چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کی مانگ کو لے کر کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی)کے مسلسل احتجاج کی اپیل کے درمیان اتوار، 11اکتوبر 2026کو کناٹ پلیس کے علاقے میں نگرانی کرتے سکیورٹی اہلکار۔پی ٹی آئی فوٹو/سلمان علی
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کی مانگ کرتے ہوئے ’لہرا دو ترنگا‘ مارچ کی اپیل کے بعد دہلی کے کناٹ پلیس میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ سینٹرل پارک 16 اور 17 اکتوبر کو بند رہے گا۔ سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے پولیس کی نگرانی اور پیچھا کیے جانے کا الزام لگایا ہے۔
نئی دہلی: چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کی مانگ اور ایس آئی آرمیں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کر رہی کاکروچ جنتا پارٹی(سی جے پی)نے جمعہ، 16اکتوبر کو دہلی کے کناٹ پلیس واقع سینٹرل پارک میں ’لہرا دو ترنگا‘مارچ کی اپیل کی ہے۔
اس کے پیش نظر دہلی پولیس نے نئی دہلی اور آس پاس کے علاقوں میں سکیورٹی انتظامات سخت کر دیے ہیں۔ ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، جمعہ کو کناٹ پلیس اور سینٹرل دہلی کے آس پاس دہلی پولیس کے 6,000سے زیادہ جوان تعینات کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ، سی جے پی کی جانب سے احتجاج کی اپیل کے بعد گزشتہ ایک ہفتے سے راجدھانی میں سینٹرل آرمڈ پولیس فورس (سی اے پی ایف) کے تقریباً 26,000 جوان تعینات ہیں۔
اس طرح جمعہ کو سینٹرل دہلی میں مجموعی طور پر تقریباً 32,000 سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کی امید ہے۔
سی جے پی نے اس بار اپنے لیڈروں سوربھ داس اور آشو توش رانکا کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کی اپیل کی ہے۔ دونوں کو اسی ہفتے گرفتار کیا گیا تھا۔ اس سے پہلے پارٹی نے ایس آئی آر میں مبینہ بے ضابطگیوں کو لے کر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا تھا، اور اب بھی یہ مطالبہ جاری ہے۔
جَنتر منتر کو احتجاج کے مقام کی فہرست سے ہٹائے جانے کے سبب تنظیم نے اس بار سینٹرل پارک میں اکٹھا ہونے کی اپیل کی ہے۔
سینٹرل پارک جمعہ اور سنیچر کو بند رہے گا
احتجاج سے پہلے نئی دہلی میونسپل کونسل(این ڈی ایم سی)نے 15اکتوبر کو ایک عوامی نوٹس جاری کرتے ہوئے بتایا کہ کناٹ پلی واقع سینٹرل پارک 16اور 17 اکتوبر کو عام لوگوں کے لیے بند رہے گا۔ نوٹس میں اس کی وجہ ’انتظامی وجوہات‘بتائی گئی ہے۔

دہلی ٹریفک پولیس نے بھی 16اکتوبر کو مجوزہ اجتماع کے پیش نظر ٹریفک متاثر ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا ہے۔ اس کی ایڈوائزری کے مطابق، دوپہر تین بجے سے کناٹ پلیس اور آس پاس کی سڑکوں پر ٹریفک متاثر ہو سکتی ہے۔ حالات کے مطابق ٹریفک کا رخ تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
ایڈوائزری میں پارلیامنٹ اسٹریٹ، بابا کھڑک سنگھ مارگ، شہید بھگت سنگھ مارگ، پنچ کوئیاں روڈ، بسنت لین، چیمس فورڈ روڈ، منٹو روڈ، بارہ کھمبا روڈ، کستوربا گاندھی مارگ، جن پتھ، ریل بھون، رفیع مارگ، سی ہیکساگون، منڈی ہاؤس، پٹیل چوک، ونڈسر پلیس، گول ڈاک خانہ، اشوک روڈ، ٹالسٹائے مارگ اور سکندرا روڈ سمیت کئی سڑکوں پر ٹریفک متاثر ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

ٹریفک پولیس نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے سفر کی پہلے سے منصوبہ بندی کریں، اضافی وقت لے کر نکلیں اور جہاں ممکن ہو، عوامی ٹرانسپورٹ کا استعمال کریں۔ لوگوں سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ تعینات ٹریفک پولیس اہلکاروں کی ہدایات پر عمل کریں اور سڑک کے کنارے گاڑیاں کھڑی کرنے کے بجائے طے شدہ پارکنگ کا استعمال کریں۔
علاقے میں اضافی سی سی ٹی وی کیمرے لگائے جا رہے ہیں
انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، دہلی پولیس کمشنر انوراگ کمار نے جمعرات کو پولیس کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی۔ اس میں جوائنٹ پولیس کمشنر اور نئی دہلی علاقے کے ڈی سی پی سمیت دیگر افسران شامل ہوئے۔ ایک سینئر پولیس افسر نے اخبار کو بتایا کہ فی الحال میٹرو اسٹیشن بند کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ اسے آخری تدبیر کے طور پر رکھا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، سینٹرل پارک کے انٹرنس پر نئے سی سی ٹی وی کیمرے لگانے کا کام جاری تھا۔ راجیو چوک میٹرو اسٹیشن کے گیٹ نمبر ایک اور تین پر بھی اضافی کیمرے لگائے جا رہے تھے۔ علاقے میں حراست میں لیے گئے لوگوںکو لے جانے والی کئی بسیں بھی کھڑی کی گئی ہیں۔ جمعرات کو پالیکا بازار کے سامنے، پارلیامنٹ اسٹریٹ اور ٹالسٹائے روڈ کے درمیان تقریباً 16 بسیں کھڑی تھیں۔
دہلی پولیس کی تعلقات عامہ کی افسر نہا یادو نے جمعرات کی شام جاری بیان میں کہا کہ امن و امان برقرار رکھنے اور سرکاری و نجی املاک کے تحفظ کے لیے کناٹ پلیس اور آس پاس کے علاقوں میں بھارتیہ شہری سرکشا سنہتا(بی این ایس ایس)کی دفعہ 163 کے تحت امتناعی احکامات پہلے ہی نافذ ہیں۔
پولیس نے یہ بھی کہا کہ وہ قومی پرچم لے کر قومی ترانہ گانے کے لیے لوگوں کے ایک محدود گروپ کو کسی مناسب مقام پر سہولت دے سکتی ہے۔
احتجاج کے دوران نگرانی کیے جانے کے الزام
دریں اثنا، سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے ایکس پر کچھ تصویریں شیئر کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ جس جگہ ٹھہرے ہوئے ہیں، اسے سادہ لباس میں موجود پولیس اہلکاروں نے چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے اور ان پر لگاتارنظر رکھی جا رہی ہے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایک سفید رنگ کی اسکارپیو ان کا پیچھا کر رہی ہے۔
The place I am staying at has been surrounded by undercover cops from all sides.
These people are keeping me under constant surveillance.
The white scorpio has also been following me everywhere. https://t.co/ImgTR3ZIwQ
— Abhijeet Dipke (@abhijeet_dipke) October 15, 2026
دیپکے کی پوسٹ شیئر کرتے ہوئے سماجی کارکن یوگیندر یادو نے لکھا کہ 10اکتوبر کی صبح سادہ لباس میں موجود لوگوں کے ساتھ ایسی ہی ایک سفید اسکارپیو نے ان کا بھی پیچھا کیا تھا۔ یادو کے مطابق، انہوں نے اس واقعہ کی لائیو نشریات بھی کی تھیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا حالیہ احتجاجی مظاہروں کے دوران کسی اور کو بھی ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ہے؟
دیپکے اور یادو نے اپنی پوسٹ میں نگرانی کیے جانے اور پیچھا کیے جانے کے الزام لگائے ہیں۔ ان الزامات پر دہلی پولیس کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

