ماسکو: روسی صدر ولادیمیر پوتن نے واضح کیا ہے کہ روس اپنے قابل اعتبار شراکت دار ممالک کو تیل اور گیس کی فراہمی بلاتعطل جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس فہرست میں یورپی اور ایشیائی دونوں ممالک شامل ہیں۔ پوتن کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب ہنگری نے روسی تیل اور گیس کی سپلائی پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا کھل کر مطالبہ کیا تھا۔
ہنگری یورپی یونین کا واحد رکن ملک ہے جس نے روسی توانائی پر پابندیوں کے خلاف مسلسل آواز اٹھائی ہے۔ بوڈاپیسٹ کا موقف ہے کہ یہ پابندیاں یورپ کو روس سے زیادہ نقصان پہنچا رہی ہیں اور ہنگری کی معیشت کو ناقابل برداشت بوجھ اٹھانا پڑ رہا ہے۔ وزیر اعظم وکٹر اوربان نے بارہا یورپی یونین کی توانائی پالیسی پر تنقید کی ہے اور روس کے ساتھ عملی تعلقات بحال کرنے کی وکالت کی ہے۔
پوتن کے اس بیان کو ایک طرف ہنگری جیسے یورپی ممالک کو واضح پیغام سمجھا جا رہا ہے کہ روسی توانائی دستیاب ہے، اور دوسری طرف ایشیائی ممالک بالخصوص چین، بھارت اور ترکیہ کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ ان کی ضروریات پوری کی جاتی رہیں گی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پوتن "قابل اعتبار شراکت دار” کی اصطلاح استعمال کر کے درحقیقت مغربی پابندیوں کا جواب دے رہے ہیں اور یہ پیغام دے رہے ہیں کہ روس توانائی کے شعبے میں مکمل طور پر تنہا نہیں ہے۔

