اسلام آباد میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی گولڈ میڈلسٹ طالبہ لائبہ سے امریکا میں داخلے کے نام پر فراڈ کرکے لی گئی رقم والد کو واپس مل گئی جبکہ والد نے کہا کہ میرے ساتھ جو حادثہ ہوا ہے اس سے بھول نہیں سکتا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر مملکت طلال چوہدری نے فراڈ کا شکار ہونے کے بعد خود کشی کرنے والی طالبہ لائبہ اعجاز کے گھر کا دورہ کیا اور والد سے ملاقات کی۔ چیف کمشنر اسلام آباد، آئی جی اسلام آباد اور دیگر متعلقہ افسران بھی اس موقع پر موجود تھے۔
محسن نقوی نے مرحومہ کے اہل خانہ سے تعزیت کی، فاتحہ خوانی اور دعائے مغفرت کی، لائبہ اعجاز کیس میں ہوئی پیش رفت سے اہل خانہ کو آگاہ کیا۔
محسن نقوی نے کہا کہ لائبہ اعجاز کیس میں پوری ٹیم نے دن رات محنت کی، آپ سے کیا گیا وعدہ پورا کرنا ہمارا فرض تھا۔
مرحومہ لائبہ اعجاز کے والد نے وزیراعظم پاکستان اور وزیر داخلہ محسن نقوی سے اظہار تشکر کیا اور کہا کہ ریاست ماں جیسی ہوتی ہے، یہ سنا تھا، آج ہمیں یقین ہوگیا۔
لائبہ کے والد رانا اعجاز نے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ وزیر داخلہ سمیت سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں، میرے ساتھ جو حادثہ ہوا اس کو بھول نہیں سکتا لیکن پاکستانی عوام میرے ساتھ ہیں اس بات پر سکون ملتا ہے، میری بیٹی بیرون ملک جانا چاہتی تھی اور ملک کی خدمت کرنا چاہتی تھی۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد پولیس سے ہمیشہ حوصلہ ملا، ہمیں بتایا گیا کہ ملزم کے خلاف مزید کیسز سامنے آئے ہیں، ملزم نے مانسہرہ میں بھی بچیوں سے پیسے لے رکھے تھے، میری جو رقم تھی وہ مجھے دے دی گئی ہے۔
خیال رہے کہ اسلام آباد پولیس نے لائبہ خودکشی کیس کے مرکزی ملزم نعمان کو ساتھی خاتون سمیت گرفتار کرلیا تھا جبکہ گزشتہ روز ملزم نعمان تفتیش کے لیے لے جاتے ہوئے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگیا۔

