’’اگر حوثی تنازع سعودی عرب تک پھیلا تو مکہ معاہدہ نافذ ہوگا‘‘: خواجہ آصف

khawaja asif d


اسلام آباد (ایجنسی) — پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اگر یمن کا تنازع سعودی عرب کی سرحد کے اندر پھیلتا ہے تو سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ سہ فریقی "مکہ دفاعی اتحاد” نافذ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بات یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے منگل کو سعودی تیل تنصیبات پر کیے گئے حملوں کے بعد کہی، جن میں 73 افراد زخمی ہوئے تھے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ 7 اگست کو طے پانے والے اس معاہدے کا مقصد اجتماعی مزاحمت کو مضبوط کرنا ہے اور یہ تینوں ممالک کو یہ اختیار دیتا ہے کہ کسی ایک رکن ملک پر حملے کو سب پر حملہ تصور کیا جائے۔
اخبار "ڈان” کی رپورٹ کے مطابق جب وزیر دفاع سے پوچھا گیا کہ کیا حوثیوں کے حملوں کے بعد اس معاہدے کو نافذ کیا جا سکتا ہے، تو انہوں نے کہا کہ معاہدے کی شرائط کے بارے میں کوئی ابہام نہیں۔ ان کے بقول: "یہ ایک مشترکہ دفاعی معاہدہ ہے۔ بغیر کسی اشتعال کے جارحیت، یا یمن میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے سعودی عرب تک پھیلنے کی صورت میں، یقیناً یہ معاہدہ نافذ ہو جائے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔” انہوں نے مزید کہا کہ "ہم اس معاہدے کی شرائط و ضوابط کے پابند ہیں اور ضرورت پڑنے پر ان پر عمل کریں گے۔”
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا حملوں کے بعد پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان کوئی بات چیت ہوئی ہے، تو وزیر دفاع نے کہا کہ انہیں ایسی کسی بات چیت کی معلومات نہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ضرورت پڑنے پر پاکستان جواب دے گا۔

متعلقہ پوسٹ