مظاہرین کو بسوں میں کھینچ کر لے گئی پولیس، نہا بورا حراست میں

Screenshot 2026 10 04 at 5.47.45 PM 1100x600 1


چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف نئی دہلی میں آج ہوئے احتجاجی مظاہرہ  کے دوران حراست میں لی گئی آئیسا کی قومی صدر نہا بورا کو پولیس کی گاڑی کے اندر دیکھا جا سکتا ہے۔ انہیں پولیس کی گاڑی سے کسی نامعلوم جگہ پر لے جایا گیا۔ (تصویر: پی آئی بی)

دہلی کے جنتر منتر پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کے مطالبہ کو لے کر جاری احتجاج کے تیسرے دن کئی طلبہ، نوجوان کارکنوں اور صحافیوں کو حراست میں لیا گیا۔ خواتین مظاہرین کے ساتھ پولیس کی  دھکا مکی اور مارپیٹ کے بھی الزام سامنے آئے ہیں۔ وہیں،ممبئی میں شیوسینا (یو بی ٹی) اور ایم این ایس نے مشترکہ ریلی نکالی۔

نئی دہلی:دہلی کے جنتر منتر پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کے مطالبہ کو لے کر جاری احتجاج کے دوران بڑی تعداد میں طلبہ، نوجوان کارکنوں، صحافیوں اور دیگر کو حراست میں لیے جانے کے درمیان دہلی پولیس کے بعض اہلکاروں پر خواتین مظاہرین کے ساتھ دھکا مکی اور مارپیٹ کرنے کے سنگین الزامات لگے ہیں۔ احتجاج آج (4 اکتوبر) تیسرے دن میں داخل ہو گیا ہے۔

آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئیسا) اور دیگر تنظیموں کی اپیل پر مظاہرین انڈیا گیٹ سے جنتر منتر تک مارچ نکالنے کے لیے جمع ہوئے تھے۔ مارچ شروع ہونے کے بعد انہیں سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے جوانوں اور پولیس کی جانب سے لگائی گئی بیریکیڈنگ کے ذریعے روکا گیا۔

دریں اثنا، اتوار (4 اکتوبر) کو ممبئی میں شیوسینا (یو بی ٹی) اور مہاراشٹر نونرمان سینا (ایم این ایس) مشترکہ طور پر ’گرجنا ریلی‘نکال رہے ہیں۔ شیوسینا (یو بی ٹی) کے سربراہ ادھو ٹھاکرے اور ایم این ایس کے سربراہ راج ٹھاکرے جنوبی ممبئی میں میٹرو سنیما سے برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کے صدر دفتر کی جانب نکالے جانے والے مارچ میں موجود رہے۔ کانگریس اور شرد پوار کی قیادت والی نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد چندر پوار) کے ریاستی سطح کے رہنما بھی اس مارچ میں شامل ہوئے۔

احتجاج کے دوسرے روز آئیسا کی صدر نہا بورا، انتخابی معاملوں کے تجزیہ کار اور سماجی کارکن یوگیندر یادو، شفافیت کے لیے کام کرنے والی کارکن انجلی بھاردواج اور سینئر وکیل پرشانت بھوشن سمیت درجنوں مظاہرین کو دہلی پولیس نے حراست میں لیا تھا۔

جمعہ کو بھی چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کے مطالبہ کو لے کر ہزاروں لوگ دہلی کے جنتر منتر اور ممبئی کے شیواجی پارک میں جمع ہوئے تھے۔ ممبئی میں ہونے والے احتجاج کی قیادت ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (سی جے پی) نے کی تھی۔

سی جے پی نے 10 اکتوبر کو ملک بھر میں احتجاجی مظاہرہ کی اپیل کی ہے۔



Source link

متعلقہ پوسٹ