
(ویب ڈیسک) دہلی میں ترنگا مارچ سے پہلے کاکروچ جنتا پارٹی کے صدر دپکے اور سٹوڈنٹ نیہا بورا کو حراست میں لے لیا گیا۔ کناٹ پلیس میں مظاہرے ہوئے اور احتجاج کرنے والوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو نکالنے کا مطالبہ کیا۔
کاکروچ جنتا پارٹی نے دارالحکومت دہلی میں "ترنگا مارچ” کی کال دی تھی جس کا مقصد الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو ہٹانے کے عوامی مطالبے پر زور دینا ہے۔ آج سی جے پی کے ترنگا مارچ سے قبل دہلی پولیس نے دپکے اور نیہا بورا کو حراست میں لے لیا۔ پولیس کی پابندیوں کے باوجود کناٹ پلیس اور منڈی ہاؤس میں مظاہرے جاری رہے، مظاہرین نے الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ دہرایا۔
نئی دہلی سے آنے والی میڈیا رپورٹس کے مطابق کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے ’لہرا دو ترنگا‘ مارچ سے پہلے دہلی پولیس نے کاکروچ تحریک اور کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی صدر ابھیجیت دپکے کو جھنڈے والان میں اس مقام سے حراست میں لے لیا جہاں وہ قیام پذیر ہیں۔ پولیس نے نوٹس میں کناٹ پلیس میں مارچ سے منع کیا تھا۔ دپکے مارچ کے لیے نکلے تو اہلکاروں نے انہیں گاڑی میں بٹھا لیا۔ ویڈیوز مین دیکھا گیا کہ دیپکے نے پولیس سے پوچھا کہ انہیں کیوں روکا جا رہا ہے۔
کچھ دیر بعد آل انڈیا سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئسا) کی صدر نیہا بورا کو بھی منڈی ہاؤس کے قریب حراست میں لے لیا گیا۔ وہ مظاہرین کو وہیں جمع ہونے کی اپیل کر چکی تھیں۔ نیہا بورا نے کہا کہ جنتر منتر احتجاج کی علامت ہے لیکن اب پورا وسطی دہلی احتجاج کا مقام بن گیا ہے۔
سی جے پی نے کناٹ پلیس کے سینٹرل پارک میں شام پانچ بجے احتجاجی مارچ کا اعلان کیا تھا۔ پولیس نے بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا کی دفعہ 163 کے تحت اجتماع کی اجازت نہیں دی۔ نئی دہلی میونسپل کونسل نے جنتر منتر پارک کو جمعہ اور ہفتے کو انتظامی وجوہات کی بنا پر بند رکھا۔
پولیس نے ٹریفک میں خلل، بھگدڑ اور ہنگامی خدمات متاثر ہونے کے خدشات ظاہر کیے، مگر متبادل مقام پر چند افراد کو پرچم لہرانے اور قومی ترانہ پڑھنے کی پیشکش کی۔ کناٹ پلیس میں چھ ہزار سے زائد پولیس اہلکار اور مرکزی مسلح پولیس فورس کی 220 کمپنیاں تعینات تھیں۔
پابندیوں اور رہنماؤں کی حراست کے باوجود شام کو کناٹ پلیس اور منڈی ہاؤس میں پرچم بردار مظاہرے ہوئے۔ لوگوں نے ’جے ہند‘ اور ’لہرا دو ترنگا‘ کے نعرے لگائے، جبکہ بعض نے قومی ترانہ پڑھا۔ پولیس کی جانب سے منتشر کرنے کی کوشش پر معمولی دھکم پیل ہوئی؛ مظاہرین کئی مقامات پر بکھرے اور دوبارہ جمع ہوئے۔ سی جے پی نے دپکے کی حراست کو حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مزید احتجاج کی تنبیہ کی۔ عام آدمی پارٹی کے دہلی صدر سوربھ بھاردواج نے مارچ کی حمایت اور وسطی دہلی میں ترنگا لہرانے کا اعلان کیا۔
یہ بھی پڑھیئے: کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈخوارجی زاہد گل جہنم رسید
احتجاج کیلئے جمع ہو کربھارت کا قومی پرچم ترنگا لہرانے کی یہ مہم دراصل چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) واپس لینے کے مطالبے کے گرد چل رہی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کے منظم دھاندلا کا حصہ قرار دی جانے والی ووٹرز لسٹوں کی خصوصی نظر ثانی مہم کے دوران گیانیش کمار نے 13 کروڑ کے لگ بھگ ووٹروں کو ووٹرز لسٹوں سے نکال دیا۔ یہ سب ووٹر وہ ہیں جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ووٹر نہیں تھے اور ان میں اکثریت مسلمانوں اور نچلے طبقات کے ہندووں کی ہی ہے۔
اب الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو الیکشن کمشن سے نکالنے کا مطالبہ عوامی احتجاج کی وجہ بن چکا ہے۔ مظاہرین کا الزام ہے کہ نظرثانی میں کروڑوں ووٹروں کے نام خارج ہوئے اور الیکشن کمیشن کی غیر جانبدار ادارہ کی حیثیت اور ساکھ برباد ہو گئی؛ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور نریندر مودی کی حکومت کا کہنا ہے کہ کارروائی دہرے ووٹ اور غیراہل اندراجات ختم کرنے کے لیے ہے۔
آج کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاجی مارچ کا پس منظر سی جے پی رہنماؤں سورو داس اور آشوتوش رانکا کی حراست بھی ہے، جنہیں 13 اکتوبر کو جنتر منتر میں داخل ہونے پر حراست میں لے کر 5 روزہ عدالتی تحویل میں بھیجا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیئے: اورکزئی میں دہشتگردوں کی کمر توڑنے کا آغاز، مشترکہ آپریشن میں دس دہشتگردوں کا صفایا
بھارتی پولیس نے کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے کو گرفتار کرلیا
بھارتی پولیس نے نوجوانوں کی جماعت ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ (سی جے پی) کے بانی ابھیجیت دیپکے کو نئی دہلی میں طے شدہ ایک احتجاج سے قبل حراست میں لے لیا۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق ابھیجیت دیپکے کی گرفتاری بھارت کے چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کے مطالبے کے لیے نکالی جانے والی تازہ ترین ریلی سے قبل عمل میں آئی ہے۔
نوجوانوں کی زیرِ قیادت ‘کاکروچ جنتا پارٹی’، اپوزیشن گروپس اور طلبا تنظیموں نے رواں ماہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر تقریباً روزانہ کی بنیاد پر مظاہرے کیے ہیں۔
اپوزیشن کا الزام ہے کہ ووٹر لسٹوں کی حالیہ نظرِ ثانی میں وزیر اعظم نریندر مودی کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو دانستہ طور پر فائدہ پہنچایا گیا ہے۔ واضح رہے کہ ووٹر لسٹوں کی اس نظرِ ثانی کے دوران 13 کروڑ سے زائد افراد کو ووٹر لسٹوں سے خارج کر دیا گیا تھا۔
ابھیجیت دیپکے نے جمعے کے احتجاج کی کال اپنی پارٹی کے ان دو رہنماؤں کی حمایت میں دی تھی جنہیں رواں ہفتے پابندی کے باوجود ایک مقام پر مظاہرہ کرنے کے الزام میں حراست میں لے کر 5 روزہ ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا تھا۔
سی جے پی اور بائیں بازو کی طلباء تنظیموں نے اپنے حامیوں سے اپیل کی تھی کہ وہ جمعے کی شام نئی دہلی کے مصروف ترین علاقے ‘کناٹ پلیس’ کے سینٹرل پارک میں جمع ہو کر قومی پرچم لہرائیں۔
سی جے پی کے انسٹاگرام ہینڈل پر نشر ہونے والی لائیو ویڈیو میں دیکھا گیا کہ ابھیجیت دیپکے ایک گھر سے نکل کر سڑک کی طرف جا رہے تھے جب پولیس اہلکاروں نے انہیں روکا اور مختصر بحث کے بعد پولیس کی ایک گاڑی میں بٹھا کر لے گئے۔
ویڈیو میں ایک پولیس افسر کو ابھیجیت دیپکے سے یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ ’ہم آپ کو ابھی حراست میں لے رہے ہیں‘۔ جس پر ابھیجیت نے سوال کیا کہ ’میں نے ابھی تک کوئی قانون نہیں توڑا۔۔۔ آپ مجھے کیسے حراست میں لے سکتے ہیں‘؟
خبررساں ایجنسی کے مطابق اس سے قبل آج پولیس نے ابھیجیت دیپکے سے ملاقات کر کے انہیں احتجاج سے باز رہنے کی وارننگ دی تھی۔

