پاکستانی کرکٹ ۔۔۔ ۔کچھ تجاویز

khel1792533126 0


 پاکستانی کرکٹ میں طویل مدتی بہتری کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں؟ یہ وہ سوال ہے جسے انگریزی محاورے کے مطابق ’’لاکھوں ڈالر کا سوال‘‘ کہا جا سکتا ہے۔ تو آئیے اس کا جواب ڈھونڈنے کے لیے چند مشہور تجاویز کو بطور سوال دیکھتے ہیں۔

سوال1: کپتان کی تبدیلی؟

جواب: وہ تو آپ نے بہت کرکے دیکھ لیے، جسے شک ہو وہ 1990ء کی دہائی یاد کرلے جب ایک ہی ٹیم میں 8 سابق کپتان کھیل رہے ہوتے تھے، نتائج منفی سے درمیانہ درجے تک ہی بہتر رہے لیکن آپ وسیم اکرم، وقار یونس، سعید انور، ثقلین مشتاق، مشتاق احمد، انضمام الحق، محمد یوسف، یونس خان، شعیب اختر، عبد الرزاق، سعید اجمل ، عمر گل جیسے ورلڈ کلاس کھلاڑیوں کے ہوتے ہوئے بھی کبھی ’’ورلڈ کلاس ٹیم‘‘ نہ بن سکے۔

سوال2: بورڈ سربراہ/سلیکشن کمیٹی کی تبدیلی؟

جواب: وہ بھی بہت ہوچکی، اور کسی سابق کھلاڑی سے لے کر بیوروکریٹ یا فوجی سربراہ کے دور میں بھی ہماری کارکردگی تسلسل نہ پا سکی (ہو بھی کیسے جب ہمارے سابق کھلاڑی اپنے کسی پسندیدہ کھلاڑی کو ’برانڈ‘  کہہ کر ہر قسم کے احتساب سے بالاتر قرار دیں تو پھر میرٹ کی تو کوئی حیثیت ہی نہیں رہ گئی ناں)

سوال3: کوچ اور دیگر اسٹاف کی تبدیلی؟

جواب: جب جاوید میانداد جیسا عظیم بلے باز شاہد آفریدی کو محض چند گیندوں تک صبر کرنے اور ہر گیند کو میرٹ پر کھیلنے کے لیے قائل نہ کر سکے، جہاں جیسن گلیسپی جیسے بین الاقوامی کھلاڑی مقامی اہلکاروں کی جانب سے اپنے کام میں مداخلت کی شکایت کریں، جہاں جونٹی رہوڈز جیسے شاندار فیلڈر بھی ہماری فیلڈنگ میں 30 یا 40 فیصد سے زیادہ بہتری نہ لا سکیں کہ ہم فٹنس پر توجہ ہی نہیں دیتے تو کوئی اور کیا کر سکے گا؟

آپ نے اوپر کیے گئے سوال ملاحظہ کیے۔۔۔۔ان سب میں ایک بات مشترک ہے، یعنی ‘‘افراد‘‘ کی تبدیلی پر زور۔

لیکن جیسا کہ جوابات سے ظاہر ہے کہ وہ سب ہم ان گنت بار کر چکے لیکن اپنی تاریخ کے عظیم ترین کھلاڑیوں کی موجودگی میں بھی ہم کبھی ’’فاتح عالم ٹیم‘‘ نہ بن سکے۔

تو حل آخر ہے کیا؟

جواب، کم از کم اس ناچیز کی ناقص رائے میں تو کتھارسس ہے، یعنی اپنا تجزیہ۔

تو آئیے تجزیہ کرتے ہیں۔

کھیل میں سیاسی مداخلت: جس ملک میں سربراہ مملکت کے پاس ’’پیٹرن انچیف‘‘ جیسا عہدہ ہو اور وہ جب چاہے، جسے چاہے، بورڈ کا سربراہ لگا دے تو ایسے میں بورڈ کا ہر سربراہ اپنے سیاسی لیڈر کی خوش نودی کرے گا نا یا پھر میرٹ پر معاملات چلائے گا؟

مئی 1949ء میں اپنے قیام کے بعد سے 1960ء  تک، 11 سالوں میں بورڈ کے 7 سربراہ تبدیل ہوئے۔

صرف 1999ء کے سال میں چار افراد چئیرمین رہے جب کہ مئی 2013ء سے مئی 2014ء کے دوران تو گویا چئیرمین شپ کے لیے میوزیکل چئیر کھیلی گئی جس میں 7 دفعہ چئیرمین تبدیل ہوئے۔

پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں صرف 4 سربراہان نے چار چار سال تک یہ عہدہ سنبھالا اور وہ ’’سب‘‘ فوجی تھے، یعنی وہ صرف اس لیے اپنی مدت پوری کرنے میں کامیاب رہے کہ ان کا ’’کِلّا‘‘ مضبوط تھا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ بورڈ کو ایک خود مختار ادارہ بنایا جائے جس کا سیاست سے کوئی لین دین نہ ہو۔ بورڈ کا اپنا آئین ہو جس کے تحت ممبر ادارے ڈائریکٹرز اور سربراہ کا چناؤ کریں۔

اقرباء پروری: 50ء اور 60ء  کی دہائیوں میں پاکستان کرکٹ 2 شہروں میں تقسیم تھی یعنی کراچی اور لاہور۔ اب جس شہر کا کپتان ہوتا وہ میرٹ کی بجائے ’’اپنے بندے‘‘ منتخب کرنے کو ترجیح دیتا، جس سے اصل نقصان ٹیم کا ہوتا۔

90ء کی دہائی کی ’’کپتانی جنگیں‘‘ بھی سب کے علم میں ہیں۔ انضمام کے بعد کپتانی کے لیے جو دنگل ہوا اس کا نتیجہ ’’اسپاٹ فکسنگ گیٹ‘‘ کی شکل میں ملک کو بدترین حد تک رسوا کرگیا۔

چناںچہ یہ بے حد ضروری ہے کہ بورڈ ایسے فسادیوں پر سخت ہاتھ رکھے، سب کو پتا ہو کہ کپتان منتخب کرنا یا اسے ہٹانا صرف اور صرف بورڈ کا استحقاق ہے اور اس عمل میں مداخلت/من مانی کرنے والے کھلاڑی کو بھرپور سزا ملے۔

ٹیم میں دوست نواز کلچر کا خاتمہ بھی ضروری ہے۔ اس کے لیے ایک ایسی سلیکشن کمیٹی ہونا لازم ہے جس پر سب کھلاڑیوں کا اعتماد ہو جو کہ صرف عملی فیصلوں سے ہی آ سکتا ہے (بشرطے کہ وہ مبنی بہ انصاف ہوں)

نیز یہ کہ وہ سب پرانی روایات کہ جو کھلاڑی ڈومیسٹک میں پرفارم کر رہا ہے لیکن ’’چہیتا‘‘ نہیں ہے تو اسے ایک دو مشکل میچ کھلا کر ہمیشہ کے لیے آؤٹ کردیا جائے، جیسے کہ فواد عالم۔ یہی نہیں، ماضی کے ہر سازشی کھلاڑی کو بورڈ میں کسی بھی قسم کا عہدہ دینے سے گریز کیا جائے۔

فرسودہ سوچ سے نجات: انگریزی میں کہتے ہیں کہ:

’’اگر آپ ہمیشہ وہی کریں گے جو آپ ہمیشہ سے کرتے چلے آئے ہیں تو ہمیشہ وہی نتائج پائیں گے جو آپ کو ہمیشہ سے ملتے چلے آئے ہیں۔‘‘

یہاں ہم انگلینڈ سے سبق سیکھ سکتے ہیں۔ وہ بھی روایت پسند تھے، 90ء کی دہائی میں ایک روزہ کرکٹ نے جو تبدیلیاں دیکھیں، ان کے مطابق خود کو ڈھالنے سے انکار کرتے رہے۔ نتیجے میں ہر عالمی ٹورنامنٹ میں بدترین شکست ان کا مقدر ٹھہری۔ (یہ لوگ محدود اوورز میں بھی ٹیسٹ کے کھلاڑی منتخب کیا کرتے تھے۔)

لیکن 2015ء کے عالمی کپ میں شکست ان کے لیے ’’اونٹ کی کمر پر آخری تنکا‘‘ ثابت ہوئی۔

جب انہوں نے اپنی سوچ بدلی اور متعلقہ فارمیٹ میں اس سے ہم آہنگ کھلاڑی منتخب کیے تو محض چار سالوں میں وہ عالمی چیمپیئن بن گئے۔

ٹیسٹ کرکٹ میں بھی انہوں نے 2022ء میں پاکستان کو پاکستان میں بدترین شکست دے کر سب کو دکھا دیا کہ مردہ پچوں پر کیسے جیتا جاتا ہے۔

پاکستان اس معاملے میں ابتدا، پرانی مینجمنٹ کو فارغ کرکے کر سکتا ہے (یہاں معاملہ الٹ ہے کہ ہر بار پرانی سوچ والے بندوں کو اعلیٰ عہدے دے جاتے ہیں)۔

اللے تللوں سے پرہیز : چند سال قبل ایک مضمون پڑھا جس کے مطابق بورڈ کے بہت سے عہدے دار بھاری تنخواہوں کے علاوہ ’’کرایہ داری الاؤنس‘‘ بھی لیتے ہیں جب کہ ان کی لاہور میں اپنی ذاتی رہائش گاہیں موجود ہیں۔

اسی طرح آنے جانے کا مستقل الاؤنس اور دیگر غیرضروری بھاری اخراجات کو کم کرکے یہی رقم انفرااسٹرکچر کو بہتر کرنے پر لگائی جا سکتی ہے (کسی کو یاد ہے کہ چند سال قبل کیسے محض اپنے چہیتے سابقہ کھلاڑیوں کو بطور ’’مینٹور‘‘ نوازنے کے لیے بطور خاص نئے ٹورنامنٹ تشکیل دے دیے گئے تھے)

اکثر شائق سیٹوں کے بہتر زاویے پر نہ ہونے کی شکایت کرتے ہیں، اس کے علاوہ واش روم اور دیگر سہولیات کو بھی بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔

یہی نہیں، حفاظت پر مامور پولیس کے رویے کی شکایت عام ہے جسے متعلقہ عملے کو تربیتی کورس کرا کے دور کیا جا سکتا ہے۔

شٹل سروس کو یونیورسٹی پوائنٹ کے انداز میں چلا کر بہتر کیا جا سکتا ہے۔

زہریلے مداحوں سے بچاؤ: مرزا غالب نے کہا تھا:

یہ فتنہ آدمی کی خانہ ویرانی کو کیا کم ہے

ہوئے تم دوست جس کے، دشمن اس کا آسماں کیوں ہو؟

پچھلے دس بارہ سالوں سے پاکستانی شائقین میں زہریلے، خوشامدی اور کذاب مداحوں کے بہت سے گروہ پیدا ہوچکے ہیں۔ یہ لوگ کسی ایک یا چند کھلاڑی کو اپنا ’’دیوتا‘‘ بنالیتے ہیں اور پھر چاہے ان کی کارکردگی کتنی ہی خراب کیوں نہ ہو، یہ لوگ طرح طرح کے جھوٹ بول کر، حقائق کو مسخ کرکے، تصویر کا صرف ایک رخ دکھا کر ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کھلاڑیوں کا تو کوئی قصور ہے ہی نہیں۔ دوسرے الفاظ میں ان کا پسندیدہ کھلاڑی ٹیم اور ملک سے بلند تر ہے اور ہر طرح کے احتساب سے ماوراء ہے۔

ایسے زہریلے مداحوں سے کھلاڑیوں کو بچانا اور ان کے پھیلائے گئے جھوٹ کا ادارہ جاتی سطح پر تدارک ضروری ہے۔

 فٹنس پر توجہ: انڈین سپراسٹار ویرات کوہلی 37 سال کی عمر میں بھی بہترین کارکردگی دکھا رہے ہیں تو اس کی اصل وجہ پرفیکٹ فٹنس ہے جس کے لیے ظاہر ہے کہ بہت محنت کرنا پڑتی ہے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا،’’مجھے چاول بہت پسند ہیں لیکن میں نے 18 سال سے چاول نہیں کھائے کیوںکہ یہ اسٹیمنا کو ڈسٹرب کرتے ہیں۔‘‘

اب آئیں اپنی طرف، 2023ء  میں انڈیا میں جو ورلڈکپ ہوا، وہاں بابر سے پوچھا گیا کہ ’’آپ کو کھانے میں کیا پسند ہے؟‘‘ تو بابر کا جواب تھا، ’’حیدرآبادی بریانی اور میں ہفتے میں 2 سے 3 دفعہ اسے کھاتا ہوں۔‘‘

ابھی جو ایبٹ آباد میں ٹورنامنٹ ہوا، کھلاڑیوں نے اپنے سوشل میڈیا پر فاسٹ فوڈ کھاتے ہوئے تصاویر ڈالیں۔ کھانے کے ساتھ بڑے سے جگ میں کولڈ ڈرنکس پی جا رہی تھیں۔ کیا ان کھلاڑیوں کو کوئی بتانے والا نہیں ہے کہ پراپر ڈائٹ کون سی ہے اور کب لینی ہے؟

وسیم اکرم نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ’’عمران خان کے دور میں ہم لوگوں کو پیزا، برگر اور دیگر فاسٹ فوڈ کھانے کی بالکل اجازت نہیں تھی اور میں نے ایک دفعہ کھانے کی غلطی کرلی تھی پھر اس کا خمیازہ بھی بھگتا تھا۔‘‘

اسپورٹس کا براہ راست تعلق آپ کی فٹنس سے ہے اور انڈین بورڈ اس کے لیے خصوصی پروگرام ترتیب دیتا ہے  جب کہ ہمارے بورڈ اور کھلاڑیوں کا اللہ ہی حافظ ہے۔

بہتری کے لیے تجاویز:

ہم جانتے ہیں کہ حکم رانوں اور بورڈ حکام کے کانوں پر ہماری تجاویز سے جوں تک نہیں رینگے گی اور یہ آوازنقارخانے میں طوطی کی آواز بن کر گم ہو جائے گی لیکن ہم پھر بھی چند تجاویز پیش کیے دیتے ہیں۔

بورڈ کی آئینی و سیاسی خودمختاری: وزیر اعظم کا ’’پیٹرن ان چیف‘‘ ہونا اور ڈائریکٹ چیئرمین نام زد کرنے کا اختیار ختم کیا جائے۔ پی سی بی کو ایک مستقل آئین کے تحت چلایا جائے جہاں ڈومیسٹک ریجنز اور کلبز کے منتخب نمائندے بورڈ آف گورنرز تشکیل دیں۔

ڈومیسٹک کرکٹ میں استحکام: ہر نئے چیئرمین کے ساتھ ڈومیسٹک کرکٹ کا نظام (ڈیپارٹمنٹل بمقابلہ ریجنل) بدلنے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ ایک مستقل 5 سے 10 سالہ ڈومیسٹک ماڈل بنایا جائے جس میں تبدیلی آئینی ترمیم کے بغیر ممکن نہ ہو۔

پچز کا معیار اور اسپورٹس سائنس: ملک میں معیاری  پچز تیار کی جائیں جو ہر علاقے کی مٹی کے مطابق ہوں، یعنی کہیں تیز تو کہیں سپن بالنگ کے لیے سازگار، تاکہ بلے بازوں اور باؤلرز دونوں کی بین الاقوامی معیار پر تربیت ہوسکے۔ اس کے ساتھ ہر ریجنل اکیڈمی میں جدید ترین سپورٹس سائنس، بائیو مکینکس اور ڈیٹا اینالیٹکس کا استعمال لازمی کیا جائے۔

فٹنس پر کوئی سمجھوتا نہ ہو: ڈومیسٹک اور بین الاقوامی کرکٹ، دونوں سطحوں پر فٹنس کے سخت ترین معیار (جیسے یو یو ٹیسٹ یا 2 کلومیٹر دوڑ) لاگو کیے جائیں۔ کوئی بھی کھلاڑی، خواہ وہ نام و مقام میں کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو فٹنس معیار پر پورا اترے بغیر ٹیم میں شامل نہ کیا جائے۔

کوچنگ اور انتظامیہ کی پیشہ ورانہ تشکیل: سابق نام ور کھلاڑیوں کو محض ان کے نام کی بنیاد پر انتظامی یا کوچنگ کے عہدے دینے کے بجائے جدید کوچنگ لیول کی ڈگریاں اور صلاحیت رکھنے والے پیشہ ور افراد کو میرٹ پر لایا جائے۔

 کہتے ہیں کہ ’’ہزار کلومیٹر طویل سفر کا آغاز بھی پہلے قدم سے ہی ہوتا ہے‘‘ اسی طرح کوئی بھی حقیقی تبدیلی اپنی کمی اور کوتاہی کو تسلیم کرکے ہی لائی جا سکتی ہے۔  





Source link

متعلقہ پوسٹ