غزہ کی نئی سیٹیلائٹ تصاویر میں پورے رہائشی بلاکس ملبے میں تبدیل


غزہ، گوگل میپس پر پیر کو اپ ڈیٹ کی گئی نئی سیٹیلائٹ تصاویر میں غزہ کے کئی گنجان آباد رہائشی علاقے ملبے کے ڈھیر میں بدلے نظر آتے ہیں۔ جہاں پہلے گھنی آبادی والے محلے تھے، وہاں اب کھلے اور ویران میدان دکھائی دیتے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے سیٹیلائٹ سینٹر کے مطابق ۱۶؍ جون ۲۰۲۶ء تک غزہ کی تقریباً ۸۲؍ فیصد عمارتیں، یعنی ۲؍ لاکھ ایک ہزار ۲۹۰، متاثر ہو چکی تھیں۔ ان میں ایک لاکھ ۳۴؍ ہزار ۴۲۲ مکمل طور پر تباہ، ۱۳؍ ہزار ۸۴۸ شدید متاثر اور ۲۸؍ ہزار ۹۶ درمیانے درجے کی متاثر ہیں، جبکہ ۲۴؍ ہزار ۹۲۴ کو نقصان کا امکان ہے۔ تقریباً ۳؍ لاکھ ۲۸؍ ہزار ۶۲۷ رہائشی یونٹس بھی متاثر ہوئے۔ رہائش کے حق سے متعلق اقوامِ متحدہ کے خصوصی رپورٹر کی فروری کی رپورٹ کے مطابق تقریباً دو سال میں غزہ پر ۲؍ لاکھ ٹن سے زائد بارود گرایا گیا۔
۱۰؍ اکتوبر ۲۰۲۵ء سے نافذ امریکی قیادت والی جنگ بندی کے باوجود خطرات برقرار ہیں۔ رپورٹس کے مطابق اس کے بعد اسرائیلی حملوں سے کمزور ہونے والی درجنوں عمارتیں شہریوں پر گر چکی ہیں، اور ہزاروں دیگر عمارتوں میں دراڑیں ہیں جو بارش اور تیز ہواؤں میں گر سکتی ہیں۔ عارضی گھروں اور کیریوان کی آمد پر پابندیوں کے سبب فلسطینیوں کو بے گھری اور پناہ گاہوں کی شدید قلت کا سامنا ہے۔
۸؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء سے اب تک ۷۴؍ ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک اور ایک لاکھ ۷۵؍ ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ علاقے کا تقریباً ۹۰؍ فیصد بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے۔

متعلقہ پوسٹ