نیویارک: میانمار کی ریاست راکھینے کے شہر کیاوک تاؤ میں ایک مصروف بازار کے قریب فوجی فضائی حملے کے نتیجے میں کم از کم 50 افراد ہلاک اور 58 زخمی ہو گئے۔
رپورٹس کے مطابق حملہ پیر کی دوپہر اس وقت کیا گیا جب بازار میں دکانداروں، خریداروں اور ٹرانسپورٹ کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ بازار میں مختلف برادریوں سے تعلق رکھنے والی 200 سے زائد دکانیں قائم ہیں، جبکہ ہلاک ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ واقعہ بین الاقوامی انسانی قانون کی پاسداری سے متعلق سنگین خدشات پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے فریقین پر زور دیا کہ شہریوں کے تحفظ کے لیے امتیاز، تناسب اور حملوں کے دوران ضروری احتیاط کے اصولوں کی پابندی کی جائے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی شہریوں کے خلاف جاری حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ذمہ داروں کو جواب دہ بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
راکھینے میں میانمار کی فوج اور اراکان آرمی کے درمیان جاری لڑائی کے باعث روہنگیا مسلمانوں سمیت مختلف شہری برادریاں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق علاقے میں غیر قانونی گرفتاریاں، تشدد، جبری گمشدگیاں اور دیگر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں۔
وولکر ترک نے ملائیشیا سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ میانمار کے شہریوں کی ملک بدری روک دے، کیونکہ موجودہ حالات میں واپس بھیجے جانے والے افراد کو دوبارہ سنگین تشدد اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

