حنا جاوید قتل کیس میں گرفتار گھریلو ملازم ذیشان ارشد کے اہل خانہ پہلی مرتبہ سامنے آگئے جس میں نئے انکشافات سامنے آئے ہیں۔
ملزم کے والد محمد ارشد نے دعویٰ کیا ہے کہ جیل میں بیٹے سے دو ملاقاتوں کے دوران اس نے بتایا کہ حنا جاوید کے قتل کے معاملے میں اس سے جو کچھ بھی کروایا گیا، وہ زبردستی کروایا گیا۔
محمد ارشد کے مطابق ذیشان نے بتایا کہ 20 اگست کی رات حنا جاوید اور ان کے شوہر فیصل اصغر کے درمیان جھگڑا ہوا۔ شور سن کر ذیشان بھی جاگ گیا۔ اس کے بقول حنا جاوید آگے بھاگ رہی تھیں، جبکہ فیصل اصغر ان کے پیچھے تھے۔ فیصل اصغر نے ذیشان کو حنا جاوید کو پکڑنے کا کہا، تاہم اس نے میاں بیوی کے جھگڑے میں مداخلت سے انکار کر دیا۔
والد کے مطابق فیصل اصغر نے ذیشان کو تشدد کا نشانہ بنایا اور اسلحے کے زور پر حنا جاوید کو پکڑنے پر مجبور کیا۔
محمد ارشد نے دعویٰ کیا کہ ان کے بیٹے کے مطابق حنا جاوید کو ان کے شوہر فیصل اصغر نے خود قتل کیا اور لاش بھی باتھ روم میں خود لٹکائی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ دورانِ ریمانڈ ذیشان پر تشدد کرکے اسے جرم قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا اور قتل کا سارا الزام اس پر ڈال دیا گیا۔
ملزم کے والد کے مطابق ذیشان تقریباً سات ماہ سے حنا جاوید کے گھر ملازمت کر رہا تھا اور انہیں اپنی ماں کی طرح سمجھتا تھا۔
محمد ارشد نے بتایا کہ انہیں قتل کے واقعے کی اطلاع 11 روز بعد ملی، جبکہ واقعے کے چار روز بعد ذیشان کو ملازمت پر رکھوانے والے شخص تصور نے اس کا شناختی کارڈ طلب کیا تھا۔
انہوں نے ذیشان کے سابقہ ریکارڈ یافتہ ہونے کے دعوے کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے 18 سے 19 سالہ بیٹے کے خلاف تھانہ میانہ گوندل، منڈی بہاءالدین سمیت کسی بھی تھانے میں کوئی مقدمہ درج نہیں۔
ملزم کے ماموں نے بتایا کہ انہوں نے ذیشان کو روزگار کے لیے ملازمت پر رکھوایا تھا۔ اہل خانہ نے مؤقف اختیار کیا کہ ذیشان بے گناہ ہے اور اسے قتل کا مرکزی ملزم ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
Source link

