریعہ حل کیا گیا تھا۔ موجود صورت کی جمہوری اقدار میں بہر حال یورپ کا طرز حکومت سولہویں صدی سے نظر آتا ہے۔ یہ عرض کرنا مناسب ہے کہ ’’فرانسیسی انقلاب ‘‘ اور برطانوی سوچ آج کے دور کی عملی شکل بنی۔ یہاں ایک مشکل موجود ہے۔ کسی بھی مذہب نے اس حد درجہ سنجیدہ بحث کو نمایاں کرنے میں کوئی مدد نہیں کی۔ فکر کی بابت عرض کر رہا ہوں ۔

مذہبی اقتدار سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ برصغیر کی صورت حال آج سے تقریباً آٹھ دہائیاں قبل وہی تھی۔ جو یورپ میں تقریباً ڈھائی تین سو برس پہلے موجود تھی۔ راجے‘ مہاراجے‘ نواب اور بادشاہت بھرپور طور پر عام آدمی کے استحصال پر قائم تھے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی وہ عنصر ہے جس کی حکومت نے ہندوستان کو متعدد اچھے اور برے طریقوں سے سراب کیا۔ فرنگی نہ آتے‘ تو آج بھی ہم لوگ ‘ غلاموں ‘ کنیزوں، درباریوں اور بادشاہ پر مشتمل ایسا معاشرہ ہوتے ‘ جس میں ترقی پسند سوچ کی بیخ کنی کی گئی تھی ۔ بہر حال‘انگلستان کے قبضہ نے خطہ میں تعلیم‘ صحت‘ ذرائع ابلاغ‘ سڑکوں ‘ نہروں اور صنعت کی نیو رکھی۔ مثبت کام کرنے میں‘ دراصل تاج برطانیہ کا فائدہ چھپا ہوا تھا۔ بہرحال‘ اس دور کے مثبت کارناموں سے صرف نظر کرنا ناممکن ہے۔

طالب علم کی نظر میں ‘ برطانوی دور کی ایک کامیاب پالیسی یہ تھی کہ یورپ کی قدیم یونیورسٹیوں کے دروازے‘ برصغیر کے باسیوں کے لیے کھول دیے۔جس معاشرتی‘ سماجی اور سیاسی تغیر سے ہمارا معاشرہ گزرا ہے بلکہ یہ عرض کرنا زیادہ مناسب ہے کہ گزر رہا ہے، اس میں برطانوی یونیورسٹیوں کے فارغ التحصیل افراد کا کلیدی کردار ہے۔ محمد علی جناح‘ گاندھی ‘ نہرو‘ چوہدری رحمت علی اور دیگرمضبوط سیاسی سوچ کے حامل افراد‘ برطانوی جمہوریت اور اس کی فکری جدوجہد سے مکمل طور پر آگاہ تھے۔ یہ ہندوستان میں بھی اسی طرح کی عوام دوست حکومت چاہتے تھے ۔

اس کام میں کتنے کامیاب ہوئے، اس پر پہلو دار بحث موجود ہے۔ ویسے بھی معاشرہ کبھی جمود کا شکار نہیں ہوتا۔ یہ ہر پل تغیر میں رہتا ہے۔ تقسیم ہند کی فکری بنیاد ’’نیشن اسٹیٹ‘‘ (Nation state) کے جدید خیال پر قائم ہوئی تھی۔ قیام پاکستان کے بعد ہمیں قطعاً اندازہ نہیں تھا کہ نئی ریاست کو عملی طور پر کیسے چلانا ہے؟ یہ مسئلہ آج بھی پوری سنجیدگی کے ساتھ ایک دیوار کی طرح کھڑاہے۔ ہمارے قائدین کے پاس‘ انتظامی امور کی کسی قسم کی تربیت موجود نہیں تھی۔ مسئلہ یہ بھی تھا اور ہے‘ کہ جدید ریاست کے بنیادی خدوخال کے متعلق ان کا شعور کافی دھندلا سا تھا۔

ہمارے ملک میں ایک المیہ یہ بھی برپا ہوا کہ جاگیر دار اور سرمایہ دار طبقے نے اپنی گرفت قائم رکھنے کے لیے جمہوریت کا لبادہ اوڑھ لیا۔طرز عمل وہی تھا جو برٹش راج سے پہلے کا تھا۔ عوامی مفاد کا نعرہ ضرور لگایا گیا۔ مگر ریاست میں جدید سوچ کی بیخ کنی کی گئی۔ یہ طبقاتی جنگ ہے جو آج بھی صرف اور صرف ‘ لباس بدل کر سامنے نئے رنگ میں موجود ہے۔ عزائم بالکل پرانے ہیں۔ تقسیم ہند کے بعد ‘ کم از کم پاکستان میں یہ ہوا کہ تاجراور صنعتی خانوادے ‘ کاروباری ہندوؤں کے چھوڑے ہوئے خلا کو پر کرنے لگے ۔ ہمارے پاس انسانی حقوق یا جمہوریت کا کوئی جدید ماڈل نہیں تھا۔ لوٹ مار اور قتل عام کا بازار گرم ہو گیا۔ قدامت پسند طبقے نے بڑی کامیابی سے ہمارے ملک پر قبضہ کر لیا۔

ان کا جمہوریت سے کسی قسم کا کوئی واسطہ نہیں تھا۔ مجبوری کے عالم میں جب‘ عوام کو حق رائے دہی دینے کی بات ہوئی تو کوئی بھی قانونی اور سیاسی فریم ورک تک موجود نہیں تھا۔ جس پر عمل کیا جا سکے۔ پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ جدید سوچ کو ہمارے ہاں ‘ عملی طور پر برباد کیا گیا۔ جب تاجر طبقہ‘ سرمایہ کی بنیاد پر ریاست پر قابض ہو گیا۔ تووہ زہر قاتل نظام وجود میں آیا جو ہمارے ملک میں آج بھی قائم ہے۔ دراصل ہمارے بالائی طبقات اور جمہوری اقدار آپس میں میل نہیں کھاتے بلکہ یہ ایک دوسرے کی ضد ہیں ۔اس طبقاتی جنگ میں کامیاب ہونے کے لیے‘ مذہب کو صرف نعرہ کی حد تک استعمال کیاگیا۔ مذہب کو‘ جدت پسند سوچ دبانے کے لیے ظالمانہ طور پر غلط استعمال کرنا حکمران طبقے کا وطیرہ بن گیا۔ ہمارے ملک میں جمہوری اقدار سے ہمیشہ ڈرایا گیا۔

بالائی طبقہ کے پاس ریاست اور اس کے وسائل پرقبضہ کا کوئی اخلاقی جواب نہیں تھا۔ لہٰذا جمہور جس کی بدولت فرانس‘ برطانیہ اور امریکا نے حد درجہ ترقی کی، اسے اپنے مفاد کے تابع کر دیا گیا۔ یوں کہنا چاہیے۔ گذشتہ سات دہائیوں سے یہ سلسلہ پیہم جاری ہے۔ اس میں اصل نقطہ ‘ عوام کو شریک اقتدار بنانے کے اصول کی نفی کرنا ہے۔ مارشل لاء‘ بھی اشرافیہ کی اپنی ایجاد کردہ جمہوریت کی بالا دستی کو قائم رکھتا ہے۔ یاد رکھیے کہ تقسیم ہند کے بعد آج تک جمہوریت کا وہ درخت‘ جس سے مغرب بالا دست اور مہذب ہوا۔ ہمارے معاشرے میں اسے زہر آلود ثابت کر دیا گیا۔اصل اقتدار‘ کبھی عوام یا عوامی نمائندوں کو منتقل نہیں ہوا۔ آج بھی سب کچھ اسی طبقاتی نظام کو استحکام دینے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ جو جمہوری اقتدار سے بالکل متضاد ہیں۔

کتابی جائزہ لیں تو ہمارے ملک میں تمام جمہوری ادارے موجود ہیں۔ جیسے آئین، وفاقی اور صوبائی پارلیمنٹ‘ نظام انصاف ‘ انتظامیہ ، صدر، گورنرز، وزیراعظم ، وزرائے اعلیٰ،کابینہ‘ سیاسی جماعتیں، الیکشن کمیشن وغیرہ، سب پھل پھول رہے ہیں۔ اگر کوئی مغربی وفد‘ ملک میں جمہوری اداروں اور طرز عمل کو پرکھنے کے لیے آئے تو ہمارے درباری ماہرین‘ انھیں پورا مطمئن کر سکتے ہیں کہ ملک میں سب کچھ جدید طریقہ سے جاری و ساری ہے۔ یہ کسی حد تک درست بات بھی ہے۔ کاغذ پر تو سب اچھا ہے۔ لہٰذا اس مفروضہ سے مغرب کو قائل کرنے کی بھرپور کوشش کی جاتی ہے جو ناکام ہونے کے باوجود کامیاب ہے۔ کیا اب آپ کو یہ بات سمجھ آتی ہے کہ کسی بھی بین الاقوامی فورم پر صرف منتخب لوگ کیوں بھیجے جاتے ہیں؟ صرف اس لیے کہ مغرب کو اس ابہام میں رکھا جائے کہ ہم ایک ترقی یافتہ جمہوری ملک ہیں؟ یہ equation اس وقت دباؤ میں آئی، جب ذرائع ابلاغ نے ترقی کی۔ساتھ ہی ساتھ کروڑوں پاکستانی مغرب میں جا پہنچے۔ انھیں معلوم ہوا کہ ریاست اور شہری کا اصل تعلق کیا ہوتا ہے۔

وہ کون سا عمرانی معاہدہ ہے جو حکومت کو عوام کی بھلائی پر مجبور کرتا ہے۔ ضروری نہیں کہ یہ معاہدہ لکھا ہوا بھی ہو ۔ جیسے برطانیہ میں کوئی آئین‘ کتاب کی شکل میں موجود نہیں ہے۔ مگر‘ پورا نظام‘ عوام کے حقوق کے لیے کھڑا ہوا ہے۔ ہمارے ہاں آئین کی حد تک تمام اچھی اچھی باتیں درج کی جا چکی ہیں لیکن عملی طور پر ان کا کوئی وجود نہیں ہے۔ آئین میں ریاست ہر شہری کی حفاظت کی ذمے دار ہے لیکن عملاًمعاملہ الٹا ہے۔ ہمارا‘ حکومتی کلچر‘ دراصل Extractive طرز کا ہے۔ ہر حکومت‘ صرف رعایا سے ٹیکس لینے کے لیے جدوجہد کرتی نظر آتی ہے۔ کسی کو یہ اجازت نہیں ہے کہ حکمرانوں سے پوچھ سکے کہ آپ اس سرمایہ کو کس طرح استعمال کر رہے ہیں؟ ممکن نہیں ہے۔ قرون وسطیٰ کی حکومتوں کی طرح‘ سوال کرنے والا‘ غدار کہلاتا ہے۔ جہاں جہاں مسلمان حکومتیں ہیں‘ وہاں جمہوریت موجود نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا مہیب مسئلہ ہے ، جس کو حل کرنا‘ موجودہ حالات میں ناممکن نظر آتا ہے۔

سیاسی نظر آنے والی جنگ صرف اور صرف اقتصادی ہے۔ ایک طبقہ کسی صورت میں مراعات اور ظلم کی حد تک سہولتیںچھوڑنے کے لیے تیار نہیں۔ اس کا رہن سہن شاہانہ ہے، سوچ اور طرز عمل بھی عام لوگوں کی طرح نہیں ہے۔ سچ بات یہ ہے کہ سارا نظام عام لوگوں کی شریانوں سے خون نچوڑنے کو بھی قطعاً برا نہیں سمجھتا۔ یہ اجازت بھی نہیں دیتا کہ ہم دوست اور دشمن منتخب کر سکیں۔

ہندوستان سے ہماری کس بنیاد پر مسلسل لڑائی ہے، اس کا کوئی جواز نہیں دیا جاتا؟ بلکہ اگر آپ کشمیر کے مسئلہ پر ڈائیلاگ کی بات کریں تو فوراً ہندوستانی ایجنٹ کہا جا سکتا ہے؟ ایران اور سعودی عرب کے متعلق پالیسی کیا ہے، کسی کو معلوم نہیں؟ چین سے یکطرفہ تجارت نے ہماری مقامی صنعت و حرفت کو بتدریج نقصان پہنچایا مگر ہماری دوستی ہمالیہ سے بھی اونچی ہے؟ صرف اس لیے کہ جعلی ترقی کا ڈھول پیٹنے کے لیے ایسا کرنا مجبوری ہے؟ یہ طبقاتی جنگ اب حد درجہ خطرناک موڑ پر کھڑی ہے۔ کاغذ پر جمہوریت کا مکمل ہونا‘ نئی فکر سے متضاد ہے۔ بالائی طبقہ ہر قیمت پر اپنا کنٹرول قائم رکھنا چاہتا ہے۔ یہ اب کشمکش نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا پل ہے جو عبور بھی ہو سکتا ہے یا دوسری صورت میں ٹوٹ بھی سکتا ہے۔ آنے والا وقت کسی طرح کے حقائق سامنے لاتا ہے۔ اس پر قطعی طور پر کچھ بھی کہنا ممکن نہیں؟





Source link

متعلقہ پوسٹ