پاکستان  سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو طبی معائنے کے بعد دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا


سپریم کورٹ کی ہدایت پر گزشتہ روز اسپتال منتقل کیے جانے کے چند گھنٹوں بعد پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو دوبارہ اڈیالہ جیل بھجوا دیا گیا ہے۔ عدالتِ عالیہ نے ان کی صحت اور جیل کے حالات کے بارے میں بڑھتے ہوئے خدشات کے پیشِ نظر عارضی طبی معائنہ کرانے کا حکم دیا تھا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق عمران خان کو ابتدائی طبی جانچ کے لیے اسلام آباد کے ایک سرکاری اسپتال میں لایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے ان کا معائنہ کیا۔ معائنے کے بعد انتظامیہ نے انہیں حفاظتی وجوہات اور جاری قانونی کارروائی کے تناظر میں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔ انتظامیہ نے دعویٰ کیا کہ انتقال میں جیل کی سیکیورٹی اور قانونی تقاضے مدِ نظر رکھے گئے۔
عمران خان کی رہنمائی کرنے والی ٹیم اور شریکِ حیات نے میڈیا کو مختصر بیان میں کہا کہ وہ عدالت کے فیصلے کی تعمیل کریں گے مگر جیل کی صحت و دیکھ بھال کے معاملات پر مزید شفافیت کی ضرورت ہے۔ عدالت نے بھی کہا تھا کہ جب تک طبی ماہرین کی مکمل رائے سامنے نہ آجائے، احتیاطی اقدامات کیے جائیں۔
سیاسی حلقوں میں اس واقعہ پر مخلوط ردِ عمل دیکھا گیا؛ حزبِ اختلاف نے اسپتال سے دوبارہ جیل منتقل کرنے کو بطورِ تشویش خیز قرار دیا اور درست طبی سہولیات تک رسائی کی ضرورت پر زور دیا، جب کہ حکومتی رُجحانات نے کہا کہ انصاف کے تقاضے اور ملک کی سیکیورٹی مقدم ہیں۔ بین الاقوامی مبصرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی جیل کی حالت اور قیدیوں کی طبی سہولیات کے بارے میں سوالات اٹھائے ہیں اور شواہد کی شفاف جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔
عدالتی کارروائی جاری ہے اور مزید طبی رپورٹس اور عدالت کے آئندہ احکامات کے مطابق صورتحال میں تبدیل متوقع ہے۔ اس خبر میں شامل حقائق سرکاری اعلانات اور مقامی میڈیا رپورٹس پر مبنی ہیں؛ آئندہ آنے والی تفصیلات سامنے آنے پر تازہ کاری کی جائے گی۔

متعلقہ پوسٹ