تہران: ایران نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر خطے میں دوبارہ شدید جنگ شروع ہوئی تو تہران مواصلاتی کیبلز، ڈیٹا سینٹرس اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تنصیبات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
ایران کی سپریم نیشنل سیکوریٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے کہا کہ جنگ ختم کرنے کے لیے ایران کی تجویز پر امریکہ کا تازہ جواب ناکافی ہے۔ ان کے مطابق تہران نے واشنگٹن کو جواب دینا روک دیا ہے اور امریکہ کو کچھ اہم معاملات پر وضاحت دینے کی ضرورت ہے۔
رضائی نے بتایا کہ ایران نے امریکہ کو سات شرائط پیش کی تھیں، جن میں سے کچھ واشنگٹن نے قبول کر لیں، تاہم دیگر شرائط کے بارے میں اب بھی وضاحت موجود نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کے متحدہ عرب امارات اور آبنائے ہرمز کے اطراف بہت مہنگے اثاثے موجود ہیں، جنہیں ایران نے ابھی اپنے اہداف میں شامل نہیں کیا۔ تاہم، جنگ دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں زیرِ سمندر کیبلز، ڈیٹا سینٹرس، اے آئی تنصیبات اور دیگر اہم مقامات ایرانی کارروائی کی زد میں آ سکتے ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق ان ڈیجیٹل تنصیبات کی مالیت دو ٹریلین ڈالر سے زیادہ ہے، جبکہ خطے سے گزرنے والی اہم بین الاقوامی کیبل سسٹمز کو نقصان تجارتی، بینکنگ، فوجی اور اے آئی سے متعلق رابطوں میں وسیع خلل پڑ سکتا ہے۔

