اپنے جمہوری جواز پر یقین رکھنے والی حکومتیں شہریوں کے اکٹھے ہونے سے خوف زدہ نہیں ہوتیں

jantar mantar pti


جنتر منتر محض ایک جغرافیائی مقام نہیں،یہ وہ جگہ ہے جہاں انفرادی بے چینی اجتماعی طور پر سیاسی اظہار کی صورت اختیار کرتی ہے۔تصویر:پی ٹی آئی

جب اختلاف رائے کے لیے مختص جگہیں بند کر دی جاتی ہیں، تو اختلاف ختم نہیں ہوتا۔ وہ نئی جگہیں تلاش کرتا ہے، نئی علامتیں تخلیق کرتا ہے اور جمہوری تخیل کا ایک نیا جغرافیہ تشکیل دیتا ہے۔ آپ جنتر منتر کو احتجاج کے مقام کی فہرست سے ہٹا سکتے ہیں، لیکن اختلاف رائے کو نہیں۔

آئیے، ایک بات بالکل صاف کر لیں۔ دہلی پولیس کو جنتر منتر سے احتجاجی مظاہروں کے لیے مختص مقام کا درجہ واپس لینے کا مشورہ، سفارش یا ہدایت جس نے بھی دی ہے، اس نے انجانے ہی میں سہی، اقتدار کے بڑھتے ہوئے عدم تحفظ کو بے نقاب کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ جتنا انتظامی نظر آتا ہے، اس سے کہیں زیادہ سیاسی ہے۔ اس کے پس پردہ  ایسی ذہنیت کارفرما نظر آتی ہے جو شہریوں کے اختلاف رائے ہی سے نہیں، بلکہ ان کی مادی موجودگی سے بھی بے چین ہونے لگی ہے۔

جن حکومتوں کو اپنے جمہوری جواز پر بھروسہ ہوتا ہے، وہ شہریوں کے اکٹھے ہونے سے خوف زدہ نہیں ہوتیں۔ وہ مظاہرین سے اختلاف کر سکتی ہیں، ان کے دلائل کو چیلنج کر سکتی ہیں اور ان کے مطالبے کو مسترد بھی کر سکتی ہیں۔ لیکن جب شہریوں کا پرامن طور پر اکٹھا ہونا ہی اقتدار کے لیے باعث تشویش ہو جائے، تو سوال مظاہرین سے زیادہ جمہوریت کے بارے میں حکومت کی اپنی فہم وفراست پر اٹھتا ہے۔

اسے ایک سادہ سی مثال سے سمجھیے۔باقاعدگی سے صحت کا معائنہ اس لیے ضروری ہے کہ اس سے جسم کے اندر پنپنے والے ان مسائل کا بھی پتہ چلتا ہے جو عام طور پر نظر نہیں آتے۔ جمہوریت کی زندگی میں احتجاجی مظاہرے بھی کچھ ایسا ہی رول ادا کرتے ہیں۔ وہ شہریوں کی شکایتوں، ادارہ جاتی ناکامیوں اور سرکاری دعووں اور عام لوگوں کے حقیقی تجربات کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے کو نمایاں کرتے ہیں۔

احتجاج کو عوامی منظرنامے سے ہٹا دینا کچھ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص طبی جانچ کے نتائج سے پریشان ہو کر جانچ کرنے والے آلات  کو ہی ہٹا دے۔ بیماری اپنی جگہ بنی رہتی ہے، صرف اس کا پتہ لگانے کا راستہ بند کر دیا جاتا ہے۔

جنتر منتر کا سوال اس لیے صرف دہلی کے ایک مقام کا سوال نہیں ہے۔ یہ عوامی مقامات، اقتدار اور جمہوری شہریت کے درمیان تعلقات کا سوال ہے۔ کچھ لوگ پوچھ سکتے ہیں کہ مظاہرین جنتر منتر پر ہی کیوں جمع ہونا چاہتے ہیں؟ وہ دہلی کے مضافات میں کسی مخصوص مقام پر مظاہرہ کیوں نہیں کر سکتے؟

ان سوالوں میں انتظامی سہولت کی فکر تو دکھائی دیتی ہے، لیکن سماجی تحریکوں کے سیاسی جغرافیے کی سمجھ کا فقدان بھی واضح ہو جاتاہے۔ سماجی تحریکیں محض کسی مقام پر موجود نہیں ہوتیں، بلکہ اپنی موجودگی سے اس جگہ  کا سیاسی مفہوم بھی تشکیل دیتی ہیں۔

فرانسیسی فلسفی ہنری لیفیبر نے جگہ کی سماجی تشکیل کا تصور پیش کرتے ہوئے بتایا تھا کہ کوئی بھی جگہ سیاسی لحاظ سے غیر جانبدار نہیں ہوتی۔ جگہ اقتدار کے رشتوں کی عکاسی کرتی ہے، لیکن وہی جگہ ان رشتوں کو چیلنج کرنے کا وسیلہ بھی بن سکتی ہے۔ پارلیامنٹ کے قریب ہونے والے مظاہرے اور راجدھانی سے کئی کلومیٹر دور کسی غیر آباد جگہ پر ہونے والے مظاہرے کے سیاسی معنی یکساں نہیں ہو سکتے۔

نعرے ایک جیسے ہو سکتے ہیں، مطالبات بھی یکساں ہو سکتے ہیں، لیکن پہلی صورت میں شہری علامتی طور پر اقتدار سے مکالمہ قائم کرتے ہیں، جبکہ دوسری صورت میں ان کی آواز کو اقتدار سے سہولت بخش دوری پر پہنچا دیا جاتا ہے۔

جمہوریت میں اقتدار سے نزدیکی صرف جغرافیہ کا سوال نہیں، بلکہ جوابدہی کی زبان کا حصہ بھی ہے۔ چارلس ٹلی کے سماجی تحریکوں اور نزاعی سیاست سے متعلق مطالعات ہمیں بتاتے ہیں کہ دھرنا، جلوس، عوامی جلسہ اور اجتماعی موجودگی جیسے طریقے شہریوں اور اقتدار کے درمیان طویل تاریخی تعلقات کے نتیجے میں وجود میں آتے ہیں۔ سڈنی ٹیرو نے سیاسی مواقع کی ساخت کے تصور کے ذریعے سمجھایا کہ تحریکوں کے امکانات کا انحصار اس بات پر بھی ہوتا ہے کہ اقتدار شہریوں کو کتنی جگہ فراہم کرتا ہے اور ان کی اجتماعی کارروائی کے تئیں اس کا رویہ کیسا ہے۔

اس  نظر سے دیکھا جائے تو احتجاج کے لیے مختص مقامات تک رسائی محدود کرنا محض ٹریفک مینجمنٹ یا امن و امان کا معاملہ نہیں رہ جاتا۔ یہ جمہوری شمولیت کے امکانات کو محدود کرنے کی کوشش بھی بن سکتا ہے۔

دنیا کی تحریکوں کی تاریخ ہمیں عوامی مقامات کی سیاسی اہمیت یاد دلاتی ہے۔ قاہرہ کا تحریر اسکوائر مصر کی عوامی بغاوت کی یادوں سے وابستہ ہو گیا۔ چین کے تیانانمن اسکوائر نے اپنے طبعی حجم سے کہیں زیادہ وسیع سیاسی معنی حاصل کیے۔ نیویارک کے زوکوٹی پارک نےآکیوپائی وال اسٹریٹ تحریک کے دوران معاشی عدم مساوات کے خلاف مزاحمت کی علامتی شکل اختیار کر لی۔

ان مثالوں کے تاریخی حالات اور سیاسی نتائج مختلف رہے ہیں، لیکن ان میں ایک بات مشترک ہے۔ عوامی مقامات محض شہر کے نقشے کا حصہ نہیں ہوتے، بلکہ وہ شہریوں کی سیاسی یادداشتوں اور جمہوری عزائم کا بھی حصہ بن جاتے ہیں۔ ہندوستان کے جمہوری جغرافیہ میں جنتر منتر کو بھی ایسی ہی ایک خصوصی  حیثیت حاصل ہے۔

یہاں کسانوں نے اپنی بپتا سنائی ہے، طلبہ نے اپنے مستقبل کے لیے آواز بلند کی ہے، مزدوروں نے حقوق کا مطالبہ کیا ہے، خواتین نے انصاف کی مانگ کی ہے اور ان بے شمار شہریوں نے اپنی موجودگی درج کرائی ہے جن کے خدشات کو رسمی سیاسی اداروں میں خاطر خواہ جگہ نہیں مل پاتی۔

ان تحریکوں کی نظریاتی سمتیں ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہی ہیں۔ کچھ نے ایک جماعت کی حکومت کی مخالفت کی، تو کچھ نے دوسری جماعت کی حکومت کے خلاف آواز اٹھائی۔ لیکن ان سب کے درمیان ایک مشترک عقیدہ یہ  رہا ہے کہ شہریت کا مطلب صرف ہر پانچ سال میں ایک بار ووٹ ڈالنا نہیں ہے۔

میں گزشتہ کئی دہائیوں سے احتجاجی مظاہروں اور سماجی تحریکوں کے بارے میں  پڑھاتا آیا ہوں۔ ان سوالوں سے میرا تعلق کبھی کلاس کی چہار دیواری تک محدود نہیں رہا۔ گزشتہ چند مہینوں کے تجربات نے ایک بار پھر یہ ظاہر کیا ہے کہ جب نمائندگی کے قائم شدہ ادارے شہریوں کی بات سننے میں ناکام ہونے لگتے ہیں، تو ادارہ جاتی سیاست اور تحریکوں کی سیاست کے درمیان فاصلہ تیزی سے کم ہونے لگتا ہے۔

خصوصی طور پر نوجوان مظاہرین کے لیے جنتر منتر محض ایک جغرافیائی مقام نہیں ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں انفرادی بے چینی اجتماعی طور پر سیاسی اظہار کی صورت اختیار کرتی ہے۔ کسی طالبعلم کی امتحان سے متعلق پریشانی، کسی بے روزگار نوجوان کی مایوسی اور کسی شہری کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا تجربہ یہاں ذاتی دکھ کی حدود سے نکل کر ایک عوامی مسئلہ بن جاتا ہے۔ جمہوریت کی بنیادی فطرت بھی یہی ہونی چاہیے۔ انفرادی تکلیف کو عوامی تشویش میں تبدیل کرنے کے عمل سے جمہوریت مضبوط ہوتی ہے، کمزور نہیں۔

جغرافیہ داں ڈان مچل نے عوامی مقامات پر جدوجہد کو سیاسی طور پر دکھائی دینے کے حق سے جوڑا ہے۔ ان کے خیالات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ عوامی مقامات جمہوری اس لیے بنتے ہیں کہ شہری وہاں ان سوالوں کو اٹھا سکتے ہیں جنہیں قائم شدہ ادارے نظرانداز کر دیتے ہیں۔

کوئی حکومت احتجاج کے حق کو باضابطہ طور پر تسلیم کرتے ہوئے بھی یہ یقینی بنا سکتی ہے کہ مظاہرے صرف انہی مقامات پر ہوں جہاں انہیں کوئی دیکھ نہ سکے، سن نہ سکے اور جہاں سے ان کی آواز اقتدار تک پہنچ ہی نہ پائے۔ ایسے نظام میں جمہوریت کی لفظیات اور اصطلاحات تو باقی رہتی ہیں، لیکن اس کی روح دھیرے دھیرے کمزور ہونے لگتی ہے۔

ہندوستانی آئین کا آرٹیکل 19(1)(بی)شہریوں کو پرامن اور غیر مسلح اجتماع کا حق دیتا ہے۔ بلاشبہ، یہ حق معقول پابندیوں سے مشروط ہے۔ سپریم کورٹ نے بھی پرامن احتجاج اور دیگر عوامی مفادات کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی ضرورت کو تسلیم کیا ہے۔ لیکن اس توازن کو ایسی انتظامی سہولت میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا جس کے تحت اختلاف رائے کے ہر نمایاں اظہار کو خلل یا رکاوٹ سمجھ لیا جائے۔

آخرکار، جمہوری طرز حکمرانی کا مقصد اقتدار کو تکلیف سے بچانا نہیں، بلکہ اسے جوابدہ بنائے رکھنا ہے۔ مینوئل کاسٹیلز نے نیٹ ورک پر مبنی سماجی تحریکوں کا تجزیہ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ڈیجیٹل نیٹ ورک اور طبعی عوامی مقامات مل کر اجتماعی سیاسی سرگرمی کی نئی صورتیں تشکیل دیتے ہیں۔ آج کے دور میں ایک ہیش ٹیگ لاکھوں لوگوں تک عدم اطمینان کا پیغام پہنچا سکتا ہے، لیکن سڑک پر شہریوں کی اجتماعی موجودگی اس عدم اطمینان کو انسانی چہرہ عطا کرتی ہے۔

ڈیجیٹل دنیا میں اختلاف رائے درج ہوتا ہے، عوامی مقامات پر وہ براہ راست اقتدار سے سوال کرتا ہے۔ اقتدار کے ایوانوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ بیریکیڈ لگانے سے شکایتیں ختم نہیں ہوتیں۔ اجازت دینے سے انکار کرنے پر ناانصافی چھپتی نہیں ہے۔ اور شہریوں کو اقتدار کے اداروں سے دور بھیج دینے سے ان کے سوال غیر متعلق نہیں ہو جاتے۔

سماجی تحریکوں کی تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ پرامن احتجاج کے راستوں کو لگاتار محدود کرنا بعض اوقات ایسے حالات پیدا کر دیتا ہے جن سے حکومتیں بچنا چاہتی ہیں۔ جب مکالمے کے راستے بند ہوتے ہیں، تو بے اطمینانی اپنے لیے نئے راستے تلاش کرتی ہے۔

یہاں ایک بنیادی سیاسی بھول سے بچنا ضروری ہے۔ انتخابی اکثریت حکومت بنانے کا حق دیتی ہے، شہریوں کی آواز پر اجارہ داری نہیں۔ عوامی مینڈیٹ حکمرانی کے جواز کی بنیاد ہے، لیکن یہ مسلسل جوابدہی کا متبادل نہیں ہو سکتا۔

جمہوریت میں شہری محض وہ لوگ نہیں ہیں جن پر حکومت کی جاتی ہے۔ وہ جمہوریہ کی تشکیل میں شریک بھی ہیں۔ ان کی رضامندی جتنی اہم ہے، ان کا اختلاف رائے بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ جنتر منتر کو اس لیے راجدھانی کے لیے ایک پریشانی کے بجائے اس کے جمہوری اثاثے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ یہ اقتدار کو لگاتار یاد دلاتا ہے کہ جمہوریہ پر اتنا ہی حق ان شہریوں کا بھی ہے جو حکومت کی تعریف کرتے ہیں، جتنا ان کا جو اس سے سوال پوچھتے ہیں۔

کسی حکومت کی جمہوری پختگی کا اندازہ اس بات سے نہیں ہوتا کہ وہ اپنے حامیوں کے لیے کتنی جگہ بناتی ہے۔ اصل پیمانہ یہ ہے کہ وہ اپنے ناقدین کی موجودگی کو کتنی آسانی سے قبول کرتی ہے۔ اور آخر میں، اقتدار کو ایک بات سمجھ لینی چاہیے۔ جنتر منتر صرف دہلی کے نقشے پر درج ایک مقام نہیں ہے۔ یہ شہریوں کی یادوں، جدوجہد اور امیدوں میں زندہ ایک جمہوری علامت ہے۔ اسے انتظامی حکم کے ذریعے ہٹانے کی کوشش شاید آسان ہو، لیکن اس کے سیاسی مفہوم کو ختم کرنا ناممکن ہے۔

جب اختلاف رائے کے لیے مختص مقامات بند کر دیے جاتے ہیں، تو اختلاف ختم نہیں ہوتا۔ وہ نئی جگہیں تلاش کرتا ہے، نئی علامتیں تخلیق کرتا ہے اور جمہوری تصور و تخیل کا ایک نیا جغرافیہ تشکیل دیتا ہے۔ آپ جنتر منتر کو مظاہروں کے مقامات کی فہرست سے نکال سکتے ہیں، لیکن اختلاف رائے کو نہیں۔ اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ کسی بھی سرکاری نوٹیفکیشن کے ذریعے شہریوں کے جمہوری شعور کو ختم نہیں کر سکتے۔

کیونکہ جنتر منتر محض ایک جگہ کا نام نہیں ہے۔ یہ اس جمہوری یقین کا نام ہے کہ اقتدار خواہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، شہریوں کو اس سے سوال پوچھنے کا حق ہمیشہ حاصل رہے گا۔

(یہ تحریر 12 اکتوبر کو انڈین ایکسپریس میں شائع مضمون کا کم وبیش ترجمہ ہے)

(منوج کمار جھا راشٹریہ جنتادل کے راجیہ سبھا ممبر ہیں)



Source link

متعلقہ پوسٹ