انڈیا: کشمیر اسمبلی میں ریاستی حیثیت کی بحالی کی حمایت

398748 408152843


انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کی علاقائی اسمبلی نے پیر کو ریاستی حیثیت کی بحالی کی حمایت میں ایک غیر پابند قرارداد منظور کی، جسے وزیراعظم نریندر مودی کی جماعت کے ارکان نے ’ملک دشمن‘ قرار دے کر مسترد کردیا۔

یہ تقریباً ایک کروڑ 30 لاکھ آبادی والے ہمالیائی خطے میں حکمرانی سے متعلق طویل عرصے سے جاری متنازع بحث میں تازہ پیش رفت ہے۔

یہ تنازع 2019 سے جاری ہے، جب مودی کی ہندو قوم پرست حکومت نے کشمیر کی محدود خودمختاری ختم کردی تھی۔

قرارداد پیش کرنے والے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ ریاستی حیثیت کشمیر کا ’حق‘ ہے۔

مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ارکان نے ووٹنگ سے قبل ایوان سے واک آؤٹ کیا، جبکہ ان میں سے کئی نے قرارداد کو ’غیر آئینی‘ اور ’ملک دشمن‘ قرار دیا۔

قرارداد میں نئی دہلی کی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے، جس نے ریاستی حیثیت کو ’مناسب وقت‘ پر بحال کرنے کا بارہا وعدہ کیا ہے، کہ جموں و کشمیر کی مکمل ریاستی حیثیت فوری اور ہنگامی بنیادوں پر بحال کی جائے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

قرارداد میں 2000 اور 2024 میں منظور کی گئی ان قراردادوں کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جن میں ریاستی خودمختاری کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

تاہم یہ تینوں قراردادیں آئینی طور پر پابند نہیں ہیں۔

2024  میں کشمیر میں پہلی مرتبہ حکومت کا انتخاب ہوا تھا، جب اسے نئی دہلی کے براہِ راست انتظام میں دیے جانے کے بعد انتخابات کرائے گئے۔ یہ حکومت عمر عبداللہ کی نیشنل کانفرنس پارٹی کی قیادت میں قائم ہوئی۔

تاہم مقامی حکومت کے اختیارات محدود ہیں۔ خطہ عملی طور پر اب بھی نئی دہلی کی جانب سے مقرر کردہ منتظم کے زیرِ انتظام ہے۔

مسلم اکثریتی کشمیر 1947 میں برطانوی راج سے آزادی کے بعد سے انڈیا اور پاکستان کے درمیان تقسیم ہے۔

دونوں ممالک پورے کشمیر پر دعویٰ کرتے ہیں اور اس معاملے پر دونوں جوہری ہتھیار رکھنے والے پڑوسیوں کے درمیان کئی تنازعات اور جنگیں ہوچکی ہیں، جن میں سب سے حالیہ گذشتہ سال مئی میں ہوئی۔





Source link

متعلقہ پوسٹ