گورنر راج – ایکسپریس اردو

2714166 JavedQaziNEW 1727554886


بات اب بہت دور تلک جائے گی، اس ملک کا طرز حکومت وفاقی ہے، یہ ملک اپنی روح میں وفاق ہے۔ گورنر راج نافذ کرکے ایک وفاقی اکائی کو مرکز کے حوالے کر دیا جاتا ہے اور وفاق کا یہ طرزعمل ملک میں جمہوری رویات کو ٹھیس پہنچاتا ہے۔ آئین، جو عام حالات میں ملک پر نافذالعمل ہوتا ہے، وہ معطل نہیں ہوتا تاہم صوبائی حکومت کے اختیارات اس سے لے کر وفاق کے سپرد کردیئے جاتے ہیں۔

ملک میں ایمرجنسی آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت اگر لاگو کی جاتی ہے تو اس کا بنیادی جزو حالت جنگ ہے، یعنی سرحد پار سے خطرہ یا اندرونی بغاوت ! آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت صوبے میں گورنر راج نافذ کیا جاتا ہے۔ گورنر راج اگر کسی صوبے میں نافذ کیا جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ متعلقہ صوبے کے اندرونی حالات اس قدر بگڑ گئے ہوں گے کہ حکومت صوبے میں گورنر راج نافذ کرنے کا عندیہ دیتی ہے، اور دونوں صورت حال میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے سادہ اکثریت کے تحت تیس دن کے اندر منظوری لینا ضروری ہے، یہ مدت چھ ماہ سے ایک سال تک کی ہوتی ہے۔

اٹھارہویں ترمیم نے اس کو مزید محدود کیا۔یہاں آپ کو آئین کی ضرورت ہے، مگر آئین کی صورت حال یہاں خود غیر معمولی ہے۔ آئین کے کچھ حصوں کو یہاں معطل سمجھا جائے گا، جس میں بنیادی حقوق بھی شامل ہیں۔ ایمرجنسی کی مثال یوں دی جا سکتی ہے کہ یہ دوا کی وہ خوراک (Dose) ہے جو ایک ایسے مریض کو دی جاتی ہے جو جس پر معمولی کی ادویات اثر نہیں کررہی ۔

یہ اس کی طرف اعتراف ہے، پھر اگر دیکھا جائے تو بلوچستان کے حالات بھی تو اچھے نہیں ہیں، پھر وہاں ایمرجنسی کیوں نہیں اور یہاں کیوں؟ فرق صرف یہ ہے کہ وہاں اپنی حکومت ہے اور خیبر پختونخوا میں نہیں۔ خیبر پختونخوا میں منتخب حکومت تو ضرور ہے، مگر یہ صوبائی حکومت وفاق یا مرکز سے ٹکراؤ میں ہے۔

اب یہاں ہمیں آئین سے رجوع کرنا پڑے گا۔ نئے صوبوں کی بحث، جو ہم پہلے سے ہی چھیڑ چکے ہیں۔ آئینی تقاضے پورے کرتے ہوئے سندھ اسمبلی نے ایک قرارداد بھی پاس کی ہے، مگر ہمارے وزیر داخلہ صاحب یہ فرماتے ہیں کہ اس قرارداد کی کوئی حیثیت ہی نہیں ہے۔ آپ کے اس بیان سے وفاقی حکومت متفق نہیں ہے، اگر اس طرح کا کوئی بیان وفاقی وزیر ِ قانون دیتے تو اس بات میں کچھ وزن ہوتا۔

ایمرجنسی یا گورنر راج کا نفاذ صدرپاکستان کر سکتے ہیں اور اب تک کے حالات اس بات کو واضح کر رہے ہیں کہ صدرپاکستان اس بات کے حق میں نہیں۔ یہ ایک ایسا نازک اور حساس معاملہ ہے کہ کوئی بھی سیاسی بصیرت رکھنے والا شخص اس معاملے کی سنجیدگی کو گہرائی سے محسوس کر سکتا ہے۔

اگر فرض کر لیا جائے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کر دیا جائے اور طالبان و افغانستان اپنی جارحیت سے باز نہ آئیں تو اس بات کو ضرور سمجھیے کہ بارڈر کے اس پار اور بارڈر کے اُس پار لوگ ایک ہی ہیں، پشتو بولنے والی۔

عمران خان نے خود ان لوگوں میں وفاق اور پنجاب کے خلاف مزاحمت کے بیج بوئے ہیں۔ البتہ خیبر پختونخوا کا شمالی حصہ مختلف ہے۔ہندکو، گوجری بلیٹ نان پشتون علاقوں پر مشتمل ہے۔ وہاں لانگ مارچ یا احتجاج کا شور بھی نہیں ہے۔

پی ٹی آئی پروان چڑھی، سرکاری پشت پناہی پر۔ اور اب اس جماعت کو سرکاری پشت پناہی کی ضرورت نہیں۔ انھوں نے طالبان کو خیبر پختونخوا میں آباد کیا۔ پی ٹی آئی کے دور حکومت میں افغان اور طالبان بہت خوش تھے، اسمگلنگ عروج پر تھی، ڈالر کی اڑان لمبی تھی، ڈالر ڈیڑھ سو سے تین سو تک پہنچ گیا، لہٰذا ہنڈی کے کام میں اضافہ ہو گیا، ڈالر کی اسمگلنگ بڑھ گئی۔

پشاور میں ڈالر مارکیٹ کھول دی گئی اور یہاں سے ڈالر افغانستان جاتا رہا، افغانستان میں پورے افغانستان کی معیشت پاکستان پر منحصر تھی، یہاں تک کہ آٹا، چاول،صابن اور چینی بھی یہیں سے جاتا تھا۔جبکہ پاکستان میں آٹے کے حصول کے لیے غریب لوگ قطاروں میں لگ گئے، چینی کی قلت پیدا ہوگئی، لاہور اور پنجاب کے دیگر اہم شہروں میں لنگر خانے اور پناہ گاہیں کھول کر افغانوں کے لیے مفت کھانے اور قیام کرنے کا انتظام کردیا گیا۔

جب خان صاحب کی حکومت اختتام کو پہنچی اور جنرل فیض حمید کا کورٹ مارشل ہوا تو طالبان بگڑ گئے، کیونکہ ان کے بنے بنائے کاروبار بند ہوئے۔ پاکستان کے وسائل پر کنٹرول کرنے کے عزائم ناکام ہوتے نظر آئے، پاکستان کی طرف سے پچھلے تین سالوں میں افغان پالیسی میں بتدریج تبدیلیاں لائی گئیں۔

اب بتدریج پتہ چل رہا ہے کہ نقصان کس قدر ہوچکا ہے۔ لاکھوں افغان باشندے پاکستانی شناختی کارڈز حاصل کرچکے ہیں، پاکستانی پاسپورٹس پر بیرون ملک جاچکے ہیں اور ان ملکوں میں پاکستانی بن کر پاکستان کے خلاف پراپگنڈا کررہے ہیں۔

سرکاری نوکریاں حاصل کرچکے ہیں۔ جو افغان باشندے واپس گئے ہیں، کیا گارنٹی ہے کہ وہ پاکستان کے سابق قبائلی علاقوں میں دوبارہ واپس نہیں آگئے ہوں گے؟خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے وہ علاقے جو افغان سرحد کے ساتھ ہیں، وہاں افغانوں اور طالبان کے سہولت کار موجود ہیں۔

یہی وقت تھا سب کو ایک ساتھ مل کر چلنے کا۔ ہائبرڈ جمہوریت چلی، معیشت کا نظام بھی بہتر ہوا، لیکن پاکستان کے شرفاء بہتر حکمرانی دینے میں ناکام رہے۔ غربت میں اضافہ ہوا، افراط زر بڑھا، پھر خلیج کی جنگ کا آغاز ہوا، جس نے پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ عوام پریشان ہیں۔ اس بات کی تصدیق محسن نقوی کے بیانات سے ہوئی تاکہ کوئی راستہ نکلے، سسٹم کو بہتر کرنے کا۔ مگر معاملات اب مزید بگڑیں گے۔

سہیل آفریدی کا رویہ مزاحمتی ہے، جو نو مئی اور 26 نومبر سے مماثلت رکھتا ہے۔ ہم ایک بہت بڑے بحران کو دعوت دے چکے ہیں۔ اس بحران کو روکنا مشکل ہے، مگر کوشش ضرور کرنی ہوگی۔ اس بحران کو روکنے کے لیے سیاسی قیادتوں کو تمام سیاسی جماعتوں کو ایک ٹیبل پر ضرور بٹھانا چاہیے، چونکہ مسئلے کا حل سیاسی ہے، لہٰذا اس کو آئین سے تصادم میں نہیں ہونا چاہیے۔

جلوہ گاہِ وصال کی شمعیں
وہ بجھا بھی چکے اگر تو کیا
چاند کو گل کریں تو ہم جانیں
(فیض احمد فیض)





Source link

متعلقہ پوسٹ