’صبح بیٹے نے ناشتہ کیا اور مجھ سے جیب خرچ لے کر مسکراہٹ کے ساتھ سکول رخصت ہو گیا، لیکن دکان میں بیٹھا تھا کہ گھر سے کال آ گئی کہ سکول کی چھت گر گئی ہے۔‘
یہ کہنا تھا سعید آباد علاقے سے تعلق رکھنے والے اسداللہ کا، جن کا 10 سالہ بیٹا اور بھتیجا دیر کالونی کے سکول واقعے میں جان سے گئے ہیں، جس میں مجموعی طور پر 35 بچے جان سے چلے گئے ہیں۔
بیٹے اور بھتیجے کے علاوہ مجموعی طور پر ان کے خاندان کے پانچ بچے اس واقعے میں جان سے گئے ہیں، جن کی عمریں آٹھ سے 10 سال کے درمیان ہیں۔
اپنے حجرے میں فاتحہ خوانی کے لیے بیٹھے اسداللہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ بچے نے صبح ناشتہ کیا اور مسکراہٹ کے ساتھ سکول رخصت ہو گیا، لیکن اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔
انہوں نے بتایا، ’میں اپنی دکان میں بیٹھا تھا کہ گھر سے کال آ گئی کہ سکول کی چھت گر گئی ہے اور بچے ملبے تلے دبے ہیں۔ جلدی میں سکول چلا گیا اور وہاں پتا چلا کہ بیٹا، بھتیجا اور خاندان کے مجموعی طور پر پانچ بچے جان سے گئے ہیں۔‘
سکول کی کچی عمارت کے حوالے سے سوال پر اسداللہ نے بتایا کہ اللہ کو یہ سانحہ منظور تھا اور اسی پر ہمارا صبر ہے، کیونکہ یہ واقعہ کسی پکے سکول کی عمارت میں بھی پیش آ سکتا تھا۔
واقعہ کیسے پیش آیا؟
ریسکیو 1122 کے ترجمان بلال فیضی کے مطابق تقریباً صبح نو بجے ریسکیو کو کال موصول ہوئی کہ دیر کالونی میں نجی سکول کی عمارت گر گئی ہے، جس میں بچے ملبے تلے دبے ہیں۔
ریسکیو حکام کے مطابق دوسری منزل پر نرسری اور پہلی منزل پر گریڈ ون کے بچے بیٹھے تھے کہ بالائی منزل کی چھت گرنے سے پہلی منزل کی چھت بھی گر گئی، جس سے بچے ملبے تلے دب گئے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ ریسکیو حکام جائے وقوعہ پر پہنچ کر امدادی کارروائیاں شروع کیں اور زخمیوں کو قریبی ہسپتالوں میں منتقل کرنا شروع کیا۔
سب سے زیادہ زخمیوں کو پشاور کے بڑے سرکاری ہسپتال لیڈی ریڈنگ منتقل کیا گیا تھا، اور ہسپتال حکام کے مطابق واقعے میں سکول کی دو خاتون اساتذہ اور 35 بچے جان سے گئے ہیں، جن کی عمریں چھ سے 13 سال کے درمیان ہیں۔
پشاور کے ایس ایس پی آپریشنز فرحان خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ سکول کے پرنسپل کو حراست میں لیا گیا ہے اور ان کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا۔
واقعے کے عینی شاہد زاہد سلیم نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ جب وہ عمارت کے اندر گئے تو بچے رو رہے تھے اور مدد کے لیے پکار رہے تھے۔ ان میں زیادہ تر بچے زخمی اور خون آلود تھے۔
زاہد سلیم نے بتایا، ’دوسری منزل پر بچیاں تھیں، جہاں خاتون استانی کلاس میں موجود تھیں، جو جان سے گئیں، جبکہ اوپر کی چھت اسی کلاس روم کے نیچے پہلی منزل پر واقع کلاس روم پر گری ہے۔‘
سکول کی عمارت کیسی تھی؟
یہ سکول مدرسہ بھی تھا، جبکہ اس میں دنیاوی تعلیم بھی دی جا رہی تھی۔ یہاں نرسری سے لے کر آٹھویں جماعت تک 450 سے زائد بچے زیرِ تعلیم تھے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سکول کے ایک استاد نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ سکول کی عمارت ایک سال پہلے قائم ہوئی تھی، جو دو منزلہ تھی۔
عمارت کے دورے کے دوران دیکھا گیا کہ پہلی منزل کی چھت اینٹوں اور گارڈر سے بنائی گئی تھی، جبکہ دوسری منزل کی چھت عام چیک میٹ سے بنائی گئی تھی اور اس میں گارڈر بھی دیا گیا تھا۔
عمارت کی دیواریں اینٹوں سے بنائی گئی تھیں، لیکن چھت میں کوئی سریا یا سیمنٹ استعمال نہیں کیا گیا تھا۔
یہ سکول ایک رہائشی آبادی میں واقع ہے، جس کے اوپر الخیر مدرسہ و سکول سسٹم کا نام درج ہے اور ساتھ ہی سکول کے الحاق کا نمبر بھی درج ہے۔
خیبر پختونخوا کے محکمہ تعلیم نے واقعے کی تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی کا اعلان کیا، جو آج ہی متعلقہ محکمے کو رپورٹ پیش کرے گی۔
خیال رہے کہ خیبر پختونخوا میں نجی سکولوں کو ریگولیٹ کرنے کے لیے پرائیویٹ سکول ریگولیٹری اتھارٹی قائم ہے، جو تمام تر لوازمات پورے کرنے کے بعد نجی سکولوں کو لائسنس جاری کرتی ہے۔

