ایک انڈین شہر کی جانب سے کئی فلائی اوورز کو دھنک کے رنگوں میں پینٹ کرنے کا اقدام اس وقت الٹا پڑ گیا جب بارش سے متاثرہ سڑکوں کے مصروف ترین حصوں پر موٹر سائیکلوں کے پھسلنے کی شکایات سامنے آئیں۔
مشرقی شہر کولکتہ بے شمار رنگوں، دلفریب روشنیوں اور ہزاروں سجے ہوئے پنڈالوں سے جگمگا رہا ہے کیونکہ تہواروں کے موسم میں شہر میں رونق لوٹ آئی ہے۔
ان تہواروں کو مزید رنگین بنانے کے لیے ریاست مغربی بنگال کی نئی حکومت نے فلائی اوورز پر ایسے رنگ کیے، جس سے وہ لگ بھگ ماریو کارٹ رینبو برج جیسے لگنے لگے۔
تاہم چنگری گھاٹ فلائی اوور کے ایک حصے پر، جس پر کئی چمکدار رنگ کیے گئے تھے، بدھ کو کم از کم تین موٹر سائیکل یکے بعد دیگرے پھسل گئے۔
ایک گاڑی کے ڈیش کیم کی مبینہ فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شہر کے مصروف ترین فلائی اوورز میں سے ایک پر موٹر سائیکل سوار یکے بعد دیگرے اپنا توازن کھو رہے ہیں۔
مقامی پولیس نے بتایا کہ یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے پانچ بجے کے قریب پیش آیا جب ہلکی بارش ہو رہی تھی اور اس کا سڑک پر کیے گئے نئے چمکدار رنگ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
اخبار دی ٹیلی گراف انڈیا نے ایک پولیس افسر کے حوالے سے بتایا کہ ’موٹر سائیکل سوار اٹھے اور چلے گئے۔ اگر یہ رنگ کی وجہ سے ہوا تھا، تو اس واقعے سے پہلے یا بعد میں پھسلنے کا کوئی اور واقعہ رپورٹ کیوں نہیں ہوا؟‘
ریاستی حکومت نے شہر کے وسطی حصے میں فلائی اوور بند کر دیا تاکہ راتوں رات اس پر 10 میٹر کے فاصلے سے کیٹ آئی ریفلیکٹرز لگائے جا سکیں۔ مقامی لوگوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اس ہفتے بارش کی وجہ سے رنگ پہلے ہی اکھڑنا شروع ہو گیا ہے۔
جنوبی کولکتہ میں ایک اہم فلائی اوور سے بھی کچھ رنگ کھرچ کر ہٹا دیا گیا تھا۔
روڈ سیفٹی کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سڑک پر چمکدار رنگ ٹائر کی گرفت کم کر سکتا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ریاست کی وزیر برائے شہری ترقی نے بتایا کہ مغربی بنگال کے وزیراعلیٰ سویندو ادھیکاری نے حکام کو اس معاملے کا فوری جائزہ لینے کی ہدایت کی تھی۔
اگنی مترا پال نے صحافیوں کو بتایا کہ حکام کو حادثے کی وجہ کی تحقیقات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ڈرائیونگ کے دوران رنگوں سے آنکھوں پر زور پڑ رہا ہے۔ اگر ایسا ہے تو متبادل انتظام کیا جائے گا۔‘
انہوں نے استدلال کیا کہ فلائی اوورز پر اینٹی سکڈ رنگ استعمال کیا گیا تھا۔ ٹیکس دہندگان کے پیسے کے ضیاع کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے، اگنی مترا پال نے کہا: ’یہ ایک سی ایس آر (کارپوریٹ سوشل ریسپانسبلٹی) اقدام ہے۔ اسے عوامی فنڈز کے استعمال سے (رنگ) نہیں کیا گیا۔‘
شہر درگا پوجا کی تقریبات میں مگن ہے، جو ایک ہندو تہوار ہے اور انتہائی دھوم دھام اور جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔
دیوی درگا کی پانچ روزہ پوجا کے لیے ہر سال ہزاروں سجے ہوئے عارضی ڈھانچے کھڑے کیے جانے پر کولکتہ روشنیوں کے ایک شاندار نظارے سے جگمگا اٹھتا ہے۔
شہر میں درگا پوجا اقوام متحدہ کی ’انسانیت کے غیر مادی ثقافتی ورثے‘ کی فہرست میں شامل ہے۔

