ایس آئی آر: جسٹس بھوئیاں بولے

Justice Ujjal Bhuyan PTI08 08 2026 000326A scaled 1 e1791179710186


سپریم کورٹ کے جج جسٹس اجل بھوئیاں۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

سپریم کورٹ کے جسٹس اُجل بھوئیاں نے ایس آئی آر پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کسی مردہ ووٹر کے معاملے کو چھوڑ کر، ایک بار کسی ووٹر کا نام ووٹر لسٹ میں درج ہو جانے کے بعد بغیر نوٹس اور شنوائی کے ہٹایا نہیں جا سکتا۔ ایک ہندوستانی شہری کی حیثیت سے اس کے حق رائے دہی یا ووٹر لسٹ میں شامل ہونے کے اس کے حق کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔

نئی دہلی:سپریم کورٹ کے جج جسٹس اجل بھوئیاں نے ایس آئی آر کی کڑی تنقید کی ہے۔ الیکشن کمیشن کی نگرانی میں جاری اس عمل کے نتیجے میں ووٹر لسٹوں سے 13 کروڑ نام ہٹائے گئے ہیں۔

جسٹس بھوئیاں حیدرآباد میں واقع نالسار یونیورسٹی آف لاء میں منعقد 19ویں نالسار-جسٹس بی آر ساونی میموریل موٹ کورٹ مقابلے کی اختتامی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ ان کے اس بیان کو اب تک کسی موجودہ سپریم کورٹ جج کی جانب سے اس عمل پر کی جانے والی سخت ترین تنقید مانا جا رہا ہے۔

بار اینڈ بنچ نے جسٹس بھوئیاں کے حوالے سے کہا،’اگر کسی عمل کے نتیجے میں لاکھوں ہندوستانیوں کا حق رائے دہی چھن جاتا ہے اور وہ اپنے ہی ملک میں دوسرے درجے کے شہری بن جاتے ہیں، تو ایسا عمل اپنی فطرت میں شخصی اورمن مانا ہے۔ کتنی ہی ’وہاٹ اباؤٹری‘ (دوسرے معاملوں کا حوالہ دے کر اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے) کی جائے، اسے جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہ آئین کی بنیاد پر کاری ضرب لگاتا ہے اور میں یہاں تک کہوں گا کہ یہ اس آئینی نظام کو مسترد کرنے کے مترادف ہے جسے ہم نے ہندوستان کے آئین کے تحت اختیار کیا ہے۔‘

ان کے خطاب کے جن حصوں کوخبر رساں اداروں نے نقل کیا ہے، وہ بے حد اہم ہیں۔ جسٹس بھوئیاں نے کہا کہ حق رائے دہی سے محروم لوگوں کا ایک الگ طبقہ تیار کرنا غیر قانونی ہے۔

انہوں نے کہا،’ہندوستانی آئین شہریوں کے دو طبقوں کا تصور پیش نہیں کرتا-ایک وہ شہری جنہیں ووٹ دینے کا حق حاصل ہو اور دوسرے وہ شہری جنہیں ووٹ دینے کے حق سے محروم کر دیا جائے۔ ایسا کوئی بھی عمل، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں ہندوستانی شہریوں کو حق رائے دہی سے محروم کر دیا جائے اور انہیں ووٹ دینے کے حق کے بغیر شہری بنا دیا جائے، ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 326 اور 14 کی خلاف ورزی ہے۔‘

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آئین سے اوپر کوئی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا،’کوئی بھی اتھارٹی ایسا نہیں کر سکتی؛ کوئی عدالت بھی اسے معاف یا جائز نہیں ٹھہراسکتی۔ آئین سے اوپر کوئی نہیں ہے۔‘

جسٹس بھوئیاں کی باتیں ویسی ہی ہیں جیسی سابق سپریم کورٹ جج جسٹس روہنٹن نریمن نے 27 ستمبر کو کہی تھیں۔

جسٹس نریمن نے کہا تھا،’آج ہمارے آئین کے تحت عام آدمی کا-اور اگر میں یہ کہوں تو ہمارے آئین اور ہماری جمہوریت کی دھڑکن، یعنی ووٹ دینے کا حق-بہت بڑے خطرے میں ہے۔‘

دونوں ججوں کے یہ تبصرے اس لیے بھی اہم ہیں کہ یہ ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں، جب ایس آئی آر کی قواعدکے دوران چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی جانب سے لیے گئے یکطرفہ فیصلوں کے خلاف ملک بھر میں احتجاج ہو رہا ہے۔ ان فیصلوں کو کئی بار آئینی دفعات کے برعکس قرار دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی، گزشتہ 10 ماہ کے دوران ان کے ساتھی الیکشن کمشنروں نے باضابطہ طور پر 14 بار اعتراض درج کیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ دی وائر نے رپورٹ کیا تھا کہ بڑی تعداد میں نام ہٹانے کا عمل کس طرح مرکزی سطح پر خود الیکشن کمیشن نے تیار کیا تھا اور ان میں سے بڑی تعداد میں متاثر ہونے والے ووٹرہندوستانی مسلمان ہیں۔

جسٹس نریمن نے اپنے خطاب میں مغربی بنگال پر اس عمل کے اثرات کا بھی واضح طور پر ذکر کیا تھا۔

انہوں نے کہا،’تو کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ عام آدمی، ہندوستان کے ایک شہری کو پوری طرح غیر قانونی طریقے سے باہر کر دینا تھا،تاکہ ایک حکومت وہ حاصل کر سکے جو وہ چاہتی ہے؟ اور اس کا نتیجہ آپ نے مغربی بنگال میں دیکھا، جہاں اس نے اس وقت کی حکومت کو ہلا دیا اور مرکز میں برسراقتدار جماعت کو اقتدار میں لادیا۔‘

جسٹس بھوئیاں نے ووٹر لسٹوں سے نام ہٹانے کے مسئلے پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا،’کسی مردہ ووٹر کے معاملے کو چھوڑ کر، ایک بار کسی ووٹر کا نام ووٹر لسٹ میں درج ہو جانے کے بعد، بغیر نوٹس اور شنوائی کے اسے ہٹایانہیں جا سکتا۔ ایک ہندوستانی شہری کی شخصیت سے ووٹ دینے کے حق یا ووٹر لسٹ میں شامل ہونے کے حق کو الگ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ جسم سے روح نکال لینے جیسا ہوگا۔‘

جسٹس بھوئیاں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستانی شہری کا اپنا ووٹ استعمال کرنے کا حق ’آئین کے بنیادی ڈھانچے‘کا بھی ایک مرکزی حصہ ہے۔

اپوزیشن نے جسٹس بھوئیاں کے تبصرے کی حمایت کی، کہا-’گیانیش کو فوراً استعفیٰ دے دینا چاہیے‘

سپریم کورٹ کے جج جسٹس اجل بھوئیاں کے تبصروں کی کانگریس رہنما جئے رام رمیش اور ترنمول کانگریس(ٹی ایم سی)کی رکن پارلیامنٹ مہوا موئترا نے حمایت کی ہے۔

جسٹس بھوئیاں کے خطاب کا ایک ویڈیو ایکس پر شیئر کرتے ہوئے جئے رام رمیش نے چیف الیکشن کمشنر(سی ای سی)گیانیش کمار کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ جسٹس بھوئیاں نے ’چیف الیکشن کمشنر کو پوری طرح بے نقاب کر دیا ہے۔‘

رمیش نے کہا،’اگر گیانیش کمار میں ذرا بھی شرم -لحاظ ہے تو انہیں فوراً استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ اقتدار کی چوٹی پر بیٹھے دو لوگوں کے غیر قانونی احکامات نافذ کرنے کی ان کی قابلیت نے انہیں اب ملک کے لیے ایک بوجھ بنا دیا ہے۔‘

وہیں، ٹی ایم سی کی رکن پارلیامنٹ مہوا موئترا نے بھی جسٹس بھوئیاں کی تعریف کی اور کہا کہ کسی موجودہ جج کا ’اقتدار کے سامنے سچ بولنا‘ غیرمعمولی واقعہ ہے۔انہوں نے کہا،’جسٹس بھوئیاں کو سلام۔‘



Source link

متعلقہ پوسٹ