سعودی عرب کے ساتھ کامل یکجہتی کا اظہار، حوثی حملوں کی شدید مذمت: کور کمانڈرز کانفرنس

398841 1753053982


پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق جمعے کو فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیر صدارت جی ایچ کیو میں 277 ویں کور کمانڈرز کانفرنس میں فورم نے سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے مملکت کے ساتھ کامل یکجہتی کا اظہار کیا اور حرمین شریفین کی سلامتی و تقدس کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔

کور کمانڈرز کانفرنس میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کیا گیا اور کہا گیا کہ یہ معاہدہ دیرینہ تزویراتی اور اجتماعی دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں معاون ہے۔ فورم نے سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کے حملوں پر شدید تشویش کا اظہار بھی کیا۔

سعودی عرب، ترکی اور پاکستان نے سات اگست کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت تینوں ممالک نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ان میں سے کسی ایک پر مسلح حملے کو تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ تینوں ممالک کے فوجی سربراہان نے 25 ستمبر کو ریاض میں ملاقات کی اور حوثیوں کے حملوں کی مذمت کی۔

پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی جمعے کو کہا ہے کہ یمن کے حوثیوں کے حملوں کے بعد ایران نے ان کے ساتھ سیاسی طور پر مذاکرات کرنے کی تجویز دی ہے۔

دفتر خارجہ میں پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ مکہ دفاعی معاہدے کی ایک کمیٹی آئندہ ہفتے ریاض میں ہونے والے ہنگامی اجلاس میں اس تجویز پر غور کرے گی۔

یہ تجویز ایسے وقت سامنے آئی ہے جب سعودی عرب کو حوثیوں کی جانب سے حملوں میں اضافے کا سامنا ہے۔ سعودی عرب نے حوثیوں پر اسلام کے دو مقدس ترین شہروں کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا ہے۔

وزیر خارجہ نے بتایا کہ معاہدے کے تین رکن ممالک سعودی عرب، ترکی اور پاکستان اجلاس میں آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ کریں گے۔

کور کمانڈرز کانفرنس نے جمعے کو عزم ظاہر کیا ہے کہ پاکستان میں کسی بھی بہانے سے بدامنی پیدا کرنے یا نو مئی جیسے واقعات کی کوشش سے فیصلہ کن قوت اور قانون کی حکمرانی کے تحت بلاامتیاز نمٹا جائے گا۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی زیر صدارت جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں 277ویں کور کمانڈرز کانفرنس ہوئی، جس میں ملک کی موجودہ سکیورٹی صورت حال کا جائزہ لیا گیا اور اعلیٰ سطح کی تیاری برقرار رکھنے کا عزم ظاہر کیا گیا۔

کور کمانڈرز کانفرنس میں یہ بیان کہ کسی بھی بہانے سے بدامنی پیدا کرنے کی کوشش سے بلاامتیاز نمٹا جائے گا، اسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان تحریک انصاف نے چار اکتبوبر کو لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔

نو مئی 2023 کو پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کی جانب سے کئی شہروں میں پرتشدد احتجاج کیا گیا تھا۔

 

دوسری جانب حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان لانگ مارچ اور خیبر پختونخوا میں گورنر راج سمیت کئی معاملات سے متعلق جمعے کو ہوئے اجلاس کا پہلا دور مکمل ہو گیا۔ تاہم شرکا نے تفصیلات بتانے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ آج کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

فورم نے کہا کہ طالبان کی ’فریب خوردہ قیادت‘، جو انڈیا کی جانب سے دہشت گردی کو سہولت فراہم کر رہی ہے، اس کے نتائج کی ذمہ دار ہے۔

کانفرنس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے انٹیلی جنس بنیادوں پر دہشت گردی کے خلاف مسلسل کامیاب کارروائیوں کو سراہا گیا، تاہم اس بات پر زور دیا گیا کہ ان عملی اقدامات کے ساتھ غیر عسکری اقدامات بھی کیے جائیں۔

ان اقدامات میں نچلی سطح پر عوام پر مرکوز طرز حکمرانی، عوام کے ساتھ تزویراتی روابط، مفاداتی عناصر کی سرپرستی میں کام کرنے والے دہشت گردی اور جرائم کے گٹھ جوڑ کا خاتمہ اور پولیس کی استعداد کار میں اضافہ شامل ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق یہ اقدامات نیشنل ایکشن پلان اور وژن عزم استحکام کے مطابق کیے جائیں گے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کور کمانڈرز کانفرنس میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کیا گیا اور کہا گیا کہ یہ معاہدہ دیرینہ تزویراتی اور اجتماعی دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں معاون ہے۔

فورم نے سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کے حملوں پر شدید تشویش کا اظہار، سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار اور حرمین شریفین کی سکیورٹی اور تقدس کے تحفظ کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔

کانفرنس میں انڈیا کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے معاملے پر پاکستان کے اصولی مؤقف اور متعلقہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق کشمیر کے تنازعے کے حل کے لیے حمایت کا بھی اعادہ کیا گیا۔

اختتامی کلمات میں چیف آف آرمی سٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز نے فارمیشنز کی آپریشنل تیاری اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا۔

انہوں نے کمانڈرز کو ہدایت کی کہ انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے اور جدید ٹیکنالوجی، تربیت اور مختلف شعبوں کے باہمی انضمام کے ذریعے جنگی صلاحیتوں میں اضافہ جاری رکھا جائے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ قوم کی غیر متزلزل حمایت کے ساتھ مسلح افواج پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔





Source link

متعلقہ پوسٹ