غزہ (انٹرنیشنل ڈیسک): غزہ کے سرکاری میڈیا آفس کے مطابق اسرائیل نے ۷ اکتوبر ۲۰۲۳ء سے اب تک غزہ پر فوجی کارروائیوں میں ۲ لاکھ ۲۳ ہزار ٹن سے زیادہ دھماکا خیز مواد گرایا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ یہ مقدار ہیروشیما اور ناگاساکی پر گرائے گئے ایٹمی بموں کی مجموعی دھماکا خیز توانائی سے ۶ گنا سے زیادہ ہے۔ یہ اعداد غزہ کے حکومتی ادارے کے تخمینے ہیں اور ان کی آزادانہ تصدیق کیلئے کوئی جامع عوامی فوجی ریکارڈ دستیاب نہیں۔ اسی ادارے نے جولائی ۲۰۲۶ء میں جنگ کے ایک ہزار دن مکمل ہونے پر بھی یہی دعویٰ کیا تھا۔
ماہرین کے مطابق یہ موازنہ احتیاط کا متقاضی ہے، کیونکہ روایتی بموں کا وزن ٹن میں ناپا جاتا ہے جبکہ ایٹمی بم کی توانائی ٹی این ٹی کے مساوی کلوٹن میں، اس لیے دونوں کو براہِ راست برابر نہیں سمجھا جا سکتا۔
فلسطینی وزارتِ صحت کے حوالے سے رائٹرز نے ۷ اکتوبر ۲۰۲۶ء کو بتایا کہ جنگ کے آغاز سے اب تک ۷۴ ہزار سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ واشنگٹن پوسٹ نے ۷۴,۲۴۵ ہلاکتوں کی اطلاع دی۔ اکتوبر ۲۰۲۵ء میں جنگ بندی کے اعلان کے باوجود رائٹرز کے مطابق اس کے بعد بھی ۱۴۰۰ سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہوئے۔ اسرائیلی حکام ان حملوں کو حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف کارروائی قرار دیتے ہیں، جبکہ فلسطینی حکام اور انسانی حقوق کے ادارے شہریوں کی ہلاکت، بے گھری اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی پر تشویش ظاہر کرتے رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطۂ انسانی امور کے مطابق جولائی ۲۰۲۶ء تک غزہ میں ۶۰ ملین ٹن سے زیادہ ملبہ جمع ہو چکا تھا۔ بھاری مشینری، ایندھن، محفوظ راستوں اور مالی وسائل کی کمی بحالی کے عمل کو سست کر رہی ہے۔

