نیتن یاہو کا ابوظہبی کا غیر اعلانیہ دورہ، محمد بن زاید سے ملاقات کی اطلاع

netanyahu mohammed bin zayad d


ابوظہبی: اسرائیلی میڈیا کے مطابق وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے اتوار کو متحدہ عرب امارات کا ایک روزہ خفیہ دورہ کیا اور صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے ملاقات کی۔ چینل ۱۲، چینل کان، اخبار ہارٹز اور یروشلم پوسٹ نے یہ خبر دی ہے۔ چینل ۱۲ کے مطابق نیتن یاہو صبح نجی طیارے سے پہنچے اور شام کو واپس لوٹ آئے۔ اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر اور اماراتی وزارت خارجہ نے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، اور ملاقات کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
یہ دورہ نیتن یاہو کی نیویارک سے واپسی کے دو دن بعد ہوا، جہاں انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کی تھی۔ یہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب اسرائیل میں انتخابات قریب ہیں اور ہارٹز کی ایک حالیہ رپورٹ پر سیاسی بحث جاری ہے۔ اخبار نے ستمبر کے اوائل میں لکھا تھا کہ ۷؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء سے تقریباً ڈیڑھ ہفتہ قبل محمد بن زاید نے نیتن یاہو سے تقریباً ۴۵ منٹ کی فون کال میں خبردار کیا تھا کہ حماس بڑے حملے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ انتباہ انٹیلی جنس اداروں یا فوج تک نہیں پہنچایا گیا۔
نیتن یاہو کے دفتر نے اس رپورٹ کو "سفاکانہ جھوٹ” قرار دے کر مسترد کیا، کہا کہ نہ کوئی بات ہوئی نہ کوئی انتباہ ملا، اور اخبار کے خلاف قانونی کارروائی کی دھمکی دی۔ اماراتی اخبار دی نیشنل نے ایک نامعلوم سرکاری ذریعے کے حوالے سے لکھا کہ امارات سیکیورٹی امور پر متعلقہ فریقوں کے ذریعے بات کرتا ہے، قائدین کی سطح پر نہیں۔ ابوظہبی نے رپورٹ پر تبصرے سے گریز کیا، تاہم کہا کہ ۲۰۲۰ء میں تعلقات کے قیام کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان "کھلے اور براہ راست رابطے” برقرار ہیں۔ اپوزیشن رہنما ۷؍ اکتوبر سے قبل کی سیکیورٹی ناکامیوں پر وزیر اعظم کو ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں اور اسے انتخابی موضوع بنانے کی تیاری میں ہیں۔
یہ نیتن یاہو کا پہلا خفیہ دورہ نہیں۔ مئی میں ان کے دفتر نے ایک خفیہ دورے اور صدر سے ملاقات کا اعلان کیا تھا، جسے "تاریخی پیش رفت” کہا گیا۔ ایک ذریعے کے مطابق وہ ملاقات ۲۶؍ مارچ کو العین میں ہوئی تھی۔ چینل ۱۲ کی سابقہ رپورٹ کے مطابق اس دورے کے انکشاف سے ابوظہبی ناخوش ہوا تھا۔ ایران کے ساتھ جنگ میں حملوں کی زد میں آنے کے بعد سے امارات نے امریکہ اور اسرائیل سے تعلقات مضبوط کیے ہیں۔

متعلقہ پوسٹ