پاکستان کے وزیر دفاع نے منگل کو کہا کہ سعودی عرب میں واقع اسلام کے مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے پاکستان کے تمام وسائل سعودی عرب کو دستیاب ہیں۔
انہوں نے اس بیان کے ذریعے سعودی عرب کی سلامتی کے لیے اسلام آباد کے عزم کا اعادہ کیا۔
وزیر دفاع کا یہ بیان یمن کے ایران نواز حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور دیگر شہری تنصیبات پر پے در پے حملوں کے بعد سامنے آیا۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
ان حملوں میں ایک درجن سے زائد افراد جان سے گئے جبکہ سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔
سعودی عرب پر ان حملوں نے امریکہ اور ایران کے درمیان تنازعے کے علاقائی اثرات مزید پھیلنے سے متعلق خدشات کو بڑھا دیا ہے۔
پاکستان نے ستمبر 2025 میں سعودی عرب کے ساتھ دوطرفہ دفاعی معاہدہ کیا تھا، جبکہ رواں سال اگست میں سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ سہ فریقی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
پاکستان حالیہ بیانات میں حوثیوں کو سعودی عرب پر حملوں کے خلاف بارہا خبردار کر چکا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے نجی نشریاتی ادارے ’وی نیوز‘ سے گفتگو میں کہا، ’پاکستان کے تمام وسائل سعودی عرب کے لیے دستیاب ہیں۔ وہ ہمارا برادر ملک ہے اور ہمارے مذہب کے مقدس مقامات وہاں واقع ہیں۔ میرا خیال ہے کہ ان کا تحفظ کرنا اور اپنے تمام وسائل ان کے لیے مہیا کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’یہ وسائل اس وقت بھی فراہم کیے جا رہے ہیں اور آئندہ ہر مرحلے پر ہم سعودی عرب کے دشمنوں کے مقابلے میں اس کی سرزمین کے دفاع کے لیے اپنے سعودی بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔‘
خواجہ آصف کا یہ بیان سعودی عرب کی قیادت میں یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے لیے قائم اتحاد کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا، جس میں کہا گیا تھا کہ اتحادی افواج نے حوثیوں کی جانب سے سعودی دارالحکومت ریاض کی طرف داغے گئے ایک بیلسٹک میزائل کو فضا میں روک کر ناکارہ بنا دیا ہے۔
حوثی گذشتہ ہفتے سے سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور تیل کی تنصیبات پر حملے کر رہے ہیں۔
ہفتے کو شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حوثیوں کے حملوں میں 13 افراد جان سے گئے اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔
اس سے قبل بدھ اور جمعرات کو ہونے والے حملوں میں چار افراد جان سے گئے تھے، جبکہ اتوار کو ایک اور شخص کی موت ہوئی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
گذشتہ ہفتے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے ایک ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے اجلاس کے دوران سعودی عرب کے دفاع کے عزم کا اظہار کیا تھا۔
شہباز شریف نے اتوار کو کہا ’سعودی عرب کے دفاع کے حوالے سے ہمارا ایک دوطرفہ اور ایک سہ فریقی معاہدہ موجود ہے۔ پاکستان کسی بھی قسم کی جارحیت برداشت نہیں کرے گا۔ ہمارے معاہدوں کا بھی یہی تقاضا ہے اور ہمارے برادرانہ تعلقات کا بھی۔‘
اس سے قبل پاکستان کی فوج کے ایک ترجمان نے حال ہی میں طے پانے والے مکہ سہ فریقی دفاعی اتحاد کے تناظر میں سعودی عرب میں پاکستانی فوجیوں کی موجودگی کی تصدیق کی تھی۔
پاکستان کے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ’میں تصدیق کر سکتا ہوں کہ ہم، یعنی پاکستان کی مسلح افواج، پہلے ہی وہاں (سعودی عرب میں) موجود ہیں۔ میں آپ کو اس بات کی یقین دہانی کرا سکتا ہوں۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا مکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستانی فوجی اہلکار سعودی عرب میں تعینات ہیں تو انہوں نے کہا:
’جی ہاں، پاکستانی فوجی کئی دہائیوں سے وہاں مختلف ذمہ داریوں کے تحت موجود ہیں۔ پاکستانی فوجی سعودی عرب میں کئی دہائیوں سے تعینات ہیں۔‘

