حوثی حملوں کے درمیان سعودی عرب کو دفاعی میزائلوں کی قلت کا سامنا

saudi war houts d


ریاض: حوثیوں کے بڑھتے ہوئے میزائل اور ڈرون حملوں کے درمیان سعودی عرب کو میزائل روکنے والے دفاعی میزائلوں کی مبینہ قلت کا سامنا ہے، جس سے اہم تنصیبات کے تحفظ اور حملوں کی روک تھام کی صلاحیت پر تشویش بڑھ گئی ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق، سعودی حکام کے مطابق مملکت ستمبر کے وسط سے انٹرسیپٹر میزائلوں کی کمی کا شکار ہے اور اس کی وجہ سے حملوں کو روکنے کی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے فرانس، برطانیہ، مصر اور پاکستان سمیت علاقائی و مغربی اتحادیوں سے فضائی دفاع میں مدد طلب کی ہے۔
سعودی حکام کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا کہ وسیع و عریض ملک کو فضائی دفاع سے ڈھانپنا مشکل ہو رہا ہے، اس لیے ریاض میزائل دفاعی بیٹریوں کو ملک بھر میں منتقل کر رہا ہے تاکہ توانائی کی اہم تنصیبات اور شاہی محلے محفوظ رکھے جا سکیں۔
پیر کو ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حوثیوں کے مبینہ تازہ حملے میں ایک شخص ہلاک اور 11 دیگر زخمی ہوئے۔ حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا کہ ہوائی اڈے پر بیلسٹک میزائل اور جنوبی سعودی عرب میں خمیس مشیط ایئربیس پر ڈرون سے حملہ کیا گیا۔
حوثی ترجمان نے بین الاقوامی ایئر لائنز، ہوائی اڈا ملازمین اور مسافروں کو سعودی ہوائی اڈوں اور فضائی حدود استعمال نہ کرنے کی دوبارہ وارننگ دی، البتہ مکہ اور مدینہ کے ہوائی اڈوں اور فضائی حدود کو مستثنیٰ قرار دیا۔
رپورٹ کے مطابق مسئلہ صرف سعودی عرب تک محدود نہیں؛ ایران کے ساتھ چھ ماہ جاری جنگ کے دوران امریکہ کے دفاعی میزائلوں کے ذخائر بھی کم ہو گئے ہیں۔ سعودی عرب نے ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے فوجی مدد کی درخواست کے باوجود واشنگٹن نے براہِ راست فضائی حملوں میں حصہ نہیں لیا، البتہ امریکہ نے مشترکہ کمانڈ کے تحت انٹیلی جنس معاونت کے لیے 100 سے زائد فوجی مشیر تعینات کیے ہیں۔
سعودی حکام نے اس بات کی تحقیق شروع کر دی ہے کہ ریاض ہوائی اڈے پر میزائل اور ڈرونز کے باراج کو روکنے میں فضائی دفاعی نظام کیوں ناکام رہا۔ ابتدائی جائزے کے مطابق حوثیوں نے متعدد ڈرونز استعمال کر کے کروز اور بیلسٹک میزائلوں کے راستے کھولے

متعلقہ پوسٹ