عرفات منہاس کی چھ وکٹیں، پاکستان کی انگلینڈ کے خلاف جیت

399304 459769910


پاکستان نے سہ ملکی ون ڈے سیریز کے اپنے دوسرے میچ میں عرفات منہاس کی شاندار بولنگ اور بیٹنگ کی بدولت انگلینڈ کو 87 رنز سے شکست دے کر مسلسل دوسری کامیابی حاصل کر لی ہے۔

پاکستان کی جیت میں 21 سالہ آل راؤنڈر عرفات منہاس نے اہم کردار ادا کرتے ہوئے 59 رنز بنانے کے بعد 40 رنز دے کر چھ وکٹیں حاصل کیں۔

303 رنز کے ہدف کے تعاقب میں انگلینڈ کی ٹیم ایک اچھے آغاز کے باوجود 38.4 اوورز میں 215 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔

انگلینڈ کے اوپنرز ٹام بینٹن اور بین ڈکٹ نے پہلی وکٹ کے لیے 91 رنز کی شراکت قائم کی اور ابتدائی 15 اوورز میں ٹیم کو مضبوط پوزیشن میں پہنچا دیا۔ ٹام بینٹن 57 اور بین ڈکٹ 45 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، جبکہ جو روٹ نے 33 رنز بنائے۔

تاہم اوپنرز کے آؤٹ ہونے کے بعد انگلینڈ کی بیٹنگ لائن مشکلات کا شکار ہو گئی۔ عرفات منہاس نے ہیری بروک کو بولڈ کرکے انگلینڈ کی اننگز کو بڑا دھچکا پہنچایا، جس کے بعد وکٹیں گرنے کا سلسلہ نہ رک سکا۔

عرفات منہاس نے اپنی بائیں ہاتھ کی اسپن بولنگ سے انگلش بیٹنگ لائن کو تہس نہس کرتے ہوئے 8.4 اوورز میں 40 رنز دے کر چھ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ ہیری بروک کو بولڈ کرنے والی ان کی گیند کو ان کی بہترین گیندوں میں شمار کیا گیا۔

اس سے قبل پاکستان کی اننگز میں بھی عرفات منہاس نے اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے 58 گیندوں پر 59 رنز بنا کر ٹیم کو سنبھالا دیا اور پاکستان کو 302 رنز کے مجموعے تک پہنچانے میں مدد کی۔

میچ کے اختتام پر انگلینڈ کی آخری وکٹ بھی دلچسپ انداز میں گری۔ سونی بیکر نے مڈ وکٹ کی جانب شاٹ کھیل کر ایک رن لیا، جس کے بعد گس ایٹکنسن نے دوسرا رن لینے کی کوشش کی، لیکن بیکر نے انہیں واپس بھیج دیا۔ اس دوران دونوں بلے باز نان سٹرائیکر اینڈ پر پہنچ گئے۔

عرفات منہاس کو واپس آنے والی گیند روکنے میں ابتدا میں مشکل پیش آئی، تاہم انہوں نے گیند حاصل کرکے وکٹوں کو نشانہ بنایا اور ایٹکنسن رن آؤٹ ہو گئے۔

اس طرح عرفات منہاس نے چھ وکٹیں لینے اور نصف سنچری بنانے کے علاوہ آخری وکٹ رن آؤٹ کرکے بھی اپنی کارکردگی کو یادگار بنا دیا۔ انہیں میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

اس سے قبل پاکستان کی جانب سے اننگز کا آغاز اچھا نہیں رہا جب اننگز کی پہلی ہی گیند پر فخر زمان اپنی وکٹ گنوا بیٹھے جب کہ صائم ایوب آٹھ رنز بنا کر 31 کے مجموعی سکور پر پویلین لوٹ گئے۔

بعد میں آنے والے بلے باز بھی کچھ خاص کاررکردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکے۔ بابر اعظم 34، سعد بیگ 35 اور اور سلمان علی آغا 16 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

133 کے مجموعے تک قومی ٹیم 5 وکٹوں سے محروم ہو چکی تھی۔ اس مشکل وقت میں حسن نواز نے 79، عرفات منہاس نے 59 اور فہیم اشرف نے 39 رنز بنا کر ٹیم کی پوزیشن مستحکم کی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اختتامی لمحات میں شاہین آفریدی کے 10 اور حارث رؤف کے 4 رنز کی بدولت پاکستان نے نو وکٹوں کے نقصان پر302 رنز بنائے۔

انگلینڈ کی جانب سے سونی بیکر نے تین، گٹ ایٹکنسن نے دو جبکہ ول جیکس، جمی اوورٹن، عادل رشید اور سیم کرن نے ایک ایک وکٹ لی۔

پاکستان نے انگلینڈ کے خلاف میچ کے لیے اپنی ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ قومی ٹیم چار فاسٹ بولرز اور دو سپن آل راؤنڈرز ارفع منہاس اور صائم ایوب کے ساتھ میدان میں اتری۔

انگلینڈ کے کپتان ہیری بروک، جنہوں نے پاکستان میں تینوں فارمیٹس کے 16 میچز میں مجموعی طور پر 1,126 رنز بنائے ہیں، کا کہنا تھا کہ ’آج رات اوس اہم کردار ادا کر سکتی ہے‘ اور انہیں امید ہے کہ ان کی ٹیم پاکستان کو کم سے کم سکور تک محدود رکھنے میں کامیاب ہوگی۔

انگلینڈ کو اس ٹرائی سیریز میں اہم کھلاڑیوں جوز بٹلر اور جوفرا آرچر کی خدمات حاصل نہیں ہیں۔ بٹلر ہیم سٹرنگ انجری کا شکار ہیں، جبکہ آرچر کو آرام دیا گیا ہے۔

بٹلر کی جگہ جارڈن کاکس وکٹ کیپر کی حیثیت سے ٹیم میں شامل ہیں، جبکہ جوفرا آرچر کی جگہ سونی بیکر کو موقع دیا گیا ہے۔

انگلینڈ نے بھی چار فاسٹ بولرز کے ساتھ میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم ٹیم میں سپیشلسٹ سپنر عادل رشید بھی شامل ہیں۔

پاکستان نے گذشتہ اتوار کو راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم میں سری لنکا کو 37 رنز سے شکست دی تھی۔ اس میچ میں سلمان علی آغا نے شاندار سنچری سکور کرکے پاکستان کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا تھا، تاہم رات کے وقت اوس پڑنے کے باعث بولرز کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

راولپنڈی میں جمعرات کو انگلینڈ اور سری لنکا کے درمیان ٹرائی سیریز کا ایک اور میچ کھیلا جائے گا، جس کے بعد ٹورنامنٹ لاہور منتقل ہو جائے گا۔

ٹرائی سیریز کا فائنل بھی 31 اکتوبر کو لاہور میں کھیلا جائے گا۔





Source link

متعلقہ پوسٹ