ملک کی معاشی ترقی کیلیے موثر اقدامات کی ضرورت، احسن اقبال

Ahsan Iqbal1731998287 0



اسلام آباد:

وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے ملک کی موجودہ معاشی پالیسی کو ’’محدود اورادھار پرمبنی استحکام‘‘ قراردیتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف پرزوردیاہے کہ حکومت انتخابی مرحلہ شروع ہونے سے پہلے ملک کی معاشی ترقی کی سمت تبدیل کرنے کیلیے مؤثر اقدامات کرے، کیونکہ آئندہ انتخابات میں عوام کو محض یہ بتاناکافی نہیں ہوگاکہ حکومت کوورثے میں معاشی بحران ملا تھا اور اس نے معیشت کو مستحکم کیا۔

احسن اقبال نے وزیراعظم کو بھیجے گئے تفصیلی مراسلے میں ترقی سے ہم آہنگ مالیاتی استحکام کاآٹھ نکاتی فریم ورک پیش کیاہے۔

ان کاکہناہے کہ پاکستان میں مالیاتی استحکام کاحصول محصولات میں اضافے اور برآمدات بڑھانے کے بجائے ترقیاتی اخراجات میں کٹوتیاں اورمزیدقرض لینے کے ذریعے کیاجا رہا ہے،جوطویل مدت میں معیشت کی پیداواری صلاحیت کوکمزورکرسکتاہے۔

وفاقی وزیرکے مطابق مالیاتی نظم و ضبط ضروری ہے، تاہم اصل سوال یہ ہے کہ مالیاتی ایڈجسٹمنٹ کس نوعیت کی ہے اور اس کے معیشت پر کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں،کوئی ملک مستقبل کی پیداواری صلاحیت پیداکرنیوالے اخراجات میں مسلسل کمی کرکے اور بیرونی مالی ضروریات پوری کرنے کیلیے قرض لیکر مستقل بنیادوں پر اپنی مالی حالت بہتر نہیں بناسکتا۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ 2018 میں وفاقی ترقیاتی اخراجات مجموعی ملکی پیداوارکے 2۔6 فیصدکے برابر تھے، جو رواں مالی سال کم ہوکر 0۔8 فیصد رہ گئے ہیں۔

احسن اقبال نے آئی ایم ایف پروگرام کے انتظام پر تحفظات کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ معاشی پالیسی میں مقداری مالیاتی اہداف کوغیرمعمولی اہمیت دی جا رہی ہے،حالانکہ صرف خسارے کے اعدادوشمار نہیں بلکہ ان اعدادوشمارکے حصول کاطریقہ اور انکی معاشی افادیت بھی اہمیت رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ 2029 میں عوام حکومت کی کارکردگی محض ماضی کے معاشی بحران یامالیاتی استحکام کی بنیاد پر نہیں پرکھیں گے، بلکہ وہ معاشی ترقی، روزگار، آمدنی،سرمایہ کاری، برآمدات،مہنگائی، توانائی کی قیمتوں اور معاشی مواقع کومدنظررکھیں گے۔

احسن اقبال نے تجویز دی کہ وزارت خزانہ اور وزارت منصوبہ بندی مشترکہ طور پر مالی سال 2028-29 تک معیشت کے امکانات کا جائزہ لیں اور وزیراعظم وکابینہ کے سامنے ایک قابلِ اعتماد درمیانی مدت کامعاشی منظرنامہ پیش کریں۔

احسن اقبال نے کہاکہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے، ٹیکس وصولیوں میں خامیوں کودورکرنے اور کم ٹیکس دینے والے شعبوں کو مؤثرطور پر ٹیکس کے دائرے میں لانے کے بجائے ترقیاتی اخراجات کم کیے جارہے ہیں، اس طرزِ عمل کے نتیجے میں بنیادی ڈھانچے، تعلیم، ٹیکنالوجی، آبی تحفظ اور پیداواری صلاحیت میں اضافے کیلیے درکار سرمایہ کاری قربان کرنا پڑرہی ہے، ریاست مناسب محصولات حاصل کرنے میں ناکام ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ محصولات کی کمی مالیاتی دباؤ بڑھاتی ہے،جس  سے ترقیاتی اخراجات کم ہوتے ہیں، عوامی سرمایہ کاری اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی متاثر ہوتی ہے۔احسن اقبال نے حکومت کو ترقی سے ہم آہنگ مالیاتی استحکام کافریم ورک اپنانے اور مالیاتی پالیسی میں بنیادی تبدیلیاں لانے کی سفارش کی ہے۔

ان کی تجاویزکے مطابق  ٹیکس نیٹ وسیع کیاجائے، ٹیکس وصولیوں کو ڈیجیٹل بنایاجائے، نفاذبہترکیاجائے اور کم ٹیکس دینے والے شعبوں پر منصفانہ ٹیکس عائدکیاجائے۔

وزارت خزانہ اور وزارت منصوبہ بندی مشترکہ طور پر مالی سال 2028-29 کیلیے قابلِ پیمائش معاشی اہداف مقررکریں ، مالیاتی استحکام کو صرف پروگرام کی کامیاب تکمیل تک محدودنہ رکھاجائے، اس کے بعدترقی، سرمایہ کاری، برآمدات اور محصولات میں اضافے کیلیے جامع منصوبہ بنایاجائے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ