روسی ڈیزل معاہدے پر ٹرمپ کو اپنی اور مخالف جماعت کی مشترکہ تنقید کا سامنا

trump 111026 d


واشنگٹن — امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے روس سے ڈیزل درآمد کر کے امریکہ اور عالمی منڈیوں کو سپلائی کرنے کے منصوبے پر ریپبلکن اور ڈیموکریٹک جماعتوں کے ارکان نے شدید تنقید کی ہے۔ معاملے نے روس پر دباؤ کم کرنے کے حوالے سے ریپبلکن پارٹی کے اندرونی اختلافات بھی نمایاں کر دیے ہیں، جبکہ انتظامیہ ایران کے ساتھ جنگ کے باعث بڑھتی ایندھن کی قیمتوں سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے۔
صدر ٹرمپ نے جمعے کو ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا تھا کہ روس فوری طور پر امریکہ اور عالمی منڈیوں کو تین لاکھ ٹن سے زائد ڈیزل فراہم کرے گا، نومبر میں پانچ لاکھ ٹن اور بعد ازاں دس لاکھ ٹن ڈیزل فراہم کیا جائے گا۔
ریپبلکن سینیٹر جان کینیڈی نے ایندھن کی قیمتوں کم کرنے کی کوششوں کی حمایت کی، مگر پوتن سے ڈیزل حاصل کرنے کی مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن کبھی امریکہ کا دوست نہیں بن سکتا اور ایران میں جنگ ختم ہونے سے ڈیزل کی قیمتوں میں زیادہ کمی آئے گی۔ سابق رکن ایوان مائیک راجرز نے بھی روسی ایندھن کی درآمد کی مخالفت کی اور کہا کہ انہوں نے کسانوں کے اخراجات کم کرنے کے لیے ایندھن کی برآمدات پر عارضی پابندی کا مطالبہ کیا تھا۔
پنسلوانیا کے ریپبلکن رکن ایوان برائن فٹزپیٹرک نے ’’رونالڈ ریگن پیس تھرو اسٹرینتھ ایکٹ‘‘ کے نام سے دو طرفہ بل پیش کیا ہے، جس کے ذریعے صدر ٹرمپ کو روس پر عائد پابندیاں ختم کرنے سے روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ نیبراسکا کے رکن ایوان ڈان بیکن نے بھی اس بل کی حمایت کی ہے۔
الاسکا کی ریپبلکن سینیٹر لیزا مرکوسکی نے ٹرمپ پر زور دیا کہ وہ روس کو توانائی سے آمدنی بڑھانے کی اجازت دینے کے بجائے اپنے اختیارات استعمال کریں۔
ڈیموکریٹس نے معاہدے کو مزید سخت الفاظ میں مسترد کیا ہے۔ سینیٹ میں اقلیتی لیڈر چک شومر نے اسے ’’شیطان کے ساتھ معاہدہ‘‘ قرار دیا اور الزام لگایا کہ یہ اقدام پوتن کو فائدہ پہنچائے گا، جو ایرانیوں کی مدد کر رہا ہے اور امریکی اتحادی یوکرین پر غیر قانونی حملہ کر چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ پوتن کو سزا کے بجائے انعام دینے کے مترادف ہے۔
نومبر میں ہونے والے کانگریس انتخابات سے قبل بڑھتی مہنگائی اور زندگی کے اخراجات ریپبلکن پارٹی کے لیے سیاسی تشویش کا باعث بنے ہوئے ہیں۔

متعلقہ پوسٹ