واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک): صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ جو شخص ان کی ترجیحی اصطلاح "سپر انٹیلی جنس” (ایس آئی) کے بجائے "مصنوعی ذہانت” (اے آئی) استعمال کرتا رہے گا، اسے وائٹ ہاؤس "دشمن” سمجھے گا۔
ٹروتھ سوشل پر انہوں نے لکھا کہ وائٹ ہاؤس ہر اس شخص کو دشمن تصور کرتا ہے جو وسیع پیمانے پر قبول کی جانے والی نئی اور زیادہ درست اصطلاح "سپر انٹیلی جنس” کے بجائے "آرٹیفیشل انٹیلی جنس” کہتا ہے۔ ٹرمپ کا مؤقف رہا ہے کہ "آرٹیفیشل” کی اصطلاح سے غلط تاثر ملتا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی "جعلی” ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ بیان اشارہ دیتا ہے کہ وائٹ ہاؤس اس اصطلاح کو نہ اپنانے والی کمپنیوں یا افراد کو سزا دے سکتا ہے، جس پر نفاذ کی صورت میں پہلی ترمیم کی خلاف ورزی کے خدشات پیدا ہو سکتے ہیں۔
ستمبر کے اواخر میں صنعت کے سربراہان سے ملاقات کے بعد ٹرمپ نے ایک صدارتی حکم نامے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت وفاقی محکمے اور ایجنسیاں "قانون کے تحت زیادہ سے زیادہ اجازت کی حد تک” سرکاری خط و کتابت، عوامی ابلاغ اور ویب سائٹس میں "اے آئی” کے بجائے "ایس آئی” استعمال کریں گی۔ یہ حکم اوپن اے آئی جیسی نجی کمپنیوں پر لاگو نہیں ہوتا، کیونکہ وائٹ ہاؤس کے پاس نجی شعبے میں اس کے نفاذ کا قانونی اختیار نہیں۔
اس کے باوجود ایلون مسک نے ایکس پر اعلان کیا کہ اسپیس ایکس انتظامیہ کی ترجیحی برانڈنگ سے ہم آہنگی کیلئے اپنے اے آئی ڈویژن SpaceXAI کا نام بدل کر SpaceXSI رکھے گی۔ میٹا جیسی کمپنیاں "سپر انٹیلی جنس” لیبز پہلے ہی چلا رہی ہیں، تاہم ان کا مقصد "اے آئی” کی اصطلاح کو مسترد کرنا نہیں بلکہ مستقبل کے عزائم کا اظہار تھا۔

