نیتن یاہو نے 2024 میں غزہ جنگ بندی معاہدے میں تاخیر کی، سابق امریکی عہدیدار کی تصدیق

2673903 joebidenandn 1725285642


سابق امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار فل گورڈن نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے 2024 میں غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے میں نئی شرائط شامل کرکے اس میں تقریباً چھ ماہ کی تاخیر کی۔

فل گورڈن سابق امریکی نائب صدر کملا ہیرس کے قومی سلامتی کے مشیر رہ چکے ہیں۔

انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ حماس کی جانب سے جنگ بندی کے بنیادی فریم ورک کو قبول کرنے کے بعد امریکی صدر جو بائیڈن نے 4 جولائی 2024 کو نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور معاہدہ طے کرنے پر زور دیا تھا۔

گورڈن کے مطابق حماس نے اس مرحلے پر اپنے اس مطالبے میں نرمی اختیار کرلی تھی کہ یرغمالیوں کی رہائی سے پہلے اسرائیل مستقل جنگ بندی کی ضمانت دے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو نے اپنے سکیورٹی حکام کے مشوروں کے برخلاف متعدد نئی شرائط پیش کردیں، جس کے باعث معاہدہ مزید چھ ماہ تک ممکن نہ ہوسکا۔

گورڈن نے دعویٰ کیا کہ اس عرصے کے دوران تقریباً 9 ہزار مزید فلسطینی جاں بحق ہوئے، جبکہ اسرائیلی یرغمالیوں کی بھی ہلاکتیں ہوئیں۔ اگست 2024 میں حماس کے ہاتھوں ہلاک کیے گئے چھ اسرائیلی یرغمالی بھی ان میں شامل تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل نے غزہ اور مصر کی سرحد پر فوج برقرار رکھنے اور شمالی غزہ واپس آنے والے فلسطینیوں کی نگرانی کے لیے نئی شرائط عائد کی تھیں۔

گورڈن کے مطابق جنوری 2025 میں طے پانے والے معاہدے میں یہ دونوں شرائط ختم کردی گئی تھیں۔

 





Source link

متعلقہ پوسٹ