وزیراعظم کا اقوام متحدہ کے سربراہ پر مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کی ضرورت پر زور

shehbaz guterres1791394357 0



وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کی عالمی امن کے لیے خدمات کو سراہتےہوئے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق پرامن حل کی ضرورت پر زور دیا اور سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے بھارتی یک طرفہ فیصلے کو غیرقانونی قرار دیا۔

وزیراعظم آفس سے جاری اعلامیے کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف سے پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ملاقات کی، وزیراعظم نے ان کا خیرمقدم کیا اور اقوام متحدہ کے منشور، کثیرالجہتی نظام، بین الاقوامی قانون، مکالمے اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے سیکریٹری جنرل کے اصولی عزم کو سراہا اور اپنے دور منصب کے دوران عالمی امن و سلامتی کے لیے سیکریٹری جنرل کی نمایاں خدمات کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔

وزیراعظم نے مؤثر، جامع اور نمائندہ اقوام متحدہ کے لیے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسے وقت میں جب کثیرالجہتی نظام کو اہم چیلنجز درپیش ہیں، اقوام متحدہ کا مؤثر کردار مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

انہوں نے سیکریٹری جنرل کے یواین80 اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے زور دیا کہ اقوام متحدہ میں اصلاحات ترقی پذیر ممالک کی ترجیحات کے مطابق ہونی چاہئیں اور تنازعات کی روک تھام، تنازعات کے پرامن حل اور قیام امن کے عمل کو مزید مضبوط بنایا جانا چاہیے۔

وزیراعظم نے اقوام متحدہ کے امن مشنز کے لیے پاکستان کے دیرینہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی امن و سلامتی کے قیام کے لیے پاکستان کی مسلسل خدمات کو بھی اجاگر کیا۔

وزیراعظم نے مکالمے اور کشیدگی میں کمی کے فروغ کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو اجاگر کیا، جن میں امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی میں پاکستان کا کردار بھی شامل ہے اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ تنازعات کے حل اور کشیدگی میں اضافے کی روک تھام کے لیے مکالمہ اور سفارت کاری ہی واحد قابل عمل راستہ ہے۔

اس موقع پر وزیراعظم نے علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے جموں و کشمیر کے تنازع کے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق پرامن حل کی ضرورت پر زور دیا اور واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے اور اسے یک طرفہ طور پر التوا میں رکھنے کا بھارت کا فیصلہ کسی قانونی بنیاد کا حامل نہیں ہے۔

وزیراعظم نے اس امر پر بھی زور دیا کہ ایک پرامن اور مستحکم افغانستان پاکستان کے مفاد میں ہے، افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی اور افغان سرزمین پر دہشت گرد گروپس کی موجودگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان گروہوں کے خلاف ٹھوس اور قابل تصدیق اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔

شہباز شریف نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت اور ان کی ریاست کے قیام کے حق کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور غزہ امن منصوبے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 پر عمل درآمد کے لیے پاکستان کی حمایت کا بھی اعادہ کیا۔

وزیراعظم نے ترقی پذیر ممالک کو ترقی اور موسمیاتی لچک کے فروغ کے لیے کم لاگت اور رعایتی مالی وسائل تک زیادہ سے زیادہ رسائی فراہم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اقوام متحدہ اور عالمی امن و سلامتی کے لیے پاکستان کی دیرینہ خدمات کو سراہا، جن میں اقوام متحدہ کے امن مشنز میں پاکستان کا اہم کردار اور سلامتی کونسل میں اس کی تعمیری شمولیت شامل ہے۔

سیکریٹری جنرل نے مکالمے، ثالثی اور کشیدگی میں کمی کے فروغ کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو خصوصی طور پر سراہا اور کثیرالجہتی نظام اور اقوام متحدہ کے منشور کے مقاصد و اصولوں کے لیے پاکستان کے مسلسل عزم کا خیرمقدم کیا۔

بعد ازاں وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور ان کے وفد کے اعزاز میں عشائیہ دیا۔



Source link

متعلقہ پوسٹ