دہشت گردی – ایکسپریس اردو

2729274 SalmanAbid 1729532257


بلوچستان اور خیبر پختونخواہ دہشت گردی کی لپیٹ میں ہیں۔داخلی یا خارجی دونوں عوامل ہمیں اس جنگ میں دیکھنے کو ملتے ہیں۔ دہشت گرد براہ راست ہماری داخلی رٹ چیلنج کرتے ہیں ۔روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی دہشت گردی کے واقعات کی وجہ سے ہمارا سیاسی،معاشی سمیت مجموعی طور پر سیکیورٹی کا نظام بھی متاثر ہورہا ہے۔وفاقی حکومت کی طرف سے ایسی پالیسیاں بھی اختیار کی گئیں کہ ان سے بات چیت اور مفاہمت کی بنیاد پر پرامن راستہ نکل سکے۔لیکن اس میں بھی ہمیں ابھی تک کوئی بڑی کامیابی نہیں مل سکی۔

یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ کہیں نہ کہیں دہشت گردوں کو سیاسی جگہ فراہم کی جاتی ہے، جس کی وجہ سے دہشت گرد مسلسل ہماری سرکاری رٹ کو چیلنج کرکے سرکاری ڈھانچے کو کمزور کرتے ہیں۔بلوچستان کی سطح پر دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے صوبائی حکومت کا مکمل تعاون وفاقی اداروں اور وفاقی حکومت کو حاصل ہے لیکن اس کے برعکس خیبر پختونخواہ میں موجود پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کے بارے میں ریاست اور وفاقی حکومت سمجھتی ہے کہ ان کو پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت سے نہ کوئی تعاون مل رہا بلکہ صوبائی حکومت نہ صرف دہشت گردوں کی براہ راست سطح کی سرپرستی اور سہولت کاری کررہی ہے جو وفاق یا ریاست کے لیے نئے مسائل پیدا کرنا چاہتی ہے۔

 ٹکراو کی حکمت عملی اور پالیسی کسی بھی سطح پر مسائل کا حل نہیں ہے ،وفاق اور صوبے کا دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے ایک پیچ پر ہونا ہی مسائل کا حل ہے ۔ اب وفاق ،سیکیورٹی اداروں اور صوبائی اداروں کے درمیان یک سوئی سامنے آنا چاہیے۔تاکہ وفاق اور صوبے ایک دوسرے کے مسائل کو سمجھ کر آگے بڑھیں۔اس کے لیے وفاق اور صوبائی سطح پر ایک اپیکس کمیٹیوں کا ماڈل موجود ہے ۔

اس ماڈل کے تحت وفاقی اور صوبائی حکومتیں سمیت سیکیورٹی ادارے مشترکہ حکمت عملی اختیار کرکے آگے بڑھ سکتے ہیں۔اس وقت ضرورت اس امر کی ہے وفاق اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل ایک ہنگامی سطح کا اجلاس ہو جو بالخصوص بلوچستان اور خیبر پختونخواہ سے جڑے سیکیورٹی کے حالات پر بات چیت کرکے متفقہ پالیسی اختیار کرے۔ اگر وفاق اور سیکیورٹی ادارے سمجھتے ہیں تو ان معاملات پر ان کیمرہ سیشن بھی ہوسکتا ہے۔کیونکہ ہمار ا مقصد آگے بڑھنا ہے۔

وفاق کو بہت کچھ سمجھنا ہے ۔ اسی طرح پی ٹی آئی کو بطور سیاسی جماعت اس تاثر کی دو ٹوک انداز میں نفی کرنا ہوگی کہ وہ دہشت گردی کے خاتمہ میں سنجیدہ نہیں یا ان کی سیاسی مددگار ہیں۔ پی ٹی آئی کو برملا کہنا چاہیے کہ ہم وفاق سمیت سیکیورٹی اداروں کے ساتھ ہر فورم پر بیٹھنے کے لیے تیار ہیںاور دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں ہم کوئی کمزوری کسی بھی سطح پر نہیں دکھائیں گے ۔ر تنہا چلنے سے کوئی فائدہ ہوا ہے نہ آگے ہوگا۔

اصل میں جہاں حکومت اور سیکیورٹی اداروں کو آپریشن درکار ہے وہاں آپ مقامی لوگوں کی حمایت اور اعتماد میں لیا جانا انتہائی ضروری ہے۔ مقامی لوگوں کی حمایت اور ان کے تحفظات کو دور کرنا وفاقی اور صوبائی حکومتوں اور تمام سیاسی و مذہبی قیادت کی مشترکہ ذمے داری ہے اور ان کو سیکیورٹی اداروں سے جوڑ کر محض نہیں دیکھا جانا چاہیے۔اسی طرح عوامی حمایت کا ایک بڑا نقطہ وہاںلوگوں کے سماجی اور بنیادی نوعیت کے مسائل ہیں اور پر توجہ دے کر عوامی حمایت کا حصول ممکن نہیں۔

 خیبر پختونخوا میں ایک منصوبہ بندی اور حکمت عملی کے تحت ریاست،حکومت اور عوام کی سطح پر جو خلیج پیدا کی گئی ہے ، انھی وجوہات کی بنا پر ملک میں عسکریت پسندی اور دہشت گردی کو عملا بڑھاوا ملا ہے۔جب تک ہماری داخلی سیاست میں تقسیم،تناو،محاذ آرائی اور ٹکراو یا ایک دوسرے کو قبول نہ کرنے کی سیاست جاری رہے گی، ہم کبھی عسکریت پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ سے نمٹنے میں کامیاب نہیں ہوسکیں گے۔

ہمیں داخلی سیاست کا بحران ختم کرنا ہوگا اور جو سیاسی ڈیڈ لاک قومی سیاست میں موجود ہے اس خاتمہ ہی ہونا چاہیے۔کیونکہ ایک بات ہمیں سمجھنی ہوگی کہ اگر ہم اسی طرح سیاسی طور پر تقسیم رہے تو نہ تو ہم سیکیورٹی اور دہشت گردی سے نمٹ سکیں گے بلکہ مجموعی طور پر نظام میں سیاسی ومعاشی سطح کا استحکام بھی ممکن نہیں۔کیونکہ دہشت گردی کا براہ راست تعلق سیاسی اور معاشی کمزوریوں سے بھی جڑا ہوا ہے۔اس لیے ریاست اور حکومت کو اس اہم مسئلہ کے حل پر جامع پالیسی درکار ہے۔

 عسکریت پسندی اور دہشت گردی کے پھیلاو کی بڑی وجہ بھارت اور افغانستان ہیں۔ہمارے داخلی عدم استحکام کی وجہ ان دونوں ملکوں کی مشترکہ پالیسی اورپراکسی وار پر مبنی حکمت عملی بھی ہے۔ہم سفارت کاری کے محاذ پر مسلسل بھارت اور افغانستان کے دوہرے تضادات کو نمایاں کررہے ہیں۔لیکن ایسے لگتا ہے کہ سفارت کاری یا ڈپلومیسی کے محاذ پر ہمیں اب بھی بہت زیادہ سیاسی اور سفارتی سرمایہ کاری درکار ہے۔

کیونکہ بنیادی طور پر ہمیں افغانستان حکومت کی جانب سے کالعدم ٹی ٹی پی کے خلاف عملی اقدامات پر کوئی جواب نہیں مل رہا اور کالعدم ٹی ٹی پی بدستور ہماری داخلی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ بنی ہوئی ہے۔ اس لیے اب ضرورت بنتی جارہی ہے کہ ہم سیکیورٹی پالیسی اور دہشت گردی کے خلاف بنائی گئی پالیسیوں کا دوبارہ جائزہ لیں اور اس میں جو بھی داخلی اور علاقائی سطح کی رکاوٹیں آرہی ہیں اس پر نئی حکمت عملی درکار ہے۔

سیاسی جماعتیں چاہیں وہ پارلیمنٹ کا حصہ ہیں یا پارلیمنٹ سے باہر ان کو اعتماد میں لے کر آگے بڑھنا ہماری مجبوری ہے۔ ان مسائل کو پارلیمانی مباحث سے نظر انداز کرنے کی پالیسی بھی درست نہیں اور ہم کو عملی اقدامات سے قبل پارلیمان کے تمام ارکان کو اعتماد میں لینا ہوگا۔بالخصوص خیبر پختونخواہ میں تمام سیاسی جماعتوں اور صوبائی حکومتوں کو اعتماد میں لے کر ہی آگے بڑھنا ہوگا۔اگر حکومت سمجھتی ہے کہ خیبر پختونخواہ میں صوبائی حکومت کی جانب سے عدم تعاون کی بنیاد صوبہ میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے گورنر راج یا ایمرجنسی کا نفاذ لازمی ہے تو اب دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ دینا چاہیے ۔





Source link

متعلقہ پوسٹ