آئی ایم ایف کی سرکاری اداروں کے قوانین میں ترامیم کی شرط

imf1747346795 0



اسلام آباد:

آئی ایم ایف کیساتھ سٹاف لیول مذاکرات مکمل، تاہم ایک ارب ڈالر قسط کے حصول کے لیے سرکاری اداروں (ایس اوایز) سے متعلق قوانین میں ترامیم کی شرط سامنے آگئی۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے اس قانون سازی کوآئندہ قسط کیلئے پیشگی اقدام قراردیا، مذاکرات کے اختتام تک آئی ایم ایف نے تاحال باضابطہ اعلامیہ جاری نہیں کیا۔

ترجمان وزارت خزانہ نے تاحال تصدیق نہیں کی کہ حکومت نے ایس او ایز قوانین میں ترمیم کی شرط قبول کرلی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس شرط پر سٹاف لیول معاہدہ طے پایا تو آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ پارلیمنٹ سے متعلقہ قوانین کی منظوری کے بعد اگلی قسط کی منظوری دے سکتاہے جس کا اجلاس نومبر کے آخر میں متوقع ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف عرصے سے پاکستان پرزوردے رہا کہ سرکاری اداروں سے متعلق قوانین مرکزی ایس او ای قانون سے ہم آہنگ اور انتظام وگورننس عالمی طریقہ کارکے مطابق بنایاجائے۔

پاکستان اس معاملہ پر پہلے بھی متعدد ڈیڈلائنز پوری نہ کرسکا، جس پر مذاکرات میں مشن نے تشویش کااظہارکیا۔ پاکستان کو 9 سے 10ایسے قوانین میں ترامیم کرنا تھیں جو مرکزی ایس او ای قانون سے مطابقت نہیں رکھتے، حکام کو نومبر کے وسط تک متعلقہ قوانین میں ہم آہنگی لانے کاکہاگیاہے۔

پاکستان نے جنوری میں چھ سرکاری اداروں سے متعلق ترامیم پارلیمنٹ کی منظوری کیلئے بھجوائیں، مزید تین سے متعلق قانون سازی میں پیش رفت درکار ہے۔

سیکرٹری خزانہ امداداللہ بوسال قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ سے کہہ چکے ہیں پورٹ قاسم، گوادر پورٹ، کراچی پورٹ،سٹیٹ لائف انشورنس ،نیشنل بینک اور پاکستان ریلوے سے متعلق قوانین میں ترامیم کی جائیں گی۔

وزارت خزانہ کی گریڈ 20 کی افسرمریم کیانی کو 3 سال کیلئے آئی ایم ایف کے ایگزیکٹوڈائریکٹرکی نئی سینئر ایڈوائزر مقررکردیا گیا، وہ سیف ڈوگرکی جگہ ذمہ داریاں سنبھالیں گی ۔





Source link

متعلقہ پوسٹ