واشنگٹن: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف فوجی مہم سے فوراً نکل سکتا ہے، جبکہ انہوں نے یورپی اتحادیوں کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ اپنا راستہ تبدیل نہیں کرتے تو واشنگٹن ان کی حمایت واپس لے سکتا ہے۔
کنساس میں وسط مدتی انتخابات کے لیے انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا اور امریکہ کا بنیادی مقصد پورا ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا: ’’ہم ابھی نکل سکتے ہیں۔‘‘ تاہم انہوں نے فوجی کارروائی ختم کرنے کا کوئی شیڈول یا منصوبہ پیش نہیں کیا۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی بحریہ، فضائیہ، ریڈار نظام اور فضائی دفاعی نیٹ ورک تباہ کر دیے گئے ہیں، جبکہ 229 ایرانی جنگی طیارے رن وے پر بکھرے ہوئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ ایرانی حکام نے گزشتہ آٹھ ماہ میں کم از کم 75 ہزار مظاہرین کو ہلاک کیا ہے؛ تاہم انہوں نے اس دعوے کی تائید کے لیے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔
ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ امریکہ یورپ کے ساتھ کھڑا ہے، لیکن اگر یورپ جلد اپنا راستہ نہیں ڈھونڈتا تو امریکہ کو انخلاء کے سوا کوئی راستہ نہیں رہے گا۔ انہوں نے یورپی ممالک پر الزام لگایا کہ ایران کے خلاف تنازع کے دوران امریکہ کی مدد کے لیے وہ سامنے نہیں آئے، حالانکہ واشنگٹن نیٹو پر بھاری اخراجات کر رہا ہے۔
ان کے بیان کے بعد تجزیہ کاروں نے واضح کیا کہ یہ انتباہ خود بخود یورپ یا نیٹو سے امریکی انخلاء کا باقاعدہ اعلان نہیں ہے۔

