واشنگٹن — امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ان دعوؤں کی تردید کی ہے کہ چین اور روس امریکہ کے خلاف جنگ میں ایران کی مدد کر رہے ہیں۔ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ اگر بیجنگ اور ماسکو ایسا کر بھی رہے ہیں تو مدد بہت محدود سطح پر ہے، لیکن انہیں یقین نہیں کہ وہ ایسا کر رہے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ چین اور روس کے پاس مدد کے ذریعے کھونے کے لیے بہت کچھ ہے اور امریکہ کو ایسی کسی مدد کا علم بہت جلد ہو جائے گا۔ انہوں نے ان دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات پر بالکل یقین نہیں رکھتے کہ دونوں ممالک ایران کی مدد کر رہے ہیں۔
ایران کا ردِعمل
دوسری جانب، ایرانی پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر حمید رضا حاجی بابائی نے کہا کہ واشنگٹن اپنے اتحادیوں کو متحد کرنے میں ناکام رہا ہے اور اپنے اہداف کے حصول میں امریکہ ”تنہا کھڑا ہے۔“ سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق، انہوں نے ایران کے خلاف ٹرمپ کی دھمکیوں کو امریکی مایوسی قرار دیا۔
قطر کا موقف
قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے شوریٰ کونسل سے خطاب میں خلیج اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو محفوظ بنانے اور توانائی کی تنصیبات و شہری بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کے لیے کوششوں کو دوگنا کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے ایران کے حملوں کو قطر کی خودمختاری کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔
امیر قطر نے کہا کہ خلیج تعاون کونسل کی ریاستوں کی سیکورٹی اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے آبنائے ہرمز کی بندش اور راس لفان توانائی کی تنصیب کو پہنچنے والے نقصان کو قطر کی برآمدات کے لیے بڑی رکاوٹ قرار دیا۔
ایران میں معاشی دباؤ
ایران نے ضروری اشیاء اور ادویات کے لیے غیر ملکی کرنسی محفوظ رکھنے کے لیے ہوٹل مالکان اور بیرونِ ملک مقیم ایرانیوں کی جانب سے گاڑیوں کی درآمد عارضی طور پر معطل کر دی ہے۔ حکومتی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے کہا کہ ملک کے خصوصی حالات کے پیشِ نظر صدر نے غیر ترجیحی امور کے لیے غیر ملکی کرنسی کی فراہمی روک دی ہے۔

