واشنگٹن/تہران: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری تنازع پر امریکی عوام سے کہا ہے کہ اصل خطرہ پیٹرول کی قیمتیں نہیں بلکہ ایٹمی حملے کا امکان ہے۔
پیر کو وہائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو اور آئیووا میں 15 ارب ڈالر کے اسٹیل پلانٹ کے اعلان کے دوران ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا پیٹرول کی بلند قیمتیں اکتوبر تک برقرار رہیں گی۔ جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر بدامنی اور تباہی دیکھنی ہے تو انہیں ایٹمی ہتھیار سے کسی شہر کو تباہ کرنے دیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ صرف اسرائیل اور مشرقِ وسطیٰ کی بات نہیں کر رہے، بلکہ "انہیں ہم پر بھی ایٹمی حملہ کرنے دیں۔”
اسی گفتگو میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کا ایٹمی پروگرام امریکی حملوں سے پہلے ہی بے اثر ہو چکا ہے۔ اس دعوے کو جنگ کے لیے انتظامیہ کے بدلتے جواز کا تضاد قرار دیا جا رہا ہے۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق تقریباً چار میں سے تین امریکی بالغوں کو یقین نہیں کہ ٹرمپ کے پاس تنازع ختم کرنے کا کوئی منصوبہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق انتظامیہ نے کانگریس کی سماعتوں میں ایسا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا کہ فروری کے حملوں کے بعد ایرانی ایٹمی تنصیبات دوبارہ فعال کی جا رہی تھیں، جبکہ سابق ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس تلسی گبارڈ نے مارچ میں حلف کے تحت اس کے برعکس گواہی دی تھی۔
ٹرمپ نے برطانیہ کے آر اے ایف فیئر فورڈ ایئربیس پر دہشت گردی اور دھماکہ خیز مواد کے الزامات میں پانچ مشتبہ افراد کی گرفتاری پر بھی بات کی اور ممکنہ ایرانی حکومتی روابط کے بارے میں کہا کہ "ہم ان کے بارے میں سب کچھ جانتے ہیں،” تاہم تفصیل بتانے سے انکار کیا۔ برطانوی پولیس کے مطابق پانچوں افراد لندن میں مقیم برطانوی شہری ہیں اور پیر کو انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ ایرانی سفارت خانے نے کسی بھی تعلق کی تردید کی ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے منگل کو سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق خبردار کیا کہ اگر ایران کو تیل فروخت کرنے سے روکا گیا تو خطے کا کوئی ملک تیل فروخت نہیں کر سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی کی ضمانت نہ ملی تو کوئی انفراسٹرکچر محفوظ نہیں رہے گا، اور ایران فضائی یا تجارتی ناکہ بندی کے سامنے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
یہ انتباہ ہفتے کو ٹرمپ کی جانب سے ایرانی تجویز مسترد کیے جانے کے بعد آیا، جس میں پابندیاں ہٹانے اور منجمد اثاثے بحال کرنے کے بدلے سات دن میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی پیشکش تھی۔ ٹرمپ کا اصرار تھا کہ اس گزرگاہ پر امریکہ کا پہلے ہی "مکمل کنٹرول” ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پیر کو کہا کہ قطری ثالث ایران کے مطالبات پورے کرنے کے لیے واشنگٹن کو نئی تجاویز پیش کریں گے۔

