السٹریشن، دی وائر/ پری پلب چکرورتی
مودی نے میڈیا اور پرسیپشن کو مکمل طور پر مینیج تو کر لیا، لیکن تاریخ کی عدالت میں یہ حقیقت ہمیشہ درج رہے گی کہ انہوں نے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے چوتھے ستون کو اپنے ذاتی خوف، پراسراریت اور انا کی بھینٹ چڑھا کر گونگا کر کے دیگر ملکوں کے لیڈروں کو بھی راہ دکھائی۔
سال 2002 میں گجرات کے مسلم کش فسادات کے بعد، جن میں دو ہزار سے زائد بے گناہ افراد مارے گئے، نریندر مودی سے پوچھا گیا کہ کیا اتنے بڑے انسانی المیے پر انہیں کوئی پچھتاوا یا ملال ہے؟ ان کا جواب حد درجہ سرد مہر، غیر جذباتی اور چونکا دینے والا تھا۔ انہوں نے بلا جھجک اور بغیر کسی لگی لپٹی کے کہا، ”ہاں، مجھے صرف ایک ہی پچھتاوا ہےکہ میں میڈیا کو مینج نہیں کر سکا۔“
اس ایک جملے نے آنے والے برسوں کے لیے اس بات کا اعلان کر دیا تھا کہ نریندر مودی میڈیا پر گرفت سخت کرنے کے فراق میں ہیں۔ گجرات کے فسادات کے بعد سے لے کر آج تک مودی نے میڈیا کو مینج کرنے کو اپنے اقتدار کی بقا کا سب سے سفاک اور بے لچک فارمولہ بنا رکھا ہے۔
یہ ایک تسلیم شدہ تاریخی سچائی ہے کہ ہندوستان میں میڈیا کبھی بھی ریاستی اسٹیبلشمنٹ کے اثرات، قومی بیانیے اور اسٹریٹجک مفادات سے بالکلیہ لاتعلق یا ماورا نہیں رہا ہے۔ قومی سلامتی اور اسٹریٹجک نوعیت کے حساس معاملات پر میڈیا نے دہائیوں سے خود اپنی سرخ لکیریں اور ایک قسم کی غیر اعلانیہ سیلف سنسرشپ قائم کر رکھی تھی۔
نئی دہلی کے پاور کوریڈورز میں ایک غیر تحریری ضابطہ اخلاق رائج تھا کہ صدر جمہوریہ، وزیر اعظم، چیف جسٹس آف انڈیا، لوک سبھا و راجیہ سبھا کے پریزائیڈنگ افسران یعنی اسپیکر اورنائب صدر اور تینوں مسلح افواج، بری، بحری اور فضائیہ کے سربراہان کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا، اور روایتی پریس عمومی طور پر اس لکیر کی مکمل پاسداری کرتا تھا۔ لیکن ان مخصوص لکیروں اور روایتی تقاضوں کے علاوہ، باقی تمام تر عوامی، سیاسی اور انتظامی معاملات پر میڈیا غیر معمولی حد تک نڈر، خودمختار، فعال اور متحرک تھا۔
کانگریس کے میڈیا سے فاصلہ رکھنے کے مغرورانہ انداز کے برعکس بھارتیہ جنتا پارٹی میڈیا کی طاقت، عوامی نبض اور اس کی پیشہ ورانہ ضروریات سے بخوبی واقف تھی۔ بی جے پی کے سینئر رہنما لال کرشن اڈوانی کی پریس کانفرنسوں اور میڈیا بریفنگ میں شریک ہونا نامہ نگاروں کے لیے ہمیشہ ایک پیشہ ورانہ اور فکری لطف کا باعث ہوتا تھا، کیونکہ وہ میڈیا کی نبض شناسی میں ید طولیٰ رکھتے تھے اور بخوبی جانتے تھے کہ پریس کو کیا مواد چاہیے اور ان کی بنیادی پیشہ ورانہ ضروریات کیا ہیں۔پریس کانفرنس ختم ہوتے ہی، ان کا بیان اور کانفرنس کے دوران اٹھائے گئے اہم نکات تحریری طور پر تقسیم کیے جاتے تھے۔
اسی دور میں بی جے پی کے آنجہانی رہنما پرمود مہاجن نے پارٹی کی میڈیا اسٹریٹجی میں ایک نیا فکری انقلاب اور تنظیمی کلچر متعارف کرایا۔ انہوں نے بی جے پی کے ارکان پارلیامنٹ اور سینئر رہنماؤں پر سخت زور دیا کہ وہ نئی دہلی کے انگریزی پریس کے پیچھے بھاگنے کے بجائے مقامی، علاقائی اور ریاستی زبانوں کے اخبارات کو اولیت اور وزن دیں، کیونکہ آپ کا اصل ووٹر دہلی کا انگریزی کالم نگار نہیں بلکہ علاقائی زبان کا عام قاری ہے۔
مہاجن اکثر ہندوستانی سیاست دانوں کی نوآبادیاتی غلامانہ ذہنیت پر طنز کرتے ہوئے ایک دلچسپ واقعہ اور ترتیب بیان کیا کرتے تھے۔ جب امریکی اخبار نیویارک ٹائمز یا میگزین ٹائم کا فون آتا ہے تو ہمارے رہنما فوراً اپنا وقت اور بریفنگ دینے کے لیے حاضر ہو جاتے ہیں؛ اگر دہلی کا روزنامہ ’ٹائمز آف انڈیا‘ کال کرے تو کہتے ہیں ایک گھنٹے بعد تشریف لائیے؛ اگر کسی بڑے قومی ہندی اخبار کا نمائندہ رابطہ کرے تو اسے کل کا وقت دیا جاتا ہے؛ اور اگر کوئی مقامی، دیہی یا علاقائی پریس کا صحافی دروازے پر آ جائے تو اسے ملاقات کے لیے درجنوں چکر پہ چکر کٹوائے جاتے ہیں۔
پرمود مہاجن نے پارٹی قیادت کے سامنے اس پوری ترجیحی ترتیب کو الٹ دیا اور انہیں دو ٹوک سمجھایا کہ یہ مقامی پریس ہی ہے جسے تمہارا اصل ووٹر روزانہ صبح پڑھتا ہے، لہٰذا اس مقامی پریس کے ساتھ مضبوط روابط رکھو اور اس کی مناسب دیکھ بھال کرو۔
عوامی حلقوں میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ میڈیا کے ساتھ مودی کی کشیدگی اور کیمرے کے سامنے سے بھاگ کھڑے ہونے کا سلسلہ اکتوبر2007 کے اس مشہور انٹرویو سے شروع ہوا تھا، جب سی این این-آئی بی این کے پروگرام ’ڈیولز ایڈوکیٹ‘ میں معروف صحافی کرن تھاپر نے ان سے گجرات فسادات کے حوالے سے کڑوے اور تیکھے سوالات پوچھے تھے۔
اس انٹرویو میں بہ مشکل تین سے چار منٹ کے اندر مودی کے ماتھے پر پسینہ آ گیا تھا، وہ کیمرے کے سامنے سے انٹرویو ادھورا چھوڑ کر واک آؤٹ کر گئے۔لیکن برسوں سے بی جے پی کو کور کرنے والے یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ مودی کا پریس سے یہ خوف اور تیکھے سوالات سے بھاگنے کی جبلت گجرات کا وزیر اعلیٰ بننے کے بعد پیدا نہیں ہوئی تھی، بلکہ یہ ان کے مزاج کا بنیادی حصہ تھی۔وزیر اعلیٰ بننے سے قبل، جب نریندر مودی نئی دہلی میں بی جے پی کے جنرل سکریٹری اور پارٹی ترجمان کے فرائض انجام دے رہے تھے۔
اس زمانے میں انگریزی روزنامے دی ہندو کی انتہائی بے باک نامہ نگار نیینا ویاس جب بھی اپنے مخصوص تیکھے انداز میں مودی سے کوئی سوال پوچھتیں تو مودی جواب دینے کے بجائے طیش میں آ جاتے اور مائیک چھوڑ کر پریس بریفنگ سے ہی واک آؤٹ کر جایا کرتے تھے۔
عام انتخابات میں بھاری اکثریت سے اقتدار حاصل کرنے کے فوراً بعد 2014 میں نریندر مودی نے سب سے پہلا کلہاڑا اسی صحافت کی جمہوری روایت پر چلایا۔ انہوں نے وزیر اعظم، صدر اور نائب صدر کے ملکی اور بین الاقوامی دوروں پر سینئر صحافیوں کے باضابطہ وفد کو ساتھ لے جانے کا دہائیوں پرانا طریقہ کار یکسر منسوخ کر دیا۔ماضی میں یہ ایک مسلمہ اور مستحکم جمہوری روایت تھی کہ چاہے صدر جمہوریہ کا غیر ملکی دورہ ہو، نائب صدر کا یا وزیر اعظم کا، پورے ملک کے طول و عرض سے 30 صحافیوں کا ایک گروپ ببیچ کی صورت میں منتخب کر کے سرکاری چارٹر طیارے میں ساتھ لے جایا جاتا تھا۔
اس کا تنظیمی طریقہ کار یہ تھا کہ نئی دہلی میں بیورو رکھنے والے اخبارات کے باقاعدہ مشترکہ پول بنائے جاتے تھے۔مثال کے طور پر، جب میں خود کشمیر ٹائمز کی جانب سے نئی دہلی میں تعینات تھا، تو ہمارے اخبار کو شمالی ہند کے انگریزی اخبارات کے زمرے میں چنڈی گڑھ کے مشہور روزنامے دی ٹریبیون کے ساتھ پول کیا گیا تھا۔ بعد کے برسوں میں جب میں روزنامہ ڈی این اے میں خدمات انجام دے رہا تھا، تو ہمیں قومی سطح کے معروف انگریزی اخبار دی انڈین ایکسپریس کے ساتھ ایک پول میں رکھا گیا تھا۔
اس کا ضابطہ یہ تھا کہ ایک دورے میں اگر انڈین ایکسپریس کا نمائندہ جاتا، تو اگلے دورے کے لیے ڈی این اے کو باضابطہ دعوت نامہ موصول ہوتا تھا۔اسی طرح ہندوستان ٹائمز اور ٹائمز آف انڈیا ایک پول میں تھے۔
اس پریس وفد کی اصل روح اور خوبصورتی یہ تھی کہ اس نے دہلی کے محدود اور مراعات یافتہ صحافتی حلقے کے بجائے پورے ہندوستان کے جغرافیائی، لسانی اور ثقافتی تنوع کو آواز دی تھی۔
اس چارٹر فلائٹ میں جنوبی ہندوستان کے دور افتادہ خطے کے ایک ملیالم اخبار کے ایڈیٹر کو شمال-مشرق کی کسی چھوٹی ریاست کے مقامی اخبار کے ایڈیٹر کے ساتھ کئی روز تک بیٹھنے، خیالات کا تبادلہ کرنے اور قومی و بین الاقوامی معاملات پر براہ راست بات چیت کا نادر موقع ملتا تھا۔
اسی دیو ہیکل طیارہ کے چار حصے ہوتے تھے۔ سب سے اگلے حصے یا اوپر کی منزل پر وزیر اعظم یا صدر اپنی فیملی کے ساتھ سفر کرتے تھے۔ پھر وزیروں اور افسران کا کیبن ہوتا تھا، جہاں ان کا کانفرنس روم وغیرہ بھی ہوتا تھا اور دستاویزات کو آخری شکل دی جاتی تھی یا وزیر اعظم یا صدر کی تقریر کی نوک پلک درست کی جاتی تھی۔پھر تیسرے کیبن میں 30کے قریب صحافیوں کا وفد ہوتا تھا۔
اس کیبن کی خاص بات یہ ہوتی تھی کہ اس کے ساتھ بہترین شرابوں سے مزین بار منسلک ہوتا تھا۔ پھر جہاز کے آخری حصہ میں وزیر اعظم کی حفاظت پر مامور اسپیشل پروٹکیشن گروپ کے کمانڈوز سفر کر رہے ہوتے تھے۔ وزراء و افسران جب فارغ ہوجاتے تھے، تو شراب پینے صحافیوں کے کیبن میں آکرگھل مل جاتے تھے۔ یقین نہیں آتا تھا کہ کوئی اعلیٰ افسر جس تک دہلی میں رسائی ہی خواب لگتی تھی، شراب کا جام اٹھائے کھل کر گفتگو کر رہا ہے۔
اس سے ایک فائدہ یہ ہوتا تھا کہ کئی دریچے کھل جاتے تھے۔مختلف معاملات پر حکومت کی ریڈ لائنز کا ادراک ہوجاتا تھا، جو بعد میں آرٹیکل میں بین السطور تحریر کی جاتی تھی۔ سب سے اہم بات یہ کہ پرواز کے دوران واپسی پر وزیر اعظم بذات خود پریس کیبن میں آ کر نامہ نگاروں کے ساتھ گھل مل جاتے۔ پریس کانفرنس کے علاوہ غیر رسمی نشست کرتے، سوالات سنتے اور ملک کے ہر کونے کی نبض پر کھلی بحث ہوتی تھی۔
مودی نے وزیر اعظم کا منصب سنبھالتے ہی اس تاریخی پل کو ایک ہی جھٹکے میں منہدم کر دیا۔ وہ اب غیر ملکی دوروں پر بالکل اکیلے جاتے ہیں۔ ان کے ساتھ میڈیا کا کوئی نامہ نگار، رپورٹر یا تجزیہ کار نہیں ہوتا، بلکہ صرف نیوز ایجنسی اے این آئی اور سرکاری دور درشن کے کیمرہ مین اور کبھی کبھار برائے نام پریس ٹرسٹ آف انڈیا(پی ٹی آئی) کا ایک رپورٹر ساتھ لیا جاتا ہے۔
یہ ذہن میں رہے کہ میڈیا کے جو افراد ساتھ جاتے تھے، وہ ہوٹل وغیرہ کا خرچہ خود برداشت کرتے تھے۔ صرف جہاز کی سواری مفت میں ہوتی تھی۔ کیونکہ ایر انڈیا ون ایک دیو ہیکل طیارہ ہوتا ہے اور اس میں خاصی گنجائش ہوتی ہے۔
مودی کے اقتدار سنبھالنے کے چند روز بعدہی وزیر اعظم ہاؤس میں معروف ماہرِ معاشیات ببیک دیبرائے کی کتاب کے اجراء کی تقریب تھی۔ یہ میرے خیال میں مودی کی پریس کے ساتھ آخری انٹر ایکشن تھی۔
کتاب کے اجراء کے بعد وہ ایک گول میز پرصحافیوں کے ساتھ غیر رسمی طور پر بیٹھے۔اس موقع پر ٹائمز آف انڈیا کے سینئر بیورو چیف دیواکر نے موقع غنیمت جانا اور براہ راست وزیر اعظم سے سوال اٹھایا کہ انہوں نے صحافیوں کے وفد کو ہمراہ لے جانے کی شاندار اور تنوع سے بھرپور روایت کو کیوں یکسر ختم کر دیا؟
انہوں نے اس روایت کے صحافتی و قومی فوائد بھی گنوائے۔مودی نے بغیر کسی پس و پیش کے نہایت سپاٹ چہرے کے ساتھ کہا کہ انہوں نے اس معاملے پر باقاعدہ ”ریسرچ“ کر رکھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ”اٹل بہاری واجپائی کے دور میں جب میں بی جے پی کا جنرل سکریٹری تھا اور میرے ذمے شمال-مشرقی ریاستوں کے تنظیمی معاملات تھے، تو اس وقت وزیر اعظم کے دورے کے لیے شمال-مشرق سے کسی ایک اخبار کے ایڈیٹر کا انتخاب کرنا پڑتا تھا۔ اب اس خطے میں تقریباً سو کے قریب اخبارات شائع ہوتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا تھا کہ جس ایک کا انتخاب ہوتا، اس کے علاوہ باقی 99 اخبارات کے ایڈیٹر مجھ سے اور پارٹی سے شدید ناراض ہو جاتے تھے اور حکومت کے خلاف تیکھے مضامین لکھنا شروع کر دیتے تھے۔ چونکہ یہ سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوتا تھا اور حکومت کے خلاف مخالفت کو جنم دیتا تھا، اس لیے میں نے سوچ سمجھ کر اس پورے نظام کو ہی ختم کر دیا ہے۔“
یہ عجیب و غریب منطق اس امر کا کھلا ثبوت تھی کہ مودی کے نزدیک صحافت کا مطلب کثیر جہتی جمہوری مکالمہ نہیں تھا، بلکہ وہ اسے صرف سیاسی نفع و نقصان، خوشامد اور ناراضگی کے کھاتے کے طور پر دیکھتے تھے، جسے اگر اپنے حق میں سو فیصد مینج نہ کیا جا سکے تو اس کی جڑ کاٹ دینا ہی ان کا وطیرہ تھا۔
صحافت اور نامہ نگاروں کے ساتھ مودی کے اس رویے کی جھلکیاں دیکھنے کے لیے مجھے کسی دوسرے کے بیانات کا سہارا لینے کی ضرورت نہیں؛ یہ سب کچھ میں نے نئی دہلی کے میدانِ صحافت میں خود اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں تجربہ کیا ہے۔ میرا مودی سے واسطہ اس وقت سے تھا جب وہ گجرات کے وزیر اعلیٰ بھی نہیں بنے تھے۔ 1990 کی دہائی کے اواخر میں وہ بی جے پی کے جنرل سکریٹری کے طور پر جموں و کشمیر کے تنظیمی انچارج کی ذمہ داریاں سنبھال رہے تھے. چونکہ میں انگریزی روزنامہ کشمیر ٹائمز کے لیے دہلی سے رپورٹنگ کر رہا تھا، اس لیے وہ خود اپنے دورہ جموں و کشمیر کا شیڈول میرے ساتھ شیئر کیا کرتے تھے تاکہ اخبارات میں ان کی سرگرمیوں کو کوریج مل سکے۔
لیکن کچھ ہی عرصے بعد میں نے یہ غیر معمولی بات نوٹ کی کہ جو سفری شیڈول وہ مجھے کوریج کے لیے بتاتے تھے، زمینی سطح پر وہ اکثر اس کے بالکل برعکس نکلتا تھا۔ اسی طرح ایک بار انہوں نے بی جے پی کے مقامی یونٹ اور اس کے کئی لیڈران کے بارے میں کئی بار بریف کیا، جو غلط معلومات ثابت ہوئی۔
رفتہ رفتہ اور بار بار کے مشاہدے سے مجھ پر یہ حقیقت پوری طرح عیاں ہو گئی کہ مودی کو دراصل میڈیا کو دانستہ طور پر غلط اور گمراہ کن معلومات فراہم کرنے کی ایک عجیب و غریب عادت تھی۔
جب اخبارات میں ان کی دی ہوئی معلومات کے مطابق خبر شائع ہو جاتی اور زمینی حقائق اس کے الٹ نکلتے، جس کے نتیجے میں صحافیوں کی ساکھ پر حرف آتا اور ان کی رپورٹنگ غلط ثابت ہوتی، تو مودی کو اس پر ایک پراسرار اور عجیب قسم کا اطمینان اور دلی مسرت محسوس ہوتی تھی۔ انہیں شروع سے ہی اس بات کا شدید چسکا تھا کہ صحافی ان کے اگلے قدم کا کبھی صحیح اندازہ نہ لگا سکیں۔
ان کے اس رویے اور میڈیا کو جھٹلانے کی نفسیات کا سب سے بڑا، سنسنی خیز اور دہلا دینے والا ذاتی مشاہدہ مجھے جولائی 2016ء میں ہوا۔ اس وقت میں روزنامہ ڈی این اے کے لیے باضابطہ طور پر وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) اور راشٹرپتی بھون کے معاملات کور کر رہا تھا۔ 5 جولائی 2016ء کو وزیر اعظم نریندر مودی اپنی کابینہ میں ایک بہت بڑی اور غیر معمولی رد و بدل اور توسیع کا حتمی منصوبہ بنا چکے تھے۔
مجھے اپنے انتہائی بااعتماد اور اعلیٰ سطحی ذرائع سے اس کی اندرونی اطلاع مل گئی تھی۔ پیشہ ورانہ تگ و دو اور رات دن کے روابط کے بعد میں ان تمام نئے وزراء کی مکمل اور مستند فہرست حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا جنہیں 5 جولائی2016ء کی صبح راشٹرپتی بھون میں حلف اٹھانا تھا۔ہمارے اخبار کی پولیٹکل ایڈیٹر امیتا شا تھیں، جو نئی دہلی کے صحافتی حلقوں میں ایک بڑا نام تھیں اور پریس ٹرسٹ آف انڈیا (پی ٹی آئی)، دی اکنامک ٹائمز اور پھر ڈی این اے میں پندرہ سال سے زائد عرصے سے تسلسل کے ساتھ بی جے پی کی رپورٹنگ کر رہی تھیں اور پارٹی کے اعلیٰ حلقوں میں ان کا گہرا اثر تھا۔ جب میں نے یہ اہم ترین فہرست اور اطلاعات ان کے ساتھ شیئر کیں، تو انہوں نے بھی اپنے معتبر ذرائع سے اس کی تصدیق کی اور ان تمام ناموں پر مہر لگائی۔
طے پایا کہ ہمارے اخبار کے لیے یہ خبر 5جولائی 2016ء کی صبح صفحہ اول پر ہمارے مشترکہ بائی لائن کے ساتھ مین لیڈ کے بطور شائع ہوگی۔مگر اصل ڈراما 4 جولائی کی شام کو شروع ہوا۔اس وقت کی مودی کابینہ کے سب سے طاقتور وزیر اور دہلی کے صحافیوں میں سب سے مانوس اور گہرے روابط رکھنے والے سینئر رہنما ارون جیٹلی نے اسی رات وزیر اعظم مودی کے اعزاز میں اپنے گھر پر ایک نجی عشائیہ کا اہتمام کر رکھا تھا۔
اس عشائیے کی میز پر نئی دہلی کے چنندہ اور مخصوص ایڈیٹرز کو مدعو کیا گیا تھا، اور بی جے پی میں طویل رپورٹنگ کے پس منظر کے باعث ہماری پولیٹکل ایڈیٹر امیتا شابھی اس میں شریک تھیں۔جیٹلی کے گھر روانہ ہونے سے قبل امیتا شا نے مجھ سے کہا کہ عشائیے کے دوران وہ خود وزیر اعظم مودی سے اس ردوبدل کی مزید کچھ باریکیاں اور اندرونی تفصیلات بھی حاصل کر لیں گی، اور اگر کوئی نئی بات سامنے آئی تو وہ فون کر کے اس لیڈ اسٹوری میں اس کا اضافہ کروا دیں گی۔
رات گئے، جب اخبار کا صفحہ اول چھپائی کے لیے پریس میں جانے کے بالکل آخری مراحل میں تھا، اچانک امیتا کا فون آیا۔ ان کی آواز میں شدید گھبراہٹ، خوف اور اضطراب تھا۔ انہوں نے فون پر مجھ پر سخت اصرار اور دباؤ ڈالنا شروع کیا کہ ہمیں یہ پوری اسٹوری فوراً اور مکمل طور پر ڈراپ کرنی ہوگی اور کابینہ کے رد و بدل کی کوئی خبر نہیں چھپے گی۔جب میں نے اس گھبراہٹ کی وجہ پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ عشائیے کی میز پر خود وزیرِ اعظم نریندر مودی نے ایڈیٹرز کے سامنے کابینہ میں کسی بھی قسم کے بڑے رد و بدل یا توسیع کی خبر کو یکسر، دو ٹوک اور سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
مودی نے خود جس قطعی انداز میں اس کا انکار کیا تھا، اس کے بعد پولیٹکل ایڈیٹر کا مؤقف تھا کہ چونکہ خبر پر ان کا نام بھی جا رہا ہے، اس لیے اگر ہم نے یہ خبر لگائی تو اخبار اور ہم دونوں کی ساکھ خاک میں مل جائے گی اور پوری دنیا میں جگ ہنسائی ہوگی۔
مودی کا صحافیوں کو جھوٹ بول کر گمراہ کرنے کا پرانا انداز میرے ذہن میں پوری طرح تازہ تھا۔ میں نے کہا کہ میں ایک بار پھر تصدیق کروں گا۔ آدھی رات کے اس نازک موڑ پر میں نے راشٹرپتی بھون اور کابینہ سکریٹریٹ میں موجود اپنے اعلیٰ ترین ذرائع سے دوبارہ رابطہ کیا۔
وہاں سے دو ٹوک الفاظ میں تصدیق کی گئی کہ راشٹرپتی بھون کے دربار ہال میں حلف برداری کے انتظامات حتمی شکل پا چکے ہیں، صدر جمہوریہ کو کوئی ایسا پیغام نہیں ملا کہ رد و بدل منسوخ ہو رہا ہے، اور جو وزراء کی فہرست مجھے ملی ہے وہ حرف بہ حرف درست اور برقرار ہے۔
جب میں نے خبر ہٹانے یا واپس لینے سے صاف انکار کر دیا، تو امیتا نے صورتحال کی سنگینی کا واسطہ دے کر ممبئی میں بیٹھے اخبار کے ایڈیٹر ان چیف سے رابطہ کر لیا تاکہ ایڈیٹوریل اتھارٹی کا استعمال کر کے یہ اسٹوری رکوائی جا سکے۔اس رات نئی دہلی کے دیگر بڑے اخبارات کے نیوز رومز میں بھی یہی زلزلہ آیا ہوا تھا۔ روزنامہ دی ہندوکی چیف ایڈیٹر مالنی پارتھا سارتھی خصوصی طور پر چنئی سے پرواز کر کے ارون جیٹلی کے اس عشائیے میں شریک ہونے کے لیے دہلی آئی تھیں۔
جب وہ عشائیے سے واپس دہلی کے آفس پہنچیں اور دیکھا کہ اگلے روز کے صفحہ اول پر کابینہ کے رد و بدل کی لیڈ اسٹوری لگانے کی تیاری ہو رہی ہے، تو انہوں نے اس اسٹوری کو چھپنے سے روک دیا۔ انہوں نے سختی سے حکم دیا کہ وزیر اعظم نے خود عشائیے میں اس کی قطعی تردید کی ہے۔
بالکل یہی المیہ معروف انگریزی اخبار دی ٹیلی گراف کے ساتھ پیش آیا۔ ان کی ریذیڈنٹ ایڈیٹر ماننی چٹرجی نے بھی جیٹلی کے اس عشائیے میں شرکت کی تھی۔ عشائیے سے واپس لوٹتے ہی انہوں نے مودی کے انکار کا حوالہ دے کر اپنے رپورٹرز سے خبر واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ تاہم وہاں ایک سمجھوتہ ہوا کہ خبر کو صفحہ اول کے بجائے اندرونی صفحات میں کہیں دفن کر دیا گیا۔
ہمارے اخبار ڈی این اے میں بھی اس رات شدید اندرونی خلفشار اور بحران پیدا ہو چکا تھا۔ طویل تکرار اور بحث و مباحثے کے بعد بالآخر یہ درمیانی راستہ نکالا گیا کہ خبر کو مرکزی لیڈ اسٹوری سے ہٹا کر دوسری یا تیسری لیڈ بنایا جائے گا، اور یہ خبر بغیر کسی بائی لائن کے جائے گی۔ میں نے اس کڑوے سمجھوتے کو بادل نخواستہ قبول کر لیا تاکہ خبر اخبار سے مکمل طور پر غائب نہ ہو جائے۔
مجھے آج بھی نہیں معلوم کہ اس رات میرے اندر اتنا غیر معمولی اور غیر لچکدار اڑیل پن کہاں سے آ گیا تھا۔ رات گئے جب میں دفتر سے اپنی گاڑی چلا کر گھر جا رہا تھا، تو راستے میں ممبئی سے ایڈیٹر ان چیف کے مسلسل کئی فون کالز آئے کہ اب بھی وقت ہے، پریس کی مشین رکوا کر خبر ڈراپ کروا دی جائے۔ مگر میں مسلسل اصرار کرتا رہا کہ خبر سو فیصد درست ہے اور اسے من و عن شائع ہونا چاہیے۔
آخر کار ایڈیٹر ان چیف مایوس ہو کر پیچھے ہٹ گئے۔لیکن جیسے ہی میں گھر پہنچا اور رات کے سناٹے میں تنہا ہوا، تو اچانک میرے پیٹ میں خوف اور گھبراہٹ کے مروڑاٹھنے لگے۔ میں نے سوچا کہ اگر صبح یہ خبر غلط ثابت ہو گئی، تو کیا بنے گا؟ دفتر کا پورا ایڈیٹوریل اسٹاف اور انتظامیہ مجھے کچا چبا جائیں گے! میرے پاس اب کوئی چارہ نہیں تھا، میں نے رات کی تاریکی میں سارا معاملہ اللہ کی ذات پر چھوڑ دیا۔
اگلی صبح 5 جولائی کو وہی ہوا جس کی گواہی میری فہرست دے رہی تھی۔ راشٹرپتی بھون میں حلف برداری کی تقریب ہو بہو ہمارے اخبار کی خبر کے مطابق منعقد ہوئی۔ کل19 نئے چہروں کو کابینہ میں شامل کیا گیا۔ اس رد و بدل میں اسمرتی ایرانی سے انسانی وسائل اور تعلیم کی اہم ترین وزارت چھین لی گئی، پرکاش جاوڈیکر نئے وزیر تعلیم بنے، اور وینکیا نائیڈو کو وزیر اطلاعات و نشریات بنایا گیا۔
اس شام جب میں دہلی میں اپنے دفتر پہنچا، تو میرا ایسا والہانہ، حیرت زدہ اور غیر معمولی استقبال ہوا جیسا پوری صحافتی زندگی میں پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔یہ ذاتی واقعہ اس بات کا تاریخی دستاویز ہے کہ نریندر مودی ایڈیٹرز کے سامنے خود کتنا بڑا دانستہ جھوٹ بول کر پوری صحافت کو مفلوج اور متذبذب کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے، تاکہ خبر کا سارا بیانیہ صرف اور صرف ان کے پی آر کے کنٹرول میں رہے۔
مودی حکومت میں میڈیا پر گرفت اور اندرونی خبر کے لیک ہو جانے کا خوف کس حد تک بیمار ذہنیت کی شکل اختیار کر چکا تھا، اس کی ایک اور یادگار اور خصوصی مثال مودی حکومت کے اقتدار کا ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر سامنے آئی۔ حکومت نے اپنی پہلی سالگرہ کے موقع پر خواتین کی فلاح و بہبود کے لیے ایک نئی اور پرکشش نام والی اسکیم کا اعلان کرنے کی تیاری کی تھی۔
باقاعدہ منصوبہ یہ تھا کہ سالگرہ والے دن صبح11 بجے ایک پریس کانفرنس بلا کر اس کا شاندار اعلان کیا جائے گا۔ مگر انگریزی اخبار دی انڈین ایکسپریس کی ایک مستعد رپورٹر کو یہ خبر مل گئی اور پریس کانفرنس سے ایک روز قبل اخبار کے صفحہ اول پر ایک خوبصورت اور پرکشش سرخی کے ساتھ اخبار نے اسے اینکر اسٹوری کے طور پر شائع کر دیا، جو کہ اسکیم کے اس پرکشش نام کے عین مطابق تھی۔
اگلی صبح11بجے جب پریس کانفرنس میں سرکاری طور پر اسکیم کا اعلان ہوا، تو انڈین ایکسپریس کی اس رپورٹر کے ہوش اڑ گئے۔ وہ اسکیم اسکی شائع شدہ تفصیلات کے تقریباً بالکل الٹ تھی۔ اسکیم کا نام بدل دیا گیا تھا، اس کے بنیادی مقاصد مختلف تھے اور پورا طریقہ کار تبدیل ہو چکا تھا۔
جب میں نے بعد میں اس کی اندرونی تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ جس د ن انڈین ایکسپریس نے یہ اسٹوری بریک کی تھی، اس دن وزیر اعظم کے دفتر میں کہرام مچ گیا تھا کہ یہ اسکیم وقت سے پہلے لیک کیسے ہو گئی؟
یہ کوئی قومی سلامتی کی خفیہ معلومات نہیں تھیں جس پر پی ایم او اتنا خوفزدہ ہو جاتا، مگر مودی کے ہاں میڈیا کو چونکانے کا جنون اس سے کہیں زیادہ بڑا تھا۔چنانچہ دن کے وقت تو خاموشی رہی، آدھی رات کے سناٹے میں، جب پی ایم او کو مکمل یقین ہو گیا کہ تمام صحافی اخبارات پریس میں بھیج کر اپنے اپنے گھروں کو جا چکے ہیں اور اب کوئی نئی خبر باہر لیک ہونے کا قطعی امکان نہیں رہا، تو اعلیٰ حکام اور افسران کی ایک ہنگامی میٹنگ طلب کی گئی۔
میٹنگ کا واحد ایجنڈا یہ تھا کہ اسکیم کا نام، اس کے مقاصد اور طریقہ کار راتوں رات بدل دیا جائے تاکہ انڈین ایکسپریس کی خبر صبح غلط ثابت ہو جائے! اس جنونی ضد میں وہ تمام سرکاری لیٹر ہیڈز اور تشہیری مواد جو اسکیم کے اصل نام کے ساتھ چھپ چکے تھے، کوڑے کے ڈھیر میں پھینک دیے گئے اور راتوں رات سرکاری چھاپہ خانے میں نئے لیٹر ہیڈز اور دستاویزات چھاپ کر تیار کیے گئے۔
یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ مودی کے نظام میں ریاست کی پالیسیاں عوامی ضرورت کے تحت نہیں، بلکہ صحافیوں کو زک پہنچانے اور سرخیاں کنٹرول کرنے کی ذاتی انا پر چلائی جاتی ہیں۔
ہندوستان کے پارلیامانی نظام اور صحافت کے درمیان زندہ رشتے کو ختم کرنے کی سب سے دردناک کہانی پرانی پارلیامنٹ کے تاریخی ’سینٹرل ہال‘ کا خاتمہ ہے۔ پرانی پارلیامنٹ کی گول اور تاریخی عمارت میں لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے عین درمیان میں واقع یہ ایک بہت بڑا اور شاندار ہال ہے۔ یہاں ہر سال بجٹ اجلاس کے پہلے دن دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوتا تھا۔
مگر سال کے باقی تمام ایام میں یہ ایک وسیع اور پرسکون لابی کے طور پر کام کرتا تھا، جہاں دونوں ایوانوں کے ارکانِ پارلیامنٹ ایوان کی گرما گرم بحثوں کے بعد آ کر چائے کی میزوں پر بیٹھتے اور کھل کر گپ شپ کرتے تھے اور ایک ورکنگ لنچ کا بھی یہاں انتظام ہوتا تھا۔
سینٹرل ہال کا سب سے اہم اور جمہوری رخ یہ تھا کہ ملک کے نامور اور سینئر ایڈیٹرز اور وہ صحافی جو مسلسل15 برسوں سے پارلیامنٹ کی رپورٹنگ کر رہے تھے، انہیں پارلیامنٹ کی جانب سے سینٹرل ہال کا باضابطہ داخلہ پاس دیا جاتا تھا۔اس ہال کا ایک انتہائی خوبصورت اور تقدس سے بھرپور غیر تحریری ضابطہ اخلاق رائج تھا کہ سینٹرل ہال کے اندر جو کچھ بھی زیرِ بحث آئے گا یا جو کچھ بھی آپ وہاں دیکھیں گے، اسے کسی بھی قیمت پر خبر کے طور رپورٹ نہیں کیا جائے گا۔
اس تاریخی اعتماد کی بدولت وزراء، اپوزیشن کے رہنما اور ارکانِ پارلیامنٹ وہاں صحافیوں کے ساتھ انتہائی پرسکون، دوستانہ اور غیر رسمی ماحول میں ملتے تھے۔ سینٹرل ہال کے اندر بیوروکریسی، سیکیورٹی افسران اور کمانڈوز کا داخلہ قطعی ممنوع تھا۔ اس ہال کے بنچوں پر بیٹھ کر ہم جیسے صحافی سونیا گاندھی، راہل گاندھی، ڈاکٹر منموہن سنگھ، چندر شیکھر، وی پی سنگھ، ملائم سنگھ یادو، لالو پرساد یادو اور ملک کے لاتعداد سینئر ترین سیاست دانوں سے آمنے سامنے بیٹھ کر کافی کی پیالیوں پر بے تکلف گفتگو کرتے تھے۔
ارون جیٹلی اور سبرامنیم سوامی جیسے رہنماؤں کی تو سینٹرل ہال میں اپنی باقاعدہ مجلسیں اور نشستیں لگی ہوتی تھیں جہاں سیاسی تجزیوں اور معلومات کا تبادلہ ہوتا تھا۔مخلوط حکومتوں کے زمانے میں بلوں کو پاس کروانے کی قواعد یہاں ہوتی تھی۔ یہ ایک طرح سےہندوستان کا لائیو سیاسی ٹیلی وژن ہوتا تھا۔
لیکن نریندر مودی نے 2014 میں اقتدار سنبھالتے ہی اس سینٹرل ہال کے جمہوری ماحول کو ایک خطرہ سمجھا۔ بی جے پی کے رہنماؤں کو احکامات جاری ہوئے کہ وہ سینٹرل ہال میں اپوزیشن اور صحافیوں کے ساتھ گھلنے ملنے سے گریز کریں۔ پھر رفتہ رفتہ نئے صحافیوں کے پاسز بند کیے گئے، کووِڈ کی آڑ لے کر تمام سینئر صحافیوں کے پاسز معطل کر دیے گئے۔وزیر اعظم یا کسی اور وزیر کو لوک سبھا سے راجیہ سبھا کی طرف جاتے ہوئے سینٹرل ہال سے ہی گذرنا ہوتا ہے۔
جب مودی اس طرف آتے تھے، تو بی جے پی کے جو اراکین پارلیامان و وزراء سینٹرل ہال میں موجود ہوتے تھے، تو وہ بھاگ کر یا کہیں ٹیبل کے نیچے چھپ جاتے تھے۔ آخر کار پارلیامنٹ کی نئی عمارت میں سینٹرل ہال کو بننے ہی نہیں دیا گیااور اس کے وجود کو مکمل طور پر دفن کر دیا گیا۔ اب پارلیامنٹ کے اندر صحافیوں کے داخلے کو جیل خانے کی طرز پر کنٹرول کیا جاتا ہے تاکہ اقتدار اور عوام کے نمائندوں کے درمیان کوئی بھی غیر رسمی مکالمہ جنم نہ لے سکے۔
مودی کے اس پورے ماڈل کی سفاکیت کو سمجھنے کے لیے سینئر صحافی اور دبئی کے معروف اخبار گلف نیوزکے سابق ایڈیٹر بوبی نقوی کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ ایک بین الاقوامی مثال ہے۔ اگست 2015 میں جب نریندر مودی نے متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا، تو بوبی نقوی نے خلیجی خطے کے اہم ترین اخبار کے ایڈیٹر کے طور پر وزیر اعظم کے خصوصی انٹرویو کی درخواست دی۔
طویل بیوروکریٹک مراحل کے بعد پی ایم او کی جانب سے اس شرط پر منظوری دی گئی کہ تمام تر سوالات پہلے سے تحریری طور پر جمع کروائے جائیں گے۔بوبی نقوی نے بعد ازاں اپنے تفصیلی تجزیے میں بیان کیا کہ کس طرح اس انٹرویو کے ذریعے صحافت کی روح کو کچلا گیا۔ کمرے میں پہنچنے پر انہیں معلوم ہوا کہ دو دیگر پبلیکیشنز کو بھی اسی کمرے میں بٹھایا گیا ہے، اور سب سے زیادہ توہین آمیز شرط یہ تھی کہ وہاں کسی بھی قسم کا ضمنی یا فالو اپ سوال پوچھنے کی قطعی اجازت نہیں ہوگی! پی ایم او نے سوالات کی ترتیب خود طے کر رکھی تھی، وزیر اعظم کے جوابات کاغذی پلندوں پر پہلے سے ٹائپ شدہ موجود تھے۔ صحافی کو صرف ایک کٹھ پتلی کی طرح وہی سوال زبانی ادا کرنا تھا جو اسکرپٹ میں درج تھا، تاکہ کیمرے کے سامنے ایک جعلی مکالمے کا تاثر قائم کیا جا سکے۔
مودی کے اس خوف کا ہی نتیجہ ہے کہ ہندوستان کی تاریخ میں وہ پہلے ایسے وزیر اعظم ہیں جنہوں نے اپنے دس سال سے زائد کے دورِ اقتدار میں ایک بھی کھلی، غیر جانبدارانہ اور آزاد پریس کانفرنس سے خطاب کرنے کا حوصلہ نہیں کیا۔ مئی2019ء میں جب انتخابات کے اختتام پر وہ بی جے پی ہیڈکوارٹر میں پریس کے سامنے بیٹھے بھی، تو جب ایک صحافی نے ان سے سوال پوچھا تو انہوں نے مسکرا کر مائیک بی جے پی صدر امت شا کی طرف سرکا دیا اور خود پورے وقت ایک بے جان بت کی طرح خاموش بیٹھے رہے۔
اس کے برعکس، انہوں نے صحافیوں کے بجائے بالی ووڈ اداکار اکشے کمار کو مدعو کر کے یہ واضح کیا کہ انہیں دراصل کیسا میڈیا پسند ہے؛ جہاں معاشی ناہمواری، بے روزگاری، اور گرتے ہوئے جمہوری اشاریوں کے بجائے قوم کو یہ بتایا جائے کہ ”وزیر اعظم آم چوس کر کھاتے ہیں یا کاٹ کر کھاتے ہیں!“
جب میں جولائی 2016کی اس رات کا تصور کرتا ہوں جب ارون جیٹلی کے عشائیے پر ایڈیٹرز کی آنکھوں میں دھول جھونکی گئی، جب میں اشوکا روڈ کے اس دور کو یاد کرتا ہوں جب مودی غلط سفری منصوبے دے کر نامہ نگاروں کو نیچا دکھانے پر تسکین محسوس کرتے تھے، جب میں خواتین کی اسکیم کی وہ رات یاد کرتا ہوں جب سرکاری لیٹر ہیڈز کوڑے دان میں پھینک دیے گئے تاکہ رپورٹر کی ساکھ ختم ہو جائے، جب میں نیینا ویاس اور کرن تھاپر کے سوالات پر ان کے واک آؤٹ کو دیکھتا ہوں، اور جب میں سینٹرل ہال اور پریس پول کے خاتمے کا جائزہ لیتا ہوں، تو مجھے یہ واضح نظر آتا ہے کہ یہ کوئی وقتی فیصلے نہیں تھے۔یہ2002ء کے اس اعتراف کا منظم، سفاکانہ اور ریاستی تسلسل ہے جہاں مودی نے کہا تھا کہ ”میری ناکامی یہ تھی کہ میں میڈیا کو مینج نہیں کر سکا۔“
پچھلی ایک دہائی میں مودی نے اس حسرت کو پریس کی ریڑھ کی ہڈی توڑ کر پورا کیا ہے۔ جو میڈیا جھکنے کے لیے تیار نہیں ہوا، اسے ای ڈی، سی بی آئی اور انکم ٹیکس کے ذریعے تباہ کیا گیا، اور بقیہ کارپوریٹ میڈیا کو ”گودی میڈیا“ کے اس لاؤڈ اسپیکر میں تبدیل کر دیا گیا جو اقتدار کے مفاد میں دن رات نفرت کا زہر اگلتا ہے۔
مودی نے میڈیا اور پرسیپشن کو مکمل طور پر مینج تو کر لیا، لیکن تاریخ کی عدالت میں یہ حقیقت ہمیشہ درج رہے گی کہ انہوں نے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے چوتھے ستون کو اپنے ذاتی خوف، پراسراریت اور انا کی بھینٹ چڑھا کر گونگا کر کے دیگر ملکوں کے لیڈروں کو بھی راہ دکھائی۔

