
(ویب ڈیسک) بھارت میں ووٹر لسٹوں میں سے کروڑوں ووٹ خٓرج کر دینے کی مجرمانہ دھاندلی کرنے میں ملوث چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف سیاسی جماعتوں کے احتجاج کے بعد اب نوجوانوں کی کاکروچ جنتا پارٹی نے بھ یاحتجاج شروع کر دیا۔ نئی دہلی مین جنتر منتر میں ہزاروں نوجوانوں اور سٹوڈنتس نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کے استعفے کے لئے احتجاج کیا۔جین زی کے احتجاج میں پولیس نے کئی افراد کو حراست میں لے لیا۔
بھارتی میڈیا غیر ملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹوں میں بتایا گیا کہ نئی دہلی میں کاکروچ جنتا پارٹی اور کانگرس اور کئی دوسری اپوزیشن پارٹیوں کے حامی اور سٹوڈنٹس گروپ اس احتجاج کی قیادت کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیئے: چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی گرفتاری کے لئے بھارت بھر میں احتجاج، جلوسوں کی الیکشن کمیشن دفاتر پر یلغار
یہ بھی پڑھیئے: چیف الیکشن کمشنر کی گرفتاری کا مطالبہ کرنے والوں کی دہلی میں گرفتاریاں، نیہا بورا بھی پکڑی گئی
جنتر منتر تک جا کر احتجاج کرنے والے مظاہرین کا مؤقف ہے کہ ووٹر فہرستوں میں چیف الیکشن کمشنر کی مسلط کی گئی متنازعہ تبدیلیوں سے کروڑوں شہری ووٹ کے حق سے محروم ہو گئے اور صرف وزیر اعظم نریندر مودی کی حکمران جماعت بی جے پی کو فائدہ پہنچتا ہے، ہم چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
دارالحکومت نئی دہلی میں جین زی کے احتجاجی مظاہرہ میں تقریباً 100 مظاہرین نے سکیورٹی بیریکیڈز ہٹائے اور ’ووٹ چور، کرسی چھوڑ‘ اور ’گیانیش کمار، استعفیٰ دو‘ کے نعرے لگائے۔
پولیس نے حراست میں لیے گئے افراد کی تعداد اور شناخت پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔
آزاد رکن پارلیمنٹ کپل سبل، بائیں بازو کی آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی صدر نہا بورا نے کہا کہ پہلے انہوں نے لوگوں کو ووٹر فہرستوں سے نکالا اور اب وہ ہمیں اس کے خلاف آواز اٹھانے نہیں دے رہے ہیں، یہ قابل قبول نہیں ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال شروع کی گئی ملک گیر ووٹر تصدیقی مہم کے نتیجے میں لاکھوں اہل ووٹرز کو انتخابی فہرستوں سے نکال دیا گیا ہے۔

