ٹیچر آف دی ریولوشن، علی شریعتی

2728615 ZamarudNaqviNEW 1729446351


شاہ ایران نہ علی شریعتی کی آواز دبا سکا نہ ان کی قبر پر قبضہ کر سکا۔ شریعتی کو تو قتل کر دیا گیا۔ لیکن ان کا خون اس آگ پر تیل کا کام کر گیا جو ایران میں پہلے ہی سلگ رہی تھی۔ شریعتی کی موت کے ڈیڑھ سال بعد فروری 1979ء میں وہ طوفان آ گیا جس کی پیشنگوئی شریعتی نے کی تھی۔بادشاہ رخصت ہوا اور ایران پر آیت اللہ خمینی برسراقتدار آ گئے۔

شریعتی انقلاب آنے تک دنیا میں نہیں رہے۔ لیکن اچھا ہی ہوا۔ ایران بھی وہ ملک نہیں بنا جو شریعتی چاہتے تھے۔ جی ہاں۔ جب انقلاب کی گرد بیٹھی اور نئی حکومت بنی تو گراؤنڈ ریلٹی سامنے آ گئی۔ اقتدار ان روشن فکر دانشوروں کے ہاتھ میں نہیں آیا۔ جس کا خواب شریعتی نے دیکھا۔ اقتدار ان روایتی لوگوں کے ہاتھ میں آ گیا جن پر شریعتی نے تمام عمر تنقید کی تھی۔ جس شخص نے نوجوانوں کو جگایا، جس شخص نے انقلاب کے لیے فیول یعنی آئیڈیالوجی فراہم کی۔ انقلاب کے بعد اسی کو سائیڈ لائن کر دیا۔ شریعتی کو سرکاری طور پر شہید تو مانا گیا لیکن انھیں نظریے کے بند ڈبے میں قید کر دیا گیا۔

 مختار مسعود لوح ایام میں لکھتے ہیں کہ انقلاب کے بعد شریعتی کی پہلی برسی تھی۔ خیال تھا کہ دھوم دھام سے منائی جائے گی۔ جو غلط نکلا۔ بس ایک آدھ بیان ، دو چار مضامین ، تین چار بار ٹیلی ویثرن پر ذکر۔ اگلے سال پھر یہ موقع آیا۔ اس مرتبہ مخالفت کے آثار صاف نظر آ رہے تھے۔ ڈاکٹر شریعتی کے والد کے فلیٹ کے باہر پچھلے سال بھی لوگ سڑک پر جمع ہو گئے تھے اس سال بھی پھر جمع ہوئے۔ پچھلے سال بھی جمع ہونے والوں نے جلسے کی صورت اختیار کر لی تھی۔ اس سال بھی ان کا یہی ارادہ تھا۔ لوگ ابھی جم کر بیٹھے ہی نہ تھے کہ چند ایمبولینسیں آئیں اور سڑک کا اگلا اور پچھلا حصہ بند کر دیا۔ ان کے عقبی دروازے کھلے اور اندر سے مسلح افراد نکل آئے اور ہجوم پر پل پڑے۔ دیکھتے ہی دیکھتے ہجوم منتشر ہو گیا۔ سنا ہے زخمی ہونے والوں میں شریعتی کے بوڑھے والد بھی شامل تھے۔

آخر یہ سب کیوں ہو رہا تھا۔ اس کی وجہ بہت گہری ہے اور ذرا کڑوی بھی۔ شریعتی کا نظریہ تھا مسلسل انقلاب۔ یہ نظریہ ایک ظالم بادشاہ کو گرانے کے لیے بہترین ہتھیار تھا۔ لیکن جب اس کے برعکس گروہ اقتدار میں آ گئے تو یہ ہتھیار ان کے لیے بھی خطرناک تھا۔ کیونکہ شریعتی کے نظریہ کو کوئی بھی ایسٹیبلشمنٹ نہیں مانتی اور نئی حکومت کو استحکام چاہیے تھا بغاوت نہیں۔ اسے ایسے عوام چاہیے تھے جو قانون مانیں، نہ کہ وہ جو ہر بات پر سڑکوں پر نکل آئیں۔ شریعتی کا مذہبی نظریہ احتجاج کا نظریہ تھا اور حکومت کو اطاعت کا نظریہ چاہیے تھا۔ پھر جو صفیوں نے پانچ سو سال پہلے کیا تھا۔

انقلاب کے بعد ایران میں وہی ہوا۔ ایک مرتبہ پھر شریعتی کے نظریہ کو دبا دیا گیا اور اس کے برعکس نظریہ کو سرکاری سر پرستی مل گئی۔ شریعتی کی فکر نے انقلاب برپا کر دیا۔ لیکن وہ انقلاب شریعتی کو برداشت نہیں کر پایا۔ وہ اپنے ہی وطن میں فکری یتیم بن کر رہ گئے۔ ایسا ہیرو جسے اپنانا تو سب چاہتے تھے لیکن ان کی پوری سچائی کو قبول کرنے کی جرات کسی میں نہیں تھی۔ آج ڈاکٹر علی شریعتی ہم میں نہیں ہیں۔ وہ اپنے وطن ایران میں بھی نہیں ہیں بلکہ کہیں دور دمشق کی مٹی میں سو رہے ہیں۔ شاید یہ بھی قدرت کا فیصلہ تھا۔ کہ جس شخص کے خیالات کسی سرحد میں قید نہیں۔ اس کی قبر بھی کسی ایک ملک کی جاگیر نہ بنے۔ شریعتی ایک پل تھے روایت اور بغاوت کے درمیان۔ مشرق اور مغرب کے درمیان لیکن بد قسمتی یہ ہے کہ پل پر کوئی گھر نہیں بناتا۔ پل پر سے لوگ صرف گزرتے ہیں اور اسے پیچھے چھوڑ دیتے ہیں۔

آج بھی جب کوئی نوجوان اپنی شناخت کی تلاش میں بھٹکتا ہے۔ جب وہ مغرب کی چکا چوند اور روایت پسندوں کی سختی کے درمیان پھنس جاتا ہے تو اسے علی شریعتی کی کتابوں میں ہی پناہ ملتی ہے۔ جسے بادشاہوں نے مارنے اور روایت پسندوں نے چپ کرانے کی کوشش کی۔ لیکن سب ناکام رہے۔ کیونکہ جسم تو ختم ہو سکتے ہیں لیکن وہ چراغ نہیں بجھائے جا سکتے جو دلوں میں جل چکے ہوں۔

علی شریعتی ہمیں ایک ہی سبق سکھاتے ہیں۔ اگر تم حق کے راستے پر ہو اور اکیلے ہو تو گھبراؤ مت۔ سچائی بھیڑ کی محتاج نہیں ہوتی۔ آخر میں ڈاکٹر علی شریعتی کا تاریخی نا قابل فراموش قول احباب گرامی ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں، اگر آپ حق کے ساتھ نہیں کھڑے ہیں تو پھر تاریخ کو اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ آپ عبادت خانے کے حجرے میں تھے یا طوائف کے کوٹھے پر۔

دنیا کی ہزاروں سال کی تاریخ پڑھ جائیے، لاکھوں ، کروڑوں لوگوں نے قربانیاں دیں لیکن آج بھی ظلم و استحصال کا بدترین نظام قائم ہے۔ عوام تو مسلسل قربانیاں دے رہے ہیں۔ ان دیکھے ہاتھوں نے ظالم طبقات کے حق میں فیصلہ دیا۔ یہ سب واقعی بہت المناک ہے۔ اس کی ایک منطقی وجہ یہ بھی ہے کہ حکمران طبقات کے پاس اقتدار وسائل اور علمی بالا دستی رہی۔ جس سے غریب پسماندہ ان پڑھ عوام محروم تھے۔ ان کو دھوکا دینا اور ان کے اندر غدار پیدا کر کے ہاری ہوئی بازی کو جیت لینا اشرافیہ کے لیے بہت آسان تھا۔ یہی وجہ ہے کہ مختصر وقفوں کے علاوہ عوام اپنی غلامی کی زنجیروں کو نہ توڑ سکے۔

آج بھی دنیا سامراجی ہتھکنڈوں کے حوالے سے تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہی ہے۔ جو امید ماضی میں تھی اب تو وہ بھی نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔ برتر ٹیکنالوجی کے حوالے سے۔ اب تو غلامی کی زنجیروں کو ناقابل تسخیر بنانے کے لیے عالمی سامراج نے دنیا کو مقامی سامراج اور ذیلی سامراج میں تقسیم کر دیا ہے۔ یہ بڑی گہری تقسیم در تقسیم ہے جس نے تمام دنیا کے معاشروں کو ان دیکھے چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ اب تو گھٹا ٹوپ اندھیرا ہے۔ ماضی کی پانچ سو سال کی سامراج کی غلامی سے بڑھ کر۔ اب تو مصنوعی ذہانت وغیرہ اور خاص طور پر چاند پر قبضے کے منصوبے عملی شکل میں ڈھلنے جا رہے ہیں۔





Source link

متعلقہ پوسٹ