امریکا کے ایران پر تازہ حملوں کا عندیہ دینے پر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں جمعرات کو 5 فیصد سے زیادہ بڑھ گئیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے ایران کے خلاف نئی عسکری کارروائی کے لیے مختلف آپشنز تیار کرنے کو کہا گیا ہے۔
اسی دوران یہ امکان بھی سامنے آیا کہ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل محدود فوجی کارروائی کی جاسکتی ہے تاہم کسی حملے کی حتمی تاریخ طے نہیں ہوئی تھی۔
ان اطلاعات کے بعد عالمی معیار برینٹ خام تیل کی قیمت 5 فیصد سے زیادہ اضافے کے ساتھ 105.46 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 92.82 ڈالر فی بیرل تک جاپہنچا۔
عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جمعرات کو قیمتوں میں ابتدائی تیزی کے بعد اس وقت کچھ کمی آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری بات چیت کو بھی مفید قرار دیا تھا جس کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی تھی۔
یوں ایران کے خلاف ممکنہ امریکی کارروائی، آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو درپیش خطرات اور خطے میں توانائی کی رسد کے خدشات عالمی تیل منڈی میں شدید اتار چڑھاؤ کا باعث بن رہے ہیں۔

