اسلام آباد: رپورٹ محمد سلیم سے
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نہ لگنے کی اب کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ آپ بتائیں یہ معاملہ کیسے ٹل سکتا ہے، اور مولانا فضل الرحمان سے پوچھیں کہ میں نے اسے روکنے کی کتنی کوشش کی۔
وفاقی حکومت نے صوبے میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ صدر آصف علی زرداری کی زیر صدارت اعلیٰ سطح اجلاس میں، جس میں وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی وزرا شریک تھے، یہ فیصلہ کیا گیا۔ حتمی منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کا اجلاس کل صبح طلب کر لیا گیا ہے۔
ادھر گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ گورنر راج پورے صوبے میں لگے گا جبکہ ایمرجنسی شاید کچھ اضلاع میں نافذ ہو، اور پی ٹی آئی سے مزید مذاکرات کا امکان نہیں۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی اراکین روپوش ہیں یا فرمائشی گرفتاریاں دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر سہیل آفریدی نے کوئی غیر قانونی کام کیا تو وہ اتنے بڑے آدمی نہیں، سب گرفتار ہو سکتے ہیں۔ پی ٹی آئی کارکنوں کے گورنر ہاؤس کے قریب آنے پر انہوں نے سخت ردعمل کی دھمکی بھی دی۔

