یو اے ای نے فلائی دبئی واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا


دبئی، متحدہ عرب امارات نے دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز ایف زیڈ 1073 کے کاک پٹ میں پیش آنے والے چاقو حملے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ تحقیقات میں واقعے کے محرکات اور اس کے ممکنہ دہشت گردانہ پہلو کا جائزہ لیا جائے گا۔
امارات کے اٹارنی جنرل حمد سیف الشمسی نے خصوصی استغاثہ ٹیم تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے۔ حکام یہ بھی معلوم کریں گے کہ آیا واقعہ پہلے سے منصوبہ بند تھا یا اس کے پیچھے کسی فرد یا گروہ کی ہدایت شامل تھی۔
فلائی دبئی کی پرواز دبئی سے تل ابیب جا رہی تھی جب کاک پٹ میں پائلٹوں کے درمیان جھگڑا ہوا۔ طیارے کا رخ سعودی عرب کے شہر تبوک کی جانب موڑ دیا گیا، جہاں اس نے بحفاظت ہنگامی لینڈنگ کی۔ سعودی حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں معاون پائلٹ کی جانب سے کپتان پر حملے کی تصدیق ہوئی ہے۔�
اسرائیلی حکام کے مطابق معاون پائلٹ عمانی شہری تھا، جس نے بھارتی کپتان اسمت مچھار پر چاقو سے حملہ کیا۔ زخمی کپتان نے کاک پٹ کا دروازہ کھولنے میں کامیابی حاصل کی، جس کے بعد مسافروں اور عملے نے مبینہ حملہ آور کو قابو کیا۔ پرواز میں موجود دو آف ڈیوٹی پائلٹوں نے طیارے کو تبوک میں اتارنے میں مدد کی۔
فلائی دبئی نے واقعے کی وجوہات پر قیاس آرائی سے گریز کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں۔ سعودی حکام نے حملے کے بعد معاون پائلٹ کو ابتدائی پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا تھا، تاہم اسے بعد میں متحدہ عرب امارات کے حوالے کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ تحقیقات میں یہ بھی جائزہ لیا جائے گا کہ آیا حملہ آور کے کوئی ساتھی تھے یا واقعے میں ایران کا کوئی کردار تھا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس مرحلے پر کسی ممکنہ ایرانی مداخلت کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہے۔

متعلقہ پوسٹ