راہل گاندھی کی قیادت میں سپریم کورٹ پہنچے مظاہرین، چیف الیکشن کمشنر کے خلاف عرضی دائر

PTI10 12 2026 000213B 1200x600 1


نئی دہلی میں سوموار، 12 اکتوبر 2026 کو چیف الیکشن کمشنر(سی ای سی)گیانیش کمار کے خلاف سپریم کورٹ تک نکالے گئے مارچ کے دوران کانگریس لیڈر راہل گاندھی۔تصویر: پی ٹی آئی/ارون شرما

راہل گاندھی، پرینکا گاندھی واڈرا اور آئیسا کی صدر نہا بورا کی قیادت میں ہزاروں مظاہرین نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف کارروائی اور ان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ ایس آئی آرمیں مبینہ بے ضابطگیوں کے معاملے میں سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی گئی ہے۔

نئی دہلی: کانگریس لیڈر راہل گاندھی، پرینکا گاندھی واڈرا اور آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئیسا)کی صدر نہا بورا کی قیادت میں سوموار(12 اکتوبر)کو ہزاروں مظاہرین چیف الیکشن کمشنر(سی ای سی)گیانیش کمار کے خلاف کارروائی اور ان کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے سپریم کورٹ کی جانب بڑھے۔ تاہم، پولیس نے بھگوان داس روڈ پر مارچ کو روک دیا، جس کے بعد ہزاروں مظاہرین آس پاس کے علاقوں میں ڈٹے رہے۔

آخرکار، چیف الیکشن کمشنر کے خلاف سپریم کورٹ میں ایک عرضی بھی دائر کی گئی ہے۔ اس میں ایس آئی آرکے دوران بڑے پیمانے پر ووٹروں کے نام ہٹانے اور بے ضابطگیوں کے الزامات لگائے گئے ہیں۔

عرضی دائر کرنے والوں میں کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے، ترنمول کانگریس(ٹی ایم سی)کے سوگت رائے، سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو اور راشٹریہ جنتا دل(آر جے ڈی)کے لیڈر تیجسوی پرساد یادو شامل ہیں۔

بھگوان داس روڈ پر پولیس نے مارچ کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔ راہل گاندھی کی قیادت میں ہزاروں مظاہرین سڑک اور آس پاس کے علاقوں میں ڈٹے رہے۔

مارچ سے پہلے راہل گاندھی نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ الگ الگ جگہوں پر کئی مظاہرے نہیں ہو رہے ہیں، بلکہ یہ گیانیش کمار کے خلاف ایک ہی تحریک ہے۔

انہوں نے کہا،’یہاں کئی الگ الگ مظاہرے نہیں ہو رہے ہیں، بلکہ یہ ایک ہی مظاہرہ ہے۔ گیانیش کمار کو ہٹانے اور پھروزیر اعظم اور امت شاہ کے خلاف ہماری لڑائی ہے۔ ہم رکنے والے نہیں ہیں۔‘

راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ چیف الیکشن کمشنر وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال کے دباؤ میں کام کر رہے ہیں۔

یہ مارچ سنیچر، 10اکتوبر کو دہلی میں پولیس کی کارروائی کے ایک دن بعد نکالا گیا۔ اس دن جنتر منتر پہنچنے کی کوشش کرنے والے ہزاروں لوگوں کو پولیس نے حراست میں لے لیا تھا۔

اس سے ایک دن پہلے کاکروچ جنتا پارٹی(سی جے پی)کے لیڈروں سوربھ داس اور آشوتوش رانکا نے دہلی پولیس کو خط لکھ کر ایس آئی آر میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف پرامن مظاہرہ کرنے کے لیے تاریخ مانگی تھی۔

اس کے بعد 12 اکتوبر کو وزارت داخلہ کی طرف  سے جنتر منتر کو مقررہ احتجاجی مقامات کی فہرست سے ہی ہٹانے کا حکم جاری کر دیا گیا۔ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر جنتر منتر کو مقررہ احتجاجی مقامات کی فہرست سے ہٹا دیا گیا ہے۔اب احتجاج کے لیے تین نئے جگہوں کا اعلان کیا گیا ہے- رام لیلا میدان، براڑی میدان اور مشرقی دہلی کا سی بی ڈی میدان۔



Source link

متعلقہ پوسٹ