نیویارک: قطر کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری بالواسطہ مذاکرات میں معمولی پیش رفت ہوئی ہے، تاہم دونوں فریق اپنے بنیادی مطالبات پر قائم ہیں اور اہم معاملات پر اختلاف برقرار ہے۔
مذاکرات سے واقف ذرائع کے مطابق بات چیت میں تعطل کے باعث تنازع کے دوبارہ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی میں تبدیل ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ امریکی حکام کا خیال ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کا حکم دے سکتے ہیں۔
قطری ثالث علی الثوادی نے نیویارک میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ان کے وفد سے کئی گھنٹے ملاقات کی۔ مذاکرات میں قطر کی دو صفحات پر مشتمل سمجھوتے کی تجویز پر غور کیا گیا، جس کا مقصد ایران کی جانب سے امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کے مطالبے اور واشنگٹن کی جانب سے ایرانی جوہری پروگرام پر رعایتوں کے مطالبے کے درمیان مفاہمت پیدا کرنا تھا۔
بعد ازاں قطری ثالث نے واشنگٹن میں امریکی حکام اور صدر ٹرمپ کے ایلچی جیرڈ کشنر سے بھی ملاقات کی۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوئی اور دونوں فریق ایک دوسرے کے مطالبات کو ناقابلِ قبول سمجھتے ہیں۔
ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ تہران جوہری معاملات پر کسی رعایت پر اسی صورت غور کرے گا جب واشنگٹن جون میں طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت پر واپس آنے پر آمادہ ہو۔ دوسری جانب صدر ٹرمپ نے ایران کو رعایتیں دینے کی اطلاعات کی تردید کی ہے۔
قطر کے علاوہ پاکستان اور مصر سمیت علاقائی ثالث بھی مذاکرات میں پیش رفت کے لیے کوششیں کر رہے ہیں، تاہم دوحہ دونوں فریقوں کے سخت مؤقف سے مایوس ہوتا جا رہا ہے۔

