صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ مذاکرات سے کبھی گریز نہیں کرے گا جبکہ امن مذاکرات کے دوران بھی تین مرتبہ ایران کو نشانہ بنایا جاچکا ہے۔
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق صدر مسعود پزشکیان نے یہ بات کاروباری شخصیات سے ملاقات کے دوران کہی۔
صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایرانی حکومت کاروباری شعبے سے متعلق تمام مسائل اور مشکلات کے حل کے لیے سنجیدگی سے کوشش کر رہی ہے۔
جنگ کی صورت حال پر ان کا کہنا تھا کہ ایران نے کبھی مذاکرات سے گریز نہیں کیا اور نہ ہی آئندہ ایسا کرے گا۔
انھوں نے مزید کہا کہ امریکا کی جانب سے ایران کو تین مرتبہ نشانہ بنائے جانے کے باوجود تہران مذاکرات کا راستہ کھلا رکھنا چاہتا ہے۔
صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ملک کی قیادت کے درمیان مسائل کے حل کے لیے اچھی ہم آہنگی موجود ہے اور تمام حکام مشکلات اور خامیوں کو دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ایرانی صدر نے مزید کہا کہ سمندری راستوں پر پابندیوں اور مشکلات کے باوجود ایران تجارت کے متبادل ذرائع تلاش کر رہا ہے۔
ان کے بقول اس سلسلے میں پاکستان، عراق، ترکمانستان اور آذربائیجان کے ساتھ زمینی راستوں کے ذریعے درآمدات اور برآمدات بڑھانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان اور قطر کی ثالثی میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے امکانات سفارتی کوششیں جاری ہیں اور فریقین کو ایک دوسرے کے نکات بھی پہنچایے گئے ہیں۔

