ٹی وی اینکر اقرار الحسن کے ’اغوا‘ کا معمہ برقرار

399101 1887056263


پاکستان کے معروف ٹی وی اینکر اور ایک سیاسی جماعت کے رہنما اقرار الحسن کے لاہور میں گھر سے اتوار کی شب اٹھائے جانے کے معاملے میں ابہام برقرار ہے۔

نیشنل سائبر کرائمز انویسٹیگیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے عوام راج تحریک کے سربراہ اور اینکر پرسن کو گرفتار کرنے کی تردید کی ہے۔

این سی سی آئی اے حکام نے لاہور میں جوڈیشل مجسٹریٹ کو آگاہ کیا کہ اقرار ان کی تحویل میں نہیں۔

اقرار کے وکیل میاں علی اشفاق نے لاہور ہائی کورٹ میں ان کی بازیابی کے لیے حبسِ بے جا کی درخواست دائر کرنے کا بتایا ہے۔

اقرار کی اہلیہ فرح نے فیس بک پر ایک ویڈیو میں کہا کہ نامعلوم افراد اتوار اور سوموار کی درمیانی شب، تقریباً تین بجے، ان کے گھر میں داخل ہوئے اور ان کے شوہر کو ساتھ لے گئے۔

فرح کا کہنا تھا کہ ان افراد کے ساتھ خواتین اہلکار بھی تھیں جن کے یونیفارم پر انہوں نے این سی سی آئی اے لکھا دیکھا تھا۔

فرح کے مطابق کہ وہ سو رہے تھے جب دروازے کی گھنٹی مسلسل بجنے لگی، جس پر وہ دیکھنے کے لیے باہر آئیں۔

’جب میں نے ٹیرس سے نیچے جھانک کر دیکھا تو چند افراد مکان کے صحن میں اور چند باہر موجود تھے۔‘

اقرار کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ ان افراد نے چہروں پر ماسک پہن رکھے تھے اور وہ کہہ رہے تھے کہ اقرار کو باہر نکالو۔

’بعد ازاں یہ افراد نچلا دروازہ توڑ کر مکان میں داخل ہوئے اور اوپر آ گئے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اقرار کے اہل خانہ نے لاہور کے تھانہ ڈیفنس میں مقدمہ درج کرانے کی کوشش کی لیکن ان کا کہنا ہے کہ پولیس نے درخواست وصول نہیں کی۔

اقرار کے وکیل کا کہنا ہے کہ وہ آج ہی ہائی کورٹ میں حبس بے کی درخواست دائر کریں گے۔

فرح کے مطابق ان کے شوہر کو ساتھ لے جانے والے افراد گھر سے موبائل فون، لیپ ٹاپ، ڈیجیٹل ویڈیو ریکارڈر اور سی سی ٹی وی فوٹیج بھی لے گئے۔

اقرار کی پہلی بیوی قرۃ العین نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ ان کے شوہر کو کس مقصد کے تحت اغوا کیا گیا اس کا کسی کو علم نہیں۔

انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے اپنے شوہر کی بازیابی میں مدد فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔

نیوز اینکر وسیم بادامی نے اپنی ویڈیو میں اقرار کی گرفتاری سے متعلق اطلاعات ملنے کی تصدیق کی۔

ان کا کہنا تھا کہ اقرار کو لے جانے والے اہلکار سادہ کپڑوں میں ملبوس تھے اور ان کے ساتھ خواتین اہلکار بھی موجود تھیں۔

تاحال اقرار الحسن کو گرفتار کیے جانے کی وجوہات سامنے نہیں آسکیں اور نہ ہی ان کے خلاف کسی مقدمے کی تفصیلات جاری کی گئی ہیں۔ حکام کی جانب سے بھی باضابطہ بیان سامنے آنا باقی ہے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ