غزہ، یوکرین سے سوڈان تک

2716089 zahidahinanewnew 1727807446


جنگ کے آغاز کا اعلان عموماً اقتدار کے ایوانوں میں ہوتا ہے لیکن اس کا اختتام کسی اعلامیے سے نہیں ہوتا۔ جنگ ختم ہونے کے بعد ماؤں کے پاس اپنے بچوں کی قبریں، بچوں کے پاس اپنے والدین کی یادیں اور بے گھر انسانوں کے پاس اپنے اجڑے ہوئے ماضی کے سوا کچھ نہیں بچتا۔

تاریخ کے صفحات پر فاتحین کے نام درج ہوتے ہیں مگر ان صفحات کے درمیان دب جانے والی انسانی چیخوں کا حساب کون رکھتا ہے۔آج کی دنیا میں یہ سوال پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ غزہ کے ملبے سے لے کر یوکرین کے تباہ شدہ شہروں تک، سوڈان کے بھوک سے نڈھال علاقوں سے لے کر یمن میں جاری خونریزی تک ایک ہی المیہ مختلف ناموں اور جغرافیہ کے ساتھ دہرایا جا رہا ہے۔

14 اکتوبر 2026 کو یمن سے آنے والی خبریں بتاتی ہیں کہ وہاں تازہ لڑائی نے طبی مراکز کو زخمیوں سے بھر دیا ہے اور لاکھوں افراد تک امداد کی رسائی متاثر ہوئی ہے۔ سوڈان میں جنگ، خشک سالی اور خوراک کی قلت نے کروڑوں انسانوں کی زندگیوں کو عدم تحفظ سے دوچار کر رکھا ہے، یہ محض اعداد وشمار نہیں، عام انسانوں کی برباد ہوتی ہوئی زندگیاں ہیں لیکن سوال صرف یہ نہیں کہ جنگیں کتنی تباہی لاتی ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ دنیا بار بار اسی راستے پر کیوں چل پڑتی ہے۔

جنگ کو اکثر قومی سلامتی، سرحدوں کے تحفظ، مذہب، آزادی یا قومی وقار کے نام پر جائز قرار دیا جاتا ہے۔ بعض اوقات حقیقی دفاعی ضرورتیں بھی موجود ہوتی ہیں اور کسی ملک یا قوم کو اپنی آزادی اور خودمختاری کے تحفظ کا حق حاصل ہے مگر طاقتور ملکوں کے بیان کردہ مقاصد اور جنگ کے حقیقی نتائج کے درمیان اکثر ایک گہری خلیج ہوتی ہے۔ جن لڑائیوں کو فیصلہ کن فتح قرار دیا جاتا ہے، اس کے بعد بھی نسلوں تک نفرت، غربت، انتقام اور عدم استحکام باقی رہ سکتے ہیں۔

طاقت کے عالمی نظام میں اسلحہ صرف دفاع کا ذریعہ نہیں رہا، وہ ایک وسیع کاروبار اور اثر ورسوخ کا حصہ بھی ہے، جب بڑی طاقتیں اپنے حریفوں کو کمزور کرنے، اہم تجارتی راستوں پر کنٹرول قائم رکھنے، وسائل تک رسائی حاصل کرنے یا اپنے اتحادیوں کی بالادستی برقرار رکھنے کے لیے کمزور ملکوں کو میدان مقابلہ بناتی ہیں تو عام لوگ اکثر اس کشمکش کی سب سے بڑی قیمت ادا کرتے ہیں۔ بعض اوقات کسی ملک کی زمین پر متحارب فریقوں کے درمیان لڑائی ہوتی ہے لیکن اس کے فیصلوں میں سات سمندر پار بیٹھے طاقتور دارالحکومتوں کے مفادات بھی شریک ہوتے ہیں۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر جنگ کو ایک ہی سازش یا ایک ہی سبب سے سمجھا جا سکتا ہے۔ ہر تنازع کی اپنی تاریخ اپنے کردار اور اپنے داخلی تضادات ہوتے ہیں لیکن یہ حقیقت نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ عالمی طاقت کا غیرمساوی نظام چھوٹے اور کمزور ملکوں کے لیے اپنے فیصلے خود کرنے کی گنجائش محدود کر دیتا ہے۔ قرض، اسلحے پر انحصار، اتحاد اور بیرونی دباؤ ان کی خودمختاری کو متاثر کر سکتے ہیں۔ جب سفارت کاری کی جگہ طاقت کا مظاہرہ لے لیتا ہے تو امن کے امکانات سکڑنے لگتے ہیں۔

اس سارے منظرنامے میں سب سے بڑا تضاد یہ ہے کہ جنگ کا فیصلہ کرنے والے اور اس کا خمیازہ بھگتنے والے عموماً ایک جیسے لوگ نہیں ہوتے۔ طاقتور ملکوں کی قیادتیں محفوظ عمارتوں میں بیٹھ کر کارروائیوں کی منظوری دیتی ہیں۔ اسلحہ بنانے والی صنعتیں اپنے معاہدوں اور منافع کا حساب رکھتی ہیں۔

جنگی حکمت عملی کے ماہر نقشوں پر محاذوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ دوسری طرف ایک مزدور اپنی روزی کھو دیتا ہے، ایک کسان کی فصل جل جاتی ہے، ایک ماں اپنے بچے کے علاج کے لیے دوا تلاش کرتی ہے اور ایک طالب علم کا اسکول ملبے میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

جنگ کی تباہی صرف ان لوگوں تک محدود نہیں رہتی جو براہِ راست نشانہ بنتے ہیں،اس کے اثرات دور دور تک پھیلتے ہیں۔ جائزہ کون جیتا اور کون ہارا تک نہیں رہنا چاہیے۔ یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ اس کے نتیجے میں کتنے گھرانے بے گھر ہوئے، کتنے بچے تعلیم سے محروم ہوئے، کتنے مریض علاج نہ پا سکے اور کتنے لوگوں کی زندگیوں کو معمول پر آنے میں کئی دہائیاں لگیں گی۔

ہمیں یہ سوال بھی پوچھنا چاہیے کہ عالمی ادارے اور بین الاقوامی قانون اپنی اخلاقی حیثیت کیسے برقرار رکھ سکتے ہیں۔ امن صرف بیانات، کانفرنسوں اور قراردادوں سے قائم نہیں ہوتا، اس کے لیے اصولوں کا یکساں اطلاق، خلاف ورزیوں پر جواب دہی ضروری ہے۔

امن کی بات کرنا جارحیت کے سامنے خاموش رہنے کا نام نہیں۔ نہ ہی جنگ بندی کا مطالبہ مظلوم کو اس کے حقوق سے دستبردار ہونے کا مشورہ ہے۔ حقیقی امن وہ ہے جس میں کمزوروں کو خوف سے آزادی حاصل ہو، اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ جنگ اور امن کے فیصلے صرف طاقتور اقوام کے مفادات کے محدود دائرے میں نہ رہیں۔

کمزور ملکوں کو بھی کو ان فیصلوں پر سوال اٹھانے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ جنگی جنون کے مقابلے میں عوامی شعور،آزاد صحافت، سفارت کاری اور بین الاقوامی یکجہتی کو مضبوط کرنا ہوگا۔ خاص طور پر ترقی پذیر ملکوں کے عوام کو یہ مطالبہ کرنا چاہیے کہ ان کے ٹیکسز ان کی ترقی پر خرچ ہوں، نہ کہ ایسی دوڑ میں جھونک دیئے جائیں جس کا کوئی واضح اختتام دکھائی نہیں دیتا۔

آج انسانیت ایک ایسے دور میں جی رہی ہے جہاں سائنس اور ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی کو بہتر بنانے کے بے شمار امکانات پیدا کیے ہیں مگر یہی ترقی تباہی کے زیادہ مؤثر ذرائع بنانے کے لیے بھی استعمال ہو رہی ہے۔

ہم بیماریوں کے علاج، بھوک کے خاتمے اور موسمیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے وسائل کی کمی کا رونا روتے ہیں لیکن جنگی اخراجات کے لیے اربوں ڈالر مختص کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔ یہ صرف معاشی ترجیحات کا مسئلہ نہیں، یہ ہماری تہذیبی ترجیحات کا امتحان بھی ہے۔

جنگ شروع کرنے کے لیے اکثر ایک حکم، ایک حملہ یا ایک غلط فیصلہ کافی ہوتا ہے لیکن ان کے زخم بھرنے کے لیے امن، انصاف، اعتماد اور تعمیرنو کے طویل سفر کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس سفر میں کئی نسلیں گزر جاتی ہیں اور نقصان کبھی پورا نہیں ہو سکتا۔ شاید اب وقت آ گیا ہے کہ اقوام عالم تاریخ کے اس روایتی سوال کو بدل دیں کہ کون جیتا اور کون ہارا۔

ہمیں پوچھنا چاہیے کہ جنگ کے بعد انسان کے پاس کیا بچا؟ کتنے بچوں کا مستقبل محفوظ رہا، کتنے خاندان اپنی چھت برقرار رکھ سکے اور کتنی قومیں خوف اور نفرت سے نکل کر ایک بہتر زندگی کی طرف بڑھ سکیں کیونکہ کسی بھی جنگ کی سب سے بڑی ناکامی اس وقت سامنے آتی ہے جب فتح کے دعوؤں کے درمیان انسان کی زندگی، اس کی عزت اور اس کے مستقبل کی کوئی قیمت باقی نہیں رہتی۔

جنگ کا سب سے بڑا المیہ صرف یہ نہیں کہ انسان، انسان کو قتل کرتا ہے، المیہ یہ بھی ہے کہ دنیا آہستہ آہستہ اس قتل کو معمول سمجھنے لگتی ہے۔
 





Source link

متعلقہ پوسٹ