(احمد منصور)افغانستان میں طالبان رجیم کے خلاف مزاحمتی حملوں کا دائرہ وسیع ہوگیا، مختلف صوبوں میں کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ (اے یو ایف) کے مطابق ستمبر میں طالبان رجیم کے خلاف 68 کارروائیاں کی گئیں جن میں 102 اہلکار ہلاک اور 48 زخمی ہوئے اے یو ایف، این آر ایف اور نیشنل انڈیپنڈنس فرنٹ کی حالیہ کارروائیوں میں طالبان رجیم کی سکیورٹی، انٹیلی جنس اور انتظامی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جبکہ متعدد چوکیاں، گاڑیاں اور انٹیلی جنس مراکز بھی متاثر ہوئے۔
نیشنل انڈیپنڈنس فرنٹ کے مطابق 30 ستمبر کو مزار شریف میں طالبان انٹیلی جنس کے چھٹے ضلعی ہیڈکوارٹر پر راکٹ حملے میں نائب سربراہ قاری نصیر احمد فاتح سمیت 5 اہلکار ہلاک اور 4 شدید زخمی ہوئے این آئی ایف کے مطابق 29 ستمبر کو پکتیا میں طالبان چیک پوسٹ پر راکٹ حملے میں 7 اہلکار ہلاک، 2 رینجر گاڑیاں تباہ اور چیک پوسٹ کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ 2 اکتوبر کو ہلمند میں سکیورٹی چوکی پر حملے میں 4 اہلکار ہلاک ہوئے۔
این آر ایف کے مطابق 30 ستمبر کو بغلان میں کارروائی کے دوران 3 طالبان اہلکار ہلاک اور 2 زخمی ہوئے جبکہ اے یو ایف کے مطابق غور، ہلمند، قندھار اور زابل میں بھی طالبان کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ 29 ستمبر کو فیروزکوہ میں طالبان گورنر کے دفتر پر حملے میں ایک محافظ ہلاک اور 8 زخمی ہوئے۔
اے یو ایف کے مطابق 2 اکتوبر کو لشکرگاہ میں محکمہ اطلاعات و ثقافت کے دفتر پر دستی بم حملے میں ایک اہلکار زخمی ہوا، جبکہ 30 ستمبر کو قندھار شہر اور 2 اکتوبر کو ضلع ارغنداب میں طالبان سکیورٹی و انٹیلی جنس اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا یکم اکتوبر کو زابل میں ملا عمر کے مزار کی حفاظت پر مامور طالبان اہلکار بلال بھی ہلاک ہوا، جو طالبان کے ابوبکر نیٹ ورک سے وابستہ تھا۔
مزاحمتی گروپوں نے طالبان کے عسکری اور انٹیلی جنس ڈھانچے کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ’’نیک نیتی کیساتھ آئے ہیں‘‘حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور کچھ دیر میں شروع ہوگا

