اسلامی معاشرت میں مسجد اور منبر و محراب کو مرکزیت حاصل ہے اور اس مقدس مرکز کا روحِ رواں وہ وجود ہوتا ہے جسے ہم ’’ پیش امام‘‘ یا ’’خطیب‘‘ کہتے ہیں۔ پیش امام محض باجماعت نماز ادا کروانے والا کوئی فرد نہیں، وہ نیابتِ رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا فریضہ انجام دینے والا، اور مسلم معاشرے کا روحانی پیشوا ہوتا ہے تاہم عصرِ حاضر میں جہاں مادیت اور اخلاقی تنزلی نے زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کیا ہے، وہاں منصبِ جلیل پر فائر پیش امام و خطیب جیسے جلیل القدر حضرات کی بے توقیری بھی ایک دردناک اور تشویشناک صورت اختیار کر چکی ہے۔
عوام الناس کا امام و خطیب کے ساتھ رویہ دیکھتے ہوئے مقتدیوں کے طرزِ عمل کی اصلاح کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے۔ میرے مرشد و مربی پیر طریقت رہبر شریعت ولی ابن ولی شیخ المفسرین و محدثین حضرت مولانا حمداللہ جان ڈاگئی باباجی رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ پوری زندگی میں کسی امام کے پیچھے (اقتداء میں) دو رکعت نماز پڑھ لی تو پوری زندگی اس کی تعظیم و تکریم واجب ہوگئی اور اگر آپ ایسا نہیں کرسکتے تو پھر اس امام کی اقتداء میں نماز نہ پڑھنا بہتر ہے۔ مگر میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ جس طرح ہمارا معاشرہ اخلاقی انحطاط کا شکار ہے، اسی طرح پیش امام کی بے توقیری بھی بڑھتی جا رہی ہے۔
اگر اکثر نہیں تو کچھ مقتدی امام صاحب کو حقیر سمجھتے ہیں، آپس میں بات کرتے ہوئے ان کی غیبت اور اکثر اوقات بہتان تراشی کرتے ہیں۔ وہ مقتدی جن کو نماز کے فرائض کا بھی پتہ نہیں ہوتا، نماز سے پہلے اور بعد امام صاحب کی نماز، دعا اور طرز زندگی میں خامیاں نکالنا اپنا فرض سمجھتے ہیں، سوشل میڈیا پر نت نئی بولیاں بولنے والے خودساختہ مفکرین کے یوٹیوب چینلز پر اپنا سودا بیچنے کے لیے عوام الناس کے دلوں میں شکوک پیدا کرتے ہیں جس کی وجہ سے صورتحال دن بدن خراب ہوتی چلی جا رہی ہے۔ پیش امام و خطیب کے مقام اور معاشرے کے رویے پر میں دو تین بار لکھ چکا ہوں مگر آج حضرت مولانا الیاس گھمن صاحب کا ایک کلپ سنا، دل نے چاہا کہ اپنے قارئین سے شیئر کرکے ایک بار پھر ثواب و اجر کی نیت سے چند سطور امام و خطیب کے مرتبہ، مقام اور عوام الناس کے رویوں کی اصلاح پر لکھنے بیٹھ گیا ہوں، اللہ رب العزت ایک پرتاثیر کالم لکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
مولانا الیاس گھمن فرماتے ہیں کہ ’’مسجد کے امام سے تو مقتدیوں کو عقیدت ہوتی ہے، جس مقتدی کو مسجد کے امام سے عقیدت نہ ہو اسے تو مسجد چھوڑ دینا چاہیے، کسی اور مسجد میں چلا جائے۔ اگر مقتدی کی امام کے ساتھ ہی عقیدت نہیں تو پھر بتاؤ کس کے ساتھ عقیدت ہوگی۔ اگر امام میں کوئی چھوٹی موٹی کمی ہو تو اسے نظرانداز کریں۔ یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ پیش امام عشاء کی نماز پڑھائے، اس کے بعد دو سنت اور تین وتر پڑھے اور سو جائے۔ پھر پوری رات سوتا رہے، نہ تسبیحات کرے، نہ ذکر اذکار کرے، بس سو جائے اور صبح اٹھ کردو سنت پڑھے اور فجر کی نماز پڑھا دے۔
اس کے پیچھے کا مقتدی عشاء کے فرض پڑھے، پھر سنتیں پڑھے، پھر وتر پڑھے اور پھر نفل پڑھے، اس کے بعد پوری رات عبادت کرے، ایک کروڑ روپیہ صدقہ کرلے اور صبح پھر پیش امام کے پیچھے نماز پڑھے، اللہ کی قسم امام صاحب اس سے پھر بھی بہتر ہے۔ میں کوئی بات بغیر دلیل کے نہیں کرتا۔ ایک فرض نماز کی اہمیت کتنی ہے؟ اگر کوئی شخص ایک فرض نماز کو پڑھے اور وقت گزار کر پڑھے تو پوری زندگی انسان نوافل پڑھتا رہے، یہ جو وقت گزار کر نماز پڑھی ہے اس کا تدارک نہیں ہوسکتا۔ اگر کوئی جماعت کے ساتھ فرض پڑھے تو اللہ اس پر 27 فرضوں کا اجر فرما دیتا ہے۔
امام صاحب عشاء کی نماز پڑھائے، پیچھے ایک ہزار مقتدی ہوں، تو ہر مقتدی کو 27 فرض کے برابر اجر ملے گا اور امام کو27 ہزار فرضوں کا۔ اگر امام صاحب صبح فجر کی نماز پڑھائے تو ہر مقتدی کو 27 فرضوں کے برابر اجر ملے گا اور امام کو 27 ہزار فرض کا۔ عشاء کے 27 ہزار اورفجر کے 27 ہزار فرض کو جمع کریں تو54 ہزار فرضوں کے برابر اجر امام کو ملے گا۔ اس لیے اپنی حیثیت اور اپنی عبادت کا مقام ذہن میں رکھا کریں۔ جب آپ یہ ذہن بنا لیں گے تو پھر آپ کو امام صاحب سے کبھی شکایت نہیں ہوگی‘‘۔
اگر ہم دینی علوم اور اسلامی فقہ کی روشنی میں امامت و اقتدا کے اصولوں کا باریک بینی سے جائزہ لیں تو یہ حقیقت پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ امامت صرف ایک منصب نہیں بلکہ ایک باطنی و ظاہری ربط کا نام ہے۔ امام کے پیچھے کھڑے ہونے کا مطلب ہی اپنے وجود کو امام کی نیابت کے تابع کر دینا ہے۔ شریعت میں جماعت کی نماز کی حکمت ہی یہ ہے کہ مسلمان اپنے پیش امام کی قیادت میں متفق اور متحد ہو کر بارگاہِ الٰہی میں پیش ہوں۔ جب کوئی مقتدی کسی امام کی اقتداء میں نیت باندھتا ہے تو گویا وہ اس کی دینی نیابت و قیادت کو تسلیم کر رہا ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں پیش امام کی تحقیر، غیبت یا اس کی ذات پر بلاوجہ اعتراضات کرنا نہ صرف اخلاقی گراوٹ ہے بلکہ اس سے خود مقتدی کی اپنی عبادت کا خشوع و خضوع اور روحانی بالیدگی ختم ہو جاتی ہے۔ موجودہ دور میں عوام الناس کا طرزعمل سخت تشویشناک بن چکا ہے۔
اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ مقتدی امام صاحب کو اپنے نجی ملازم سے بھی کم تر سمجھتے ہیں حالانکہ وہ ملازم مسجد نہیں بلکہ نیابتِ رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے مسند پر فائز دینی رہنما ہوتے ہیں۔ ان کے اندازِ تلاوت، ان کے لباس، ان کے طرزِ زندگی اور ان کے نجی معاملا ت پر بلاجواز تنقید کرنا ایک فیشن بن چکا ہے۔ غیبت اور تہمات کی وہ گرم بازاری ہے جس نے معاشرتی اخلاقیات کی دھجیاں اڑا دی ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ کوئی بھی انسان بشری تقاضوں اور خامیوں سے مبرّا نہیں ہو سکتا، اگر امام میں کوئی معمولی انتظامی یا بشری کمی کوتاہی نظر بھی آئے تو اسلامی اخلاق کا تقاضا ہے کہ اسے نظرانداز کیا جائے یا نہایت ادب و احترام کے ساتھ تنہائی میں اصلاح کی کوشش کی جائے۔
آئمہ کرام کے اجر و ثواب اور ان کے مقامِ بلند کا جو نقشہ مولانا الیاس گھمن صاحب نے کھینچا ہے، وہ درحقیقت شریعتِ مطہرہ کے اس بنیادی قاعدے پر مبنی ہے کہ نیکی کی رہنمائی کرنے والا نیکی کرنے والے کی طرح ہے۔ جب ایک پیش امام سو، دو سو یا ایک ہزار افراد کی نماز کی قیادت کرتا ہے تو ان تمام مقتدیوں کی عبادت کے اجتماع کا ثواب اور ان کی نیابت کا اجر امام صاحب کے نامہ اعمال میں درج ہوتا ہے۔
مقتدی چاہے جتنی بھی نفلی عبادات، تلاوت اور صدقہ و خیرات کر لے، وہ انفرادی نفل اور مستحبات کا اجر و ثواب تو پا سکتا ہے لیکن فرضِ عین کی باجماعت ادائیگی کی وہ برکت اور ہزاروں مقتدیوں کے اجر کی جامعیت حاصل نہیں کر سکتا جو اللہ تعالی نے امام کو عطا فرمائی ہے، لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنے مردہ معاشرے میں نئی روح پھونکنے کے لیے تعظیمِ امام کی روایت کو دوبارہ زندہ کیا جائے۔ مقتدیوں خاص کر پڑھے لکھے مقتدیوں کو اپنے رویوں پر غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ جب تک ہمارے دلوں میں منبر و محراب کے وارثوں کی عزت و تکریم اور عقیدت کا جذبہ پیدا نہیں ہوگا، تب تک نہ ہماری عبادات میں روح پیدا ہو سکتی ہے اور نہ ہی ہمارا معاشرہ دینی برکات و خیر سے فیض یاب ہو سکتا ہے۔ اللہ رب العزت ہمیں آئمہ کرام، علمائے دین اور اپنے دینی پیشواؤں کا صحیح احترام کرنے، ان کی قدر کرنے اور ان کی اقتدا کے حقیقی تقاضوں کو پورا کرنے کی توفیق و ہدایت عطا فرمائے۔ آمین

