مائیکروسافٹ اور این ویڈیا نے طاقتور اے آئی ٹیکنالوجی سے لیس نئے لیپ ٹاپ کی پیش رفت سامنے لاتے ہوئے ونڈوز کمپیوٹرز کو مصنوعی ذہانت کے مزید خودکار استعمال کے لیے تیار کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مجوزہ ڈیوائس کا نام ’’سرفیس لیپ ٹاپ الٹرا‘‘ رکھا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کا بنیادی مقصد ایسے ونڈوز کمپیوٹرز تیار کرنا ہے جہاں اے آئی ایجنٹس ہر کام کے لیے کلاؤڈ پر انحصار کیے بغیر کوڈ لکھنے اور دیگر پیچیدہ کام انجام دے سکیں۔ اس طرح مہنگے کلاؤڈ کمپیوٹنگ ڈیٹا سینٹرز کے بعض کام گھروں اور دفاتر میں موجود مقامی کمپیوٹرز پر منتقل کیے جاسکیں گے۔
مائیکروسافٹ کے لیے یہ اقدام اس لیے بھی اہم ہے کہ پی سی مارکیٹ میں کمپنی کی طویل عرصے سے مضبوط موجودگی ہے اور ہارڈویئر کی لاگت براہ راست صارف برداشت کرتا ہے۔ دوسری جانب ایپل بھی نئے میک کمپیوٹرز کے ذریعے اسی شعبے میں اے آئی کی صلاحیتیں بڑھانے کی کوشش کررہا ہے۔
این ویڈیا کے لیے بھی یہ منصوبہ ایک اہم امتحان ہے، کیونکہ ونڈوز لیپ ٹاپ کی چپ مارکیٹ پر طویل عرصے سے اس کے روایتی حریف انٹیل اور اے ایم ڈی کا اثر رہا ہے۔ اب اے آئی چپس کے ذریعے این ویڈیا اس مارکیٹ میں اپنا کردار بڑھانا چاہتی ہے۔
سان فرانسسکو میں مائیکروسافٹ کی میزبانی میں ہونے والی تقریب کئی سال سے جاری دونوں کمپنیوں کی شراکت داری کا نتیجہ ہے۔ اس شراکت کا مقصد اے آئی چپس کی مدد سے کمپیوٹر کوڈنگ اور پیچیدہ کاروباری منصوبوں جیسے کام براہ راست ڈیسک ٹاپ اور لیپ ٹاپ پر انجام دینا ہے۔
مائیکروسافٹ کے سی ای او ستیہ نڈیلا اور این ویڈیا کے سی ای او جینسن ہوانگ کی جانب سے ’’سرفیس لیپ ٹاپ الٹرا‘‘ متعارف کرایا جانا اس منصوبے کا نمایاں حصہ ہوگا۔
تاہم ماہرین کے نزدیک اصل سوال اس ڈیوائس کی قیمت ہے۔ حالیہ عرصے میں میموری چپس کی قلت نے کمپیوٹر ہارڈویئر کی لاگت بڑھا دی ہے، جس کے باعث طاقتور اے آئی لیپ ٹاپ عام صارف کے لیے کتنے قابلِ رسائی ہوں گے، یہ ایک اہم سوال بن گیا ہے۔
Source link

